ولادیووستوک: (شاہد گھمن) روس کے مشرق بعید کے شہر ولادی ووستوک میں 11واں ایسٹرن اکنامک فورم کل یکم ستمبر سے شروع ہو رہا ہے، جس میں دنیا کے 80 ممالک کے نمائندوں نے شرکت کی تصدیق کر دی ہے۔ چار روزہ فورم 4 ستمبر تک روسکی جزیرے پر واقع فار ایسٹرن فیڈرل یونیورسٹی کے کیمپس میں جاری رہے گا، جہاں حکومتی رہنما، کاروباری شخصیات، سرمایہ کار، ماہرین اور بین الاقوامی وفود روس کے مشرق بعید کی ترقی، سرمایہ کاری اور ایشیا پیسیفک خطے کے ساتھ اقتصادی تعاون کے مستقبل پر تبادلہ خیال کریں گے۔
روسکونگریس فاؤنڈیشن کے مطابق رواں سال فورم کا مرکزی موضوع “دورِ مشرق، عوام کی فلاح کے لیے ترقی” رکھا گیا ہے۔ فورم روسی حکومت کی معاونت سے منعقد کیا جا رہا ہے اور اس میں اقتصادی ترقی، سرمایہ کاری، جدید انفراسٹرکچر، نئی ٹیکنالوجیز اور شہریوں کے معیارِ زندگی کو بہتر بنانے کے لیے عملی منصوبوں اور بین الاقوامی تعاون پر توجہ مرکوز کی جائے گی۔
روسی صدارتی معاون یوری اوشاکوف کے مطابق فورم میں پانچ ہزار سے زائد شرکاء کی آمد متوقع ہے، جبکہ منتظمین کی 31 اگست کی تازہ ترین معلومات کے مطابق 80 ممالک کے نمائندے اپنی شرکت کی تصدیق کر چکے ہیں۔ چین، بھارت، منگولیا، جاپان اور جنوبی کوریا سے بھی بڑے وفود کی شرکت متوقع ہے۔
روسی صدر کے مشیر اور ایسٹرن اکنامک فورم کی آرگنائزنگ کمیٹی کے ایگزیکٹو سیکریٹری انتون کوبیاکوف نے کہا ہے کہ مختلف اقتصادی نظام، مفادات اور ترقیاتی ماڈلز رکھنے والے ممالک کے نمائندوں کی ولادی ووستوک آمد کھلے اور پیشہ ورانہ بین الاقوامی مکالمے کے لیے اہم موقع فراہم کرے گی۔ ان کے مطابق تجارت، سرمایہ کاری، ٹیکنالوجی اور لاجسٹکس فورم کے بین الاقوامی ایجنڈے کے اہم موضوعات ہوں گے۔
فورم کے کاروباری پروگرام میں تقریباً 70 اجلاس اور مباحثے شامل ہیں، جنہیں پانچ بڑے موضوعاتی شعبوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ ان میں روس کے مشرق بعید میں نجی سرمایہ کاری کا فروغ، جدید ٹیکنالوجی، نقل و حمل اور لاجسٹکس، بین الاقوامی اقتصادی تعاون اور خطے میں رہائش و روزگار کے بہتر مواقع پیدا کرنا شامل ہیں۔ چین، بھارت، متحدہ عرب امارات، منگولیا، ویتنام اور آسیان ممالک کے نمائندوں کے ساتھ خصوصی کاروباری مذاکرات بھی پروگرام کا حصہ ہوں گے۔
روسی صدر ولادیمیر پوتن نے فورم کے شرکاء، منتظمین اور مہمانوں کے نام اپنے پیغام میں کہا ہے کہ گزشتہ برسوں کے دوران ایسٹرن اکنامک فورم کاروباری حلقوں، حکومتی اداروں اور ماہرین کے درمیان کھلے اور تعمیری مکالمے کے ایک اہم پلیٹ فارم کے طور پر سامنے آیا ہے۔
صدر پوتن کے مطابق فورم روس کے مشرق بعید اور پورے ملک کی ترقی کی اسٹریٹجک سمتوں پر غور کے ساتھ ایشیا پیسیفک ممالک کے ساتھ لاجسٹکس، صنعت، توانائی اور دیگر اقتصادی شعبوں میں باہمی فائدے پر مبنی تعلقات کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔
روسی صدر نے رواں سال کے مرکزی موضوع کا ذکر کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ فورم کے شرکاء ایسے مؤثر فیصلے اور تجاویز پیش کریں گے جن سے کاروباری شعبے کے لیے نئے مواقع پیدا ہوں، شہریوں کے معیارِ زندگی میں بہتری آئے اور مشرق بعید کے شہروں اور دیہی علاقوں کو مزید جدید اور آرام دہ بنایا جا سکے۔ صدر پوتن نے توقع ظاہر کی کہ فورم میں سامنے آنے والے خیالات عملی اور امید افزا منصوبوں کی شکل اختیار کریں گے۔
صدر ولادیمیر پوتن شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہی اجلاس میں شرکت کے بعد ولادی ووستوک پہنچیں گے۔ فورم کا مرکزی پلینری اجلاس 3 ستمبر کو ہوگا، جس سے صدر پوتن اہم خطاب کریں گے۔ کریملن کے مطابق روسی صدر کا خطاب فورم کی مرکزی سرگرمی ہوگا۔
مرکزی اجلاس میں انڈونیشیا کے صدر پرابوو سوبیانتو، منگولیا کے وزیراعظم نیام اوسورین اوچرل، میانمار کے نائب صدر نیو سا اور چین کے نائب وزیراعظم ڈنگ شوئی شیانگ بھی شرکت اور خطاب کریں گے۔
صدر پوتن کی فورم کے موقع پر متعدد بین الاقوامی ملاقاتیں بھی طے ہیں۔ 2 ستمبر کو وہ چین کے نائب وزیراعظم ڈنگ شوئی شیانگ اور منگولیا کے وزیراعظم سے ملاقات کریں گے، جبکہ 3 ستمبر کو انڈونیشیا کے صدر پرابوو سوبیانتو کے ساتھ بزنس بریک فاسٹ کی شکل میں مذاکرات ہوں گے۔
فورم کے آغاز کے ساتھ یکم ستمبر کو “اسٹریٹ آف دی فار ایسٹ” نمائش بھی باضابطہ طور پر کھولی جائے گی، جس میں روس کے مشرق بعید کے مختلف علاقوں کی اقتصادی، صنعتی، ثقافتی اور سیاحتی صلاحیتوں کو پیش کیا جائے گا۔
ایسٹرن اکنامک فورم میں روس کے مشرق بعید کو ایشیا پیسیفک خطے کے ساتھ جوڑنے والے نئے تجارتی راستوں، توانائی، معدنی وسائل، جدید صنعت، مصنوعی ذہانت، ٹرانسپورٹ، بندرگاہوں اور لاجسٹکس کے منصوبوں کے ساتھ انسانی وسائل اور سماجی ترقی پر بھی توجہ دی جائے گی۔
روسی حکام کے مطابق مشرق بعید میں تین ہزار سے زائد سرمایہ کاری منصوبوں پر کام جاری ہے، جن کی مجموعی مالیت تقریباً 13.5 ٹریلین روبل ہے۔
گزشتہ سال 2025 کے ایسٹرن اکنامک فورم میں تقریباً آٹھ ہزار شرکاء نے 75 ممالک اور علاقوں کی نمائندگی کی تھی، جبکہ فورم کے دوران 358 معاہدے طے پائے تھے۔
رواں سال شریک کمپنیوں کی حتمی مجموعی تعداد تاحال الگ سے جاری نہیں کی گئی، تاہم پانچ ہزار سے زائد شرکاء اور 80 ممالک کے نمائندوں کی شرکت کی تصدیق ہو چکی ہے۔ منتظمین اسے ایسٹرن اکنامک فورم کے بڑھتے ہوئے بین الاقوامی دائرہ کار اور روس کے مشرق بعید میں کاروباری و سرمایہ کاری تعاون میں عالمی دلچسپی کا مظہر قرار دے رہے ہیں۔









