یوکرین میں فوجی اہداف پر روسی حملوں اور امریکا کے ساتھ رابطوں پر کریملن کا تبصرہ

ماسکو:(وائس آف رشیا) کریملن کے ترجمان دیمتری پیسکوف نے جمعہ کو بریفنگ کے دوران یوکرین میں روسی فوجی کارروائیوں، امریکا کے ساتھ ممکنہ رابطوں اور روسی صدر ولادیمیر پوتن کے آئندہ شیڈول سے متعلق اہم بیانات دیے۔

دیمتری پیسکوف نے کہا کہ اس وقت روسی صدر ولادیمیر پوتن اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان ٹیلی فونک گفتگو کا کوئی منصوبہ نہیں ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ صدر پوتن کی سی آئی اے کے ڈائریکٹر سے کوئی ملاقات نہیں ہوئی۔ پیسکوف کے مطابق رابطے انٹیلی جنس اداروں کی سطح پر ہوئے اور روسی صدر کا ان میں براہ راست کوئی رابطہ نہیں تھا۔

یوکرین تنازع کے پرامن حل سے متعلق پیسکوف نے کہا کہ امن مذاکرات کا معاملہ فی الحال تعطل کا شکار ہے اور اس حوالے سے کوئی نئی تجویز سامنے نہیں آئی۔

ان کے مطابق یوکرینی فریق روس کے مطالبات سے اچھی طرح واقف ہے، تاہم وہ ان مطالبات پر پرامن طریقے سے بات چیت نہیں کرنا چاہتا۔ پیسکوف نے کہا کہ اسی لیے روس محاذ جنگ پر اپنے لیے سازگار پیش رفت کو برقرار رکھے ہوئے ہے اور خصوصی فوجی آپریشن جاری ہے۔

کریملن کے ترجمان نے کہا کہ میدان جنگ میں روسی افواج کی پیش قدمی واضح ہے اور ماہرین اچھی طرح سمجھتے ہیں کہ موجودہ رفتار کا کیا مطلب ہے اور اس کے کیف حکومت کے لیے کیا نتائج ہوسکتے ہیں۔

دیمتری پیسکوف نے مغربی میڈیا میں تنازع میں مزید شدت سے متعلق رپورٹس کو معمول کی خوف پھیلانے والی خبریں قرار دیا۔

انہوں نے کہا کہ روس کیف حکومت کے فوجی اور فوج سے منسلک بنیادی ڈھانچے کو منظم اور ہدفی انداز میں تباہ کر رہا ہے۔ پیسکوف کے مطابق روسی فوجی جانتے ہیں کہ وہ کیا کر رہے ہیں اور کن ذرائع سے کارروائی کرنی ہے۔

صدر پوتن کے شیڈول سے متعلق کریملن کے ترجمان نے بتایا کہ روسی صدر ہفتے کی دوپہر بیلاروس کے صدر الیگزینڈر لوکاشینکو سے بات کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ صدر پوتن ایسٹرن اکنامک فورم کی تیاری بھی کر رہے ہیں اور جمعہ کو ورکنگ دورے پر نزنی نووگورود جائیں گے۔

دیمتری پیسکوف کے مطابق صدر پوتن شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہی اجلاس میں شرکت کی تیاری بھی کر رہے ہیں۔ بشکیک کے دورے کے پروگرام میں ایس سی او کی کثیرالجہتی سرگرمیوں کے ساتھ متعدد اہم دوطرفہ ملاقاتیں بھی شامل ہوں گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں