بشکیک:(وائس آف رشیا) روس کے صدر ولادیمیر پوتن نے شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہی اجلاس کے بعد بشکیک میں روسی صحافیوں کے سوالات کے جوابات دیتے ہوئے یوکرین تنازع، میدان جنگ کی صورتحال، روس امریکا رابطوں، ڈرون حملوں اور شنگھائی تعاون تنظیم کے کردار سمیت متعدد اہم امور پر تفصیلی گفتگو کی۔ اس سے یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ یہ باقاعدہ میڈیا Q&A تھا، محض ایرانی صدر کے ساتھ ملاقات نہیں۔
صدر پوتن نے کہا کہ اگر کوئی روس کو “نگلنے” کی کوشش کرے گا تو اسے “دانتوں پر ضرب” لگ سکتی ہے۔ انہوں نے ملک میں نئی فوجی موبلائزیشن سے متعلق افواہوں کو مکمل طور پر بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ روس کے خلاف معلوماتی مہم کا حصہ ہیں۔
روسی صدر نے شنگھائی تعاون تنظیم کو دنیا کی طاقتور ترین علاقائی تنظیموں میں سے ایک قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ دنیا کے تقریباً نصف حصے کا احاطہ کرتی ہے، اس کے رکن ممالک کے پاس وسیع قدرتی وسائل اور غیر معمولی لاجسٹک صلاحیت موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ تنظیم کی توسیع بتدریج ہونی چاہیے تاکہ اسے غیر مؤثر اور بے سمت ڈھانچے میں تبدیل ہونے سے بچایا جا سکے۔ صدر پوتن کے مطابق ایس سی او میں فیصلے مشترکہ طور پر کیے جاتے ہیں اور کوئی ملک دوسرے پر اپنی مرضی مسلط نہیں کرتا۔
یوکرین جنگ کے حوالے سے صدر پوتن نے کہا کہ روسی افواج اپنی پیش قدمی کی رفتار بڑھا رہی ہیں اور انہیں یقین ہے کہ مخالف افواج کا دفاع بتدریج کمزور ہوتا جائے گا۔ انہوں نے تاہم جنگ کے خاتمے کی کوئی مدت بتانے سے گریز کرتے ہوئے کہا کہ جنگ ایک سخت اور غیر متوقع معاملہ ہے۔
صدر پوتن کے مطابق اگست کے دوران روسی افواج نے ڈونیسک میں 270 مربع کلومیٹر علاقہ اور 15 آبادیاں اپنے کنٹرول میں لیں جبکہ سویاتوگورسک بھی روسی کنٹرول میں آ گیا۔ انہوں نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ خارکوف کے علاقے میں تقریباً دو ہزار یوکرینی فوجیوں کے ایک گروپ کا محاصرہ مکمل کر لیا گیا ہے۔
روسی صدر نے کہا کہ یوکرینی فوج کی مدد کے لیے استعمال ہونے والی فوجی، صنعتی، بندرگاہی اور لاجسٹک تنصیبات پر روسی حملے جاری رہیں گے۔ انہوں نے بتایا کہ روسی مسلح افواج کو یوکرین کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر بڑے جوابی حملوں کی تیاری کی ہدایت بھی دی گئی ہے۔ صدر پوتن نے کہا کہ یوکرین میں موجود کوئی بھی فوجی تنصیب، خواہ اس کا تعلق کسی بھی ملک سے ہو، روسی فوج کے لیے جائز فوجی ہدف ہے۔
شہری ہوابازی کو نشانہ بنانے سے متعلق یوکرینی دھمکیوں پر صدر پوتن نے سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ اگر ایسا بیان واقعی دیا گیا ہے تو یہ “ریاستی دہشت گردی کی درخواست” کے مترادف ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر شہری طیاروں کے خلاف کوئی سانحہ پیش آیا تو روس جواب دینے کا راستہ تلاش کرے گا اور اس حوالے سے کسی کو کوئی شبہ نہیں ہونا چاہیے۔
یوکرین کے ساتھ مذاکرات پر صدر پوتن نے کہا کہ مذاکراتی عمل اس وقت کسی حد تک منجمد ہے، تاہم اگر کوئی فریق اسے مثبت سمت دے سکتا ہے تو روس اس کی مخالفت نہیں کرے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ ماسکو جنگ کو منجمد کرنا نہیں بلکہ اسے ختم کرکے یوکرین اور یورپ میں پائیدار اور مکمل امن حاصل کرنا چاہتا ہے۔
صدر پوتن نے ڈرونز کو موجودہ جنگ کا سب سے بڑا چیلنج قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ خطرہ زیر آب، سمندر، زمین اور فضا ہر جگہ موجود ہے، تاہم روس اس سے نمٹ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یکم ستمبر کی رات بڑی تعداد میں یوکرینی ڈرونز نے ماسکو اور سینٹ پیٹرزبرگ کی فضائی حدود میں داخل ہونے اور آئل ریفائنریوں سمیت شہری تنصیبات کو نشانہ بنانے کی کوشش کی۔
روس اور امریکا کے روابط پر صدر پوتن نے کہا کہ دونوں ممالک کے خفیہ اداروں کے درمیان براہ راست رابطے برقرار ہیں۔ انہوں نے امریکی نمائندوں اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر کو روس میں خوش آمدید قرار دیتے ہوئے کہا کہ ماسکو ان کے ساتھ کام کرنے میں دلچسپی رکھتا ہے کیونکہ وہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے قریبی اور قابل اعتماد افراد ہیں۔
یہ مکمل متن ایک اور بات بھی واضح کرتا ہے: ایران کو “ضروری مدد” فراہم کرنے والا صدر پوتن کا بیان اس پریس Q&A کا حصہ نہیں ہے۔ اس میڈیا گفتگو کے مرتب کردہ اہم نکات میں ایران کا وہ بیان موجود نہیں، کیونکہ وہ صدر مسعود پزشکیان کے ساتھ الگ دوطرفہ ملاقات میں دیا گیا تھا۔ اس لیے پاکستانی میڈیا کی جس خبر پر ہم بات کر رہے تھے، اس میں دو مختلف واقعات کو ایک ہی “صحافیوں سے گفتگو” میں جوڑ دیا گیا تھا۔









