یوکرین میں امن معاہدے کا امکان اب بھی موجود، صدر پوتن

ولادی ووستوک:(شاہد گھمن) روس کے صدر ولادیمیر پوتن نے کہا ہے کہ یوکرین تنازع کے پرامن حل کا امکان اب بھی موجود ہے، تاہم بنیادی معاہدہ روس اور یوکرین کو خود کرنا ہوگا جبکہ دیگر ممالک اس عمل میں معاونت کر سکتے ہیں۔

صدر پوتن نے ولادی ووستوک میں ایسٹرن اکنامک فورم کے مرکزی پلینری اجلاس میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سفارت کاری کے ذریعے یوکرین تنازع کا حل اب بھی ممکن ہے۔ انہوں نے کہا کہ روس ان تمام ممالک کا شکر گزار ہے جو اس مسئلے کے حل میں کردار ادا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

روسی صدر نے بتایا کہ روس اور یوکرین کے درمیان رابطے مکمل طور پر ختم نہیں ہوئے اور یہ رابطے بنیادی طور پر سکیورٹی اداروں کے ذریعے جاری ہیں، تاہم انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں یہ کہنا مشکل ہے کہ یہ رابطے کسی امن معاہدے تک پہنچ سکیں گے یا نہیں۔

صدر پوتن نے روسی تنصیبات پر یوکرینی حملوں کے حوالے سے کہا کہ موجودہ صورتحال میں فضائی دفاعی نظام کو مزید مضبوط کرنا ضروری ہے۔ انہوں نے بتایا کہ روسی کاروباری اداروں نے اپنی تنصیبات کے تحفظ پر سرمایہ کاری شروع کر دی ہے اور اس کے مثبت نتائج سامنے آ رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ روسی کمپنیوں کو اہم بنیادی ڈھانچے اور صنعتی تنصیبات کے تحفظ کی ذمہ داری دی گئی ہے، تاہم اس اقدام کا کسی ممکنہ قومی تحویل یا نیشنلائزیشن سے کوئی تعلق نہیں۔

صدر پوتن کے مطابق دو رات قبل یوکرینی فورسز نے روس کی تین آئل ریفائنریوں کو نشانہ بنانے کی کوشش کی، تاہم تمام حملے ناکام بنا دیے گئے۔ انہوں نے کہا کہ روسی جوابی کارروائیوں کا مقصد یوکرین کو روسی تنصیبات پر حملے کرنے سے پہلے سوچنے پر مجبور کرنا ہے۔

روسی صدر نے ملک میں نئی فوجی موبلائزیشن کی اطلاعات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت ایسا کوئی منظرنامہ موجود نہیں جس کے تحت موبلائزیشن کی ضرورت ہو۔ انہوں نے ان خبروں کو روس کے خلاف اطلاعاتی مہم قرار دیا۔

صدر پوتن نے شہری بحری جہازوں پر قبضے، ان پر حملوں اور شہری طیاروں کو نشانہ بنانے کی دھمکیوں کو ریاستی دہشت گردی قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ ایسے اقدامات دوطرفہ امن مذاکرات کے امکانات کو مزید مشکل بناتے ہیں۔

روس امریکا تعلقات پر گفتگو کرتے ہوئے صدر پوتن نے کہا کہ امریکی انتظامیہ کے ساتھ رابطے جاری ہیں اور ماسکو چاہتا ہے کہ یہ رابطے برقرار رہیں۔ ان کے مطابق سکیورٹی اداروں اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مقرر کردہ نمائندوں کے ذریعے بات چیت کے تمام چینلز کام کر رہے ہیں۔

صدر پوتن نے کہا کہ روس امریکا کے ساتھ مکمل تعلقات کی بحالی کا حامی ہے، تاہم یہ صرف ماسکو پر منحصر نہیں بلکہ امریکی فریق کے رویے پر بھی منحصر ہے۔ انہوں نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو مثبت اور تعمیری رابطے کے لیے تیار قرار دیا۔

روسی معیشت کے حوالے سے صدر پوتن نے بتایا کہ سالانہ افراط زر کی شرح 6.3 فیصد تک آ گئی ہے اور اس میں مزید کمی ہو رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اور مرکزی بینک کی موجودہ مالیاتی پالیسی کا مقصد مہنگائی کو قابو میں رکھتے ہوئے اقتصادی استحکام برقرار رکھنا ہے۔

صدر پوتن نے کہا کہ گزشتہ تین برسوں میں روس کی مجموعی قومی پیداوار کی شرح نمو یورپی اوسط سے نمایاں طور پر زیادہ رہی، جبکہ 2026 کی پہلی سہ ماہی میں حقیقی اجرتوں میں 6.3 فیصد اضافہ ہوا۔

روسی صدر نے شرح پیدائش کو بھی ملک کے اہم چیلنجز میں سے ایک قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکومت خاندانوں کی معاونت اور شرح پیدائش میں اضافے کے لیے اقدامات جاری رکھے گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں