نیویارک:(وائس آف رشیا) عمان نے ایران کی اس تجویز کو مسترد کر دیا ہے جس میں آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں سے دونوں ممالک کی جانب سے مشترکہ طور پر سروس فیس وصول کرنے کی بات کی گئی تھی۔
رپورٹ کے مطابق ایک سینئر علاقائی عہدیدار نے بتایا کہ مسقط نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ ممکنہ تنازع سے بچنے کے لیے اس تجویز سے فاصلہ اختیار کیا۔
عہدیدار کے مطابق عمان نے اس خیال کو بھی قبول نہیں کیا کہ بحری جہازوں سے رضاکارانہ بنیادوں پر فیس وصول کی جائے اور اس رقم کو آبنائے ہرمز کی سکیورٹی اور ماحولیاتی تحفظ پر خرچ کیا جائے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 17 اگست کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عمان کے کردار پر عدم اطمینان کا اظہار کیا تھا اور خبردار کیا تھا کہ اگر مسقط ایران اور امریکا کے درمیان تنازع کے حل کی راہ میں رکاوٹ بنا تو واشنگٹن سخت ردعمل دے سکتا ہے۔
امریکی انتظامیہ کو اس بات پر بھی اعتراض ہے کہ ایران کے ساتھ مذاکرات میں عمان نے مبینہ طور پر آبنائے ہرمز کے داخلی اور خارجی راستوں پر مشترکہ کنٹرول اور بحری جہازوں سے ٹرانزٹ فیس وصولی جیسے معاملات میں زیادہ رعایتیں دی تھیں۔
آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے اور عالمی توانائی کی ترسیل میں اس کی اسٹریٹجک اہمیت بہت زیادہ ہے۔









