ماسکو:(شاہد گھمن) روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے کہا ہے کہ نیٹو ممالک اپنی اس کوشش کو چھپا نہیں رہے کہ آرکٹک کو روس اور اس کے ہم خیال شراکت داروں کی ترقی کو روکنے کے لیے ایک نئے محاذ میں تبدیل کیا جائے۔
آرکٹک میں بین الاقوامی تعاون، چیلنجز اور مواقع کے عنوان سے اپنے مضمون میں سرگئی لاوروف نے کہا کہ روس اپنے مخالفین کی کسی بھی غیر دوستانہ یا دشمنانہ کارروائی کا مناسب جواب دے گا، جس میں غیر متناسب اقدامات بھی شامل ہو سکتے ہیں۔
روسی وزیر خارجہ کے مطابق نیٹو ممالک روس کی شمالی سرحدوں کے قریب بڑے پیمانے پر فوجی سرگرمیاں بڑھا رہے ہیں، غیر علاقائی ممالک کی شرکت سے فوجی مشقیں کر رہے ہیں اور اپنے کمانڈ اینڈ کنٹرول نظام کے نئے عناصر متعارف کرا رہے ہیں۔
لاوروف نے کہا کہ شمالی علاقوں میں اس نوعیت کی فوجی سرگرمیاں روس کی سلامتی کے لیے براہ راست خطرہ ہیں اور ایسے واقعات کے امکانات بھی بڑھاتی ہیں جو مسلح تصادم اور سنگین نتائج کا باعث بن سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ روس دنیا کے تمام خطوں میں تعمیری مذاکرات کا حامی ہے، تاہم ضرورت پڑنے پر اپنے قومی مفادات کا دفاع تمام دستیاب ذرائع سے کرے گا۔
سرگئی لاوروف نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی اور قطبی برف میں کمی کے نتیجے میں آرکٹک نقل و حمل اور قدرتی وسائل کے استعمال کے لیے مزید قابل رسائی ہوتا جا رہا ہے، جبکہ عالمی سپلائی چین میں بار بار پیدا ہونے والی رکاوٹوں کے باعث اس خطے کی تجارتی اہمیت بھی بڑھ رہی ہے۔
روسی وزیر خارجہ کے مطابق صدر ولادیمیر پوتن بارہا واضح کر چکے ہیں کہ روس آرکٹک میں بڑے پیمانے پر کام کر رہا ہے اور برابری اور باہمی فائدے کی بنیاد پر تعاون کے خواہش مند تمام شراکت داروں کے لیے کھلا ہے۔
انہوں نے کہا کہ روس آرکٹک کے حوالے سے چین اور بھارت کے ساتھ قریبی تعاون کر رہا ہے، جبکہ برازیل، انڈونیشیا، ایران اور دیگر برکس ممالک کے ساتھ بھی تعاون کے امکانات موجود ہیں۔
لاوروف کے مطابق یکم ستمبر سے ولادی ووستوک میں شروع ہونے والے 11ویں ایسٹرن اکنامک فورم کے خصوصی اجلاسوں میں بھی آرکٹک سے متعلق امور زیر بحث آئیں گے، جن میں متعدد غیر ملکی وفود شرکت کریں گے۔
آرکٹک کونسل کے حوالے سے روسی وزیر خارجہ نے کہا کہ اگر دیگر رکن ممالک نیک نیتی سے کام کریں اور تمام فریقوں کے جائز مفادات کو مدنظر رکھیں تو روس کونسل کے مکمل کام کی بحالی کے لیے تیار ہے۔
تاہم انہوں نے کہا کہ اگر نیٹو ممالک روس کے بغیر آرکٹک کے معاملات پر بات چیت کی کوشش کرتے ہیں تو ماسکو کے پاس اپنے منصوبے آگے بڑھانے کے لیے ضروری علاقہ، لاجسٹکس، ٹیکنالوجی اور قابل اعتماد شراکت دار موجود ہیں۔
سرگئی لاوروف نے کہا کہ مارچ 2022 سے مغربی رکن ممالک کے اقدامات کے باعث آرکٹک کونسل کا کام بڑی حد تک منجمد ہے اور تنظیم اس وقت شدید بحران کا شکار ہے۔









