
شاہد گھمن، مکتوب ماسکو
کرغزستان کے دارالحکومت بشکیک میں ہونے والا شنگھائی تعاون تنظیم کا سربراہی اجلاس محض ایک اور علاقائی کانفرنس نہیں تھا۔ تنظیم کے قیام کے 25 برس مکمل ہونے پر ہونے والی یہ نشست ایک ایسے وقت میں منعقد ہوئی جب عالمی سیاست تیزی سے بدل رہی ہے، مشرق وسطیٰ ایک بڑی جنگ سے گزر چکا ہے، ایران کا معاملہ عالمی سیاست کے مرکز میں ہے اور ایشیا کے بڑے ممالک اپنے لیے زیادہ آزاد سیاسی اور اقتصادی راستے تلاش کر رہے ہیں۔ ایسے ماحول میں بشکیک کا منظرنامہ یہ بتانے کے لیے کافی تھا کہ شنگھائی تعاون تنظیم اب صرف وسطی ایشیا تک محدود کوئی علاقائی پلیٹ فارم نہیں رہی۔
اس اجلاس میں سب سے نمایاں سفارتی سرگرمی روس کے صدر ولادیمیر پوتن کی رہی۔ ان کا مرکزی پیغام بھی واضح تھا۔ صدر پوتن نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ 2001 میں چھ ممالک سے شروع ہونے والی شنگھائی تعاون تنظیم آج ابھرتی ہوئی کثیر قطبی دنیا کے آزاد اور بااثر مراکز میں شامل ہو چکی ہے۔ ان کے مطابق ایس سی او ممالک میں دنیا کی تقریباً نصف آبادی رہتی ہے اور یہ ممالک عالمی جی ڈی پی کے ایک تہائی سے زیادہ کی نمائندگی کرتے ہیں۔
صدر پوتن کے خطاب کا دوسرا اہم پہلو معیشت تھا۔ انہوں نے بتایا کہ 2025 میں روس اور ایس سی او ممالک کے درمیان تجارت 400 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئی، جبکہ روس کے شنگھائی تعاون تنظیم کے شراکت داروں کے ساتھ لین دین میں قومی کرنسیوں کا حصہ 98 فیصد سے زیادہ ہو چکا ہے۔ انہوں نے مجوزہ ایس سی او ڈویلپمنٹ بینک، توانائی، مشترکہ منصوبوں، تعلیم، سائنس اور انسانی روابط کو بھی مستقبل کے ایجنڈے کا اہم حصہ قرار دیا۔
یہ نکات دراصل روس کی اس وسیع تر سفارتی سوچ کی عکاسی کرتے ہیں جس کے تحت ماسکو ایک ایسے عالمی نظام کی بات کرتا ہے جہاں تجارت، مالیات اور بین الاقوامی تعلقات کا انحصار صرف چند روایتی مراکز پر نہ ہو۔ اسی لیے صدر پوتن نے ایس سی او پلس اجلاس میں اقوام متحدہ کے مرکزی کردار، ممالک کی خودمختاری، مساوات اور باہمی احترام پر بھی زور دیا۔
بشکیک اجلاس کا مشترکہ اعلامیہ بھی اسی وسیع تصویر کو ظاہر کرتا ہے۔ سربراہان نے متعدد اہم دستاویزات کی منظوری دی جن میں تنظیم کے مستقبل، سلامتی کے نئے ادارہ جاتی ڈھانچے اور مختلف شعبوں میں تعاون سے متعلق فیصلے شامل تھے۔ دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خلاف تعاون، تجارت، توانائی، ٹرانسپورٹ، مصنوعی ذہانت، افغانستان اور مشرق وسطیٰ جیسے معاملات ایجنڈے میں نمایاں رہے۔
ایران کے حوالے سے رکن ممالک نے اس کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی حمایت کرتے ہوئے معاملات کے سیاسی اور سفارتی حل پر زور دیا۔ افغانستان کے لیے ایک پرامن، آزاد اور دہشت گردی و منشیات سے پاک ریاست کا تصور دہرایا گیا۔ ایس سی او کا بنیادی پیغام یہی نظر آیا کہ خطے کے مسائل کا حل تصادم کے بجائے مذاکرات، تعاون اور علاقائی شراکت داری سے تلاش کیا جائے۔
صدر پوتن کے دورۂ بشکیک کو صرف ان کے خطاب سے نہیں سمجھا جا سکتا۔ اصل سفارتی سرگرمی اجلاس کے کمروں سے باہر ہونے والی ملاقاتوں میں دکھائی دی۔
چینی صدر شی جن پنگ کے ساتھ ان کی ملاقات خصوصی اہمیت رکھتی تھی۔ دونوں رہنماؤں نے روس اور چین کے اسٹریٹجک تعلقات اور مختلف شعبوں میں تعاون کو مزید آگے بڑھانے پر گفتگو کی۔ روس اور چین اب صرف دوطرفہ تجارت تک محدود نہیں رہے۔ ایس سی او، برکس، توانائی، عالمی مالیاتی نظام اور کثیر قطبی دنیا جیسے معاملات میں دونوں ممالک کے درمیان قریبی رابطہ موجود ہے۔
صدر پوتن نے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے ساتھ بھی الگ باضابطہ ملاقات کی۔ روس اور بھارت کے تعلقات کئی دہائیوں پر محیط ہیں اور ماسکو انہیں اپنی ایشیائی سفارت کاری کا ایک اہم حصہ سمجھتا ہے۔ دونوں رہنماؤں نے سیاست، معیشت، توانائی اور دیگر دوطرفہ معاملات پر تبادلہ خیال کیا۔
لیکن پاکستان کے نقطۂ نظر سے بشکیک کا ایک انتہائی اہم لمحہ وزیراعظم شہباز شریف کی تقریر تھی۔
وزیراعظم نے دہشت گردی، افغانستان، علاقائی رابطوں، توانائی، اقتصادی تعاون اور بین الاقوامی قانون کے تحت تنازعات کے پرامن حل کے ساتھ ایک ایسے مسئلے کو بھی عالمی فورم پر اٹھایا جو پاکستان کے لیے محض خارجہ پالیسی کا معاملہ نہیں بلکہ کروڑوں انسانوں کی زندگی اور آنے والی نسلوں کے مستقبل سے جڑا ہوا ہے، اور وہ ہے پانی۔
شہباز شریف نے واضح الفاظ میں کہا کہ پانی خطے کی لائف لائن ہے۔ اسے سیاسی دباؤ کے آلے یا ہتھیار کے طور پر استعمال نہیں کیا جانا چاہیے اور مشترکہ دریاؤں سے متعلق معاہدوں کی مکمل پاسداری ہونی چاہیے۔
اس بیان کی سفارتی اہمیت اس لیے بھی زیادہ تھی کہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی اسی اجلاس میں موجود تھے۔
شہباز شریف نے جذباتی یا تصادم آمیز زبان اختیار کرنے کے بجائے پاکستان کے ایک بنیادی قومی مسئلے کو بین الاقوامی معاہدوں، علاقائی استحکام اور کروڑوں انسانوں کے مستقبل کے تناظر میں دنیا کے سامنے رکھا۔ میرے نزدیک مؤثر سفارت کاری بھی یہی ہے کہ قومی مفاد کو بڑے بین الاقوامی فورم پر دلیل، قانون اور واضح مؤقف کے ساتھ پیش کیا جائے۔
بشکیک اجلاس کا ایک اور قابل ذکر پہلو پاکستان اور بھارت کے وزرائے اعظم کے درمیان مکمل فاصلہ تھا۔ دونوں رہنما ایک ہی سربراہی اجلاس میں موجود رہے، لیکن ان کے درمیان کوئی باضابطہ ملاقات، مصافحہ یا گفتگو سامنے نہیں آئی۔ اجلاس کی دستیاب کارروائی اور فوٹیج میں بھی دونوں کے درمیان کوئی نمایاں براہ راست رابطہ دکھائی نہیں دیا۔ حتیٰ کہ مختلف اجتماعی مواقع پر بھی دونوں رہنما ایک دوسرے سے فاصلے پر ہی نظر آئے۔
اس پس منظر میں بھارتی وزیراعظم کی موجودگی میں شہباز شریف کی جانب سے پانی کا معاملہ اٹھانا مزید اہم ہو جاتا ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے پاکستان کی آئندہ ایس سی او چیئرمین شپ کا خاکہ بھی پیش کیا۔ پاکستان نے “تصور سے عمل تک: رابطہ، جدت اور مشترکہ خوشحالی” کا موضوع پیش کرتے ہوئے مصنوعی ذہانت، توانائی، غربت میں کمی، صحت، قدرتی آفات اور علاقائی رابطوں کو اپنی ترجیحات میں شامل کیا ہے۔ وزیراعظم نے شنگھائی تعاون تنظیم کے رہنماؤں کو 2027 میں اسلام آباد میں ہونے والے اگلے ایس سی او پلس اجلاس میں شرکت کی دعوت بھی دی۔
یہ پاکستان کے لیے محض ایک سفارتی اعزاز نہیں بلکہ ایک اہم موقع ہے۔ اب پاکستان کے پاس ایک سال ہے کہ وہ تنظیم کے اندر تجارت، توانائی، ٹیکنالوجی، انسداد دہشت گردی اور علاقائی رابطوں کے ایسے منصوبوں کو آگے بڑھائے جن کے نتائج صرف اعلامیوں تک محدود نہ رہیں۔
اگر بشکیک کی مجموعی سفارتی تصویر دیکھی جائے تو صدر ولادیمیر پوتن سب سے زیادہ متحرک رہنماؤں میں نمایاں نظر آئے۔ چین کے صدر شی جن پنگ اور بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے علاوہ انہوں نے ایران، ترکیہ، قازقستان، ازبکستان، تاجکستان، منگولیا، آرمینیا اور میزبان کرغزستان کی قیادت کے ساتھ الگ الگ ملاقاتیں کیں۔
یہ سرگرمی روسی خارجہ پالیسی کی ایک اہم خصوصیت سامنے لاتی ہے۔
ماسکو ایک ہی وقت میں چین کے ساتھ اسٹریٹجک شراکت داری، بھارت کے ساتھ اپنے دیرینہ تعلقات، ایران کے ساتھ بڑھتے ہوئے تعاون، ترکیہ کے ساتھ عملی روابط اور وسطی ایشیا کے ممالک کے ساتھ تاریخی رشتوں کو آگے لے کر چل رہا ہے۔ مختلف ممالک کے آپس میں اختلافات ہونے کے باوجود روس اپنے تعلقات کو الگ الگ قومی اور دوطرفہ مفادات کی بنیاد پر آگے بڑھاتا دکھائی دیتا ہے۔
یہی کثیر سمتی سفارت کاری آج روسی خارجہ پالیسی کی ایک نمایاں خصوصیت ہے۔
اور یہیں سے پاکستان اور روس کے تعلقات سے متعلق ایک اہم سوال پیدا ہوتا ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف کا ماسکو کا سرکاری دورہ رواں سال مارچ میں طے تھا، جو ایران اور خطے کی غیر معمولی صورتحال کے باعث ملتوی ہوا۔ وزیراعظم آفس نے اس وقت واضح کیا تھا کہ دورے کی نئی تاریخ دونوں ممالک باہمی مشاورت سے طے کریں گے۔
بعد ازاں ماسکو میں پاکستان کے سفیر فیصل نیاز ترمذی نے بتایا کہ دونوں فریق نئی تاریخوں پر کام کر رہے ہیں اور دورہ سال کے آخری حصے، غالباً خزاں میں متوقع ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ اس دورے میں آٹھ سے دس معاہدوں اور 2030 تک اقتصادی روڈمیپ پر دستخط متوقع ہیں۔
اہم بات یہ ہے کہ سفیر پاکستان نے اگست میں یہ توقع بھی ظاہر کی تھی کہ وزیراعظم شہباز شریف اور صدر ولادیمیر پوتن بشکیک میں مل سکتے ہیں۔
تاہم بشکیک میں دونوں رہنماؤں کے درمیان مکمل باضابطہ دوطرفہ ملاقات نہیں ہو سکی۔
گروپ فوٹو کے بعد وزیراعظم شہباز شریف اور صدر پوتن کے درمیان چند لمحوں کی مختصر گفتگو ضرور ہوئی، لیکن اسے اس نوعیت کی باضابطہ پوتن شہباز ملاقات قرار نہیں دیا جا سکتا جس کی سربراہی اجلاس سے قبل توقع کی جا رہی تھی۔
اس کی کسی خاص سیاسی وجہ کا کوئی سرکاری اشارہ سامنے نہیں آیا، اس لیے اس بارے میں قیاس آرائی مناسب نہیں ہوگی۔ بڑے سربراہی اجلاسوں میں مصروف شیڈول، وقت کی کمی اور متعدد دوطرفہ مصروفیات معمول کا حصہ ہوتی ہیں۔
البتہ پاکستان اور روس کے درمیان زیر غور 2030 اقتصادی روڈمیپ، تجارت، توانائی اور وزیراعظم کے ملتوی شدہ دورۂ ماسکو کے تناظر میں ایک مکمل باضابطہ ملاقات دونوں ممالک کے بڑھتے ہوئے تعلقات کو مزید آگے لے جانے کا ایک اچھا موقع ثابت ہو سکتی تھی۔
اب زیادہ اہم بات یہ ہے کہ وزیراعظم کے ماسکو کے سرکاری دورے کی نئی تاریخ طے ہو۔
اگر اس دورے کے دوران پہلے سے زیر غور آٹھ سے دس معاہدے اور 2030 تک اقتصادی تعاون کا روڈمیپ عملی شکل اختیار کرتے ہیں تو یہ پاکستان اور روس کے تعلقات میں ایک اہم پیش رفت ہوگی۔ دونوں ممالک کے تعلقات کو صرف سیاسی بیانات تک محدود رکھنے کے بجائے تجارت، توانائی، صنعت، زراعت، ٹرانسپورٹ، تعلیم اور عوامی روابط میں منتقل ہونا چاہیے۔
یہاں ایک اور عملی مسئلہ بھی توجہ کا مستحق ہے۔
دونوں ممالک کے بڑھتے ہوئے تعلقات میں ایک عملی مسئلہ ویزوں کا بھی ہے، جسے حل کرنے کی ضرورت ہے۔ پاکستانی شہریوں کے لیے روسی ویزوں پر باضابطہ طور پر کسی عمومی پابندی کا اعلان سامنے نہیں آیا، لیکن عملی طور پر گزشتہ کئی ماہ سے خصوصاً بزنس اور نجی بنیادوں پر آنے والے طلبہ کے لیے روسی دعوت ناموں کے اجرا میں شدید مشکلات دیکھی جا رہی ہیں۔ طلبہ میں سرکاری اسکالرشپ یا کوٹہ کے تحت آنے والوں کی صورت حال نسبتاً مختلف ہے، جبکہ براہ راست جامعات میں داخلہ لینے والے پاکستانی طلبہ کو دعوت نامے حاصل کرنے میں مشکلات کا سامنا ہے۔ پاکستان اور روس اگر تجارت، تعلیم اور عوامی روابط کو واقعی وسعت دینا چاہتے ہیں تو اس انتظامی رکاوٹ کا کوئی واضح اور قابل عمل حل تلاش کرنا بھی ضروری ہوگا۔
اس معاملے کو پاکستان روس تعلقات میں کسی سیاسی رکاوٹ کے طور پر دیکھنے کے بجائے ایک ایسے انتظامی مسئلے کے طور پر دیکھا جانا چاہیے جسے دونوں حکومتیں باہمی رابطے سے حل کر سکتی ہیں۔ اگر ایک طرف دوطرفہ تجارت بڑھانے کی بات ہو اور دوسری طرف پاکستانی کاروباری افراد کو سفر کے لیے دعوت نامے حاصل کرنے میں مشکلات کا سامنا ہو تو عملی تعاون متاثر ہوتا ہے۔ اسی طرح روسی جامعات میں براہ راست داخلہ لینے والے پاکستانی طلبہ اگر داخلہ حاصل کرنے کے بعد ویزا دعوت نامہ ہی حاصل نہ کر سکیں تو تعلیمی تعاون اپنی پوری صلاحیت تک نہیں پہنچ سکتا۔
وزیراعظم کے آئندہ دورۂ ماسکو میں ایسے عملی معاملات بھی اعلیٰ سطحی ایجنڈے کا حصہ بن سکتے ہیں۔
پاکستان کے لیے ایک اور اہم بات یہ ہے کہ روس کے بھارت کے ساتھ دیرینہ تعلقات کو اپنے ماسکو کے ساتھ تعلقات کے راستے میں رکاوٹ کے طور پر نہ دیکھا جائے۔ روس اور بھارت کا اپنا تاریخی رشتہ ہے، جبکہ پاکستان اور روس کے تعلقات کی اپنی بنیاد، اپنی ضروریات اور اپنی گنجائش ہے۔
24 کروڑ سے زیادہ آبادی، بحیرہ عرب تک رسائی، جنوبی اور وسطی ایشیا کے سنگم پر جغرافیائی محل وقوع اور ایک بڑی منڈی کی حیثیت سے پاکستان روس کے لیے ایک اہم اقتصادی شراکت دار بن سکتا ہے۔ اسی طرح روس پاکستان کے لیے توانائی، صنعت، معدنیات، زراعت، ٹرانسپورٹ، تعلیم اور علاقائی رابطوں کے کئی شعبوں میں اہم شراکت دار بننے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
اس لیے پاکستان روس تعلقات کو کسی تیسرے ملک کے تناظر میں دیکھنے کے بجائے دونوں ممالک کے اپنے قومی مفادات کی بنیاد پر آگے بڑھانا زیادہ بہتر حکمت عملی ہوگی۔
بشکیک سے ایک حقیقت بہرحال واضح ہوئی ہے۔
صدر ولادیمیر پوتن نے شنگھائی تعاون تنظیم کو ایک ایسے سفارتی پلیٹ فارم کے طور پر استعمال کیا جہاں روس ایک ہی وقت میں چین، بھارت، ایران، ترکیہ، وسطی ایشیا اور دوسرے ممالک کے ساتھ اپنے تعلقات آگے بڑھا سکتا ہے۔ کسی کے ساتھ اسٹریٹجک شراکت داری ہے، کسی کے ساتھ اقتصادی تعاون اور کسی کے ساتھ علاقائی معاملات پر قریبی رابطہ۔ یہی آج کی بدلتی دنیا کی سفارت کاری ہے۔
پاکستان کے لیے بھی یہی سبق اہم ہے۔
شہباز شریف نے بشکیک میں پانی جیسے بنیادی قومی مسئلے کو ایک بڑے بین الاقوامی فورم پر اٹھایا، پاکستان نے ایس سی او کی چیئرمین شپ سنبھالی اور اگلے سال اسلام آباد کو تنظیم کی اعلیٰ سطحی میزبانی کا موقع ملنے والا ہے۔
اب اصل امتحان یہ نہیں کہ سربراہی اجلاس میں کس رہنما کے ساتھ کتنی دیر ملاقات ہوئی یا کسی گروپ فوٹو میں کون کس کے قریب کھڑا تھا۔
اصل امتحان یہ ہے کہ پاکستان اپنی ایس سی او چیئرمین شپ کو عملی اقتصادی اور سفارتی نتائج میں کس حد تک تبدیل کرتا ہے، وزیراعظم کا ملتوی شدہ دورۂ ماسکو کب ہوتا ہے، 2030 کا پاکستان روس اقتصادی روڈمیپ کس رفتار سے آگے بڑھتا ہے اور تجارت، توانائی، تعلیم اور ویزوں جیسے عملی مسائل کس حد تک حل ہوتے ہیں۔
صدر پوتن کی بشکیک میں متحرک سفارت کاری نے ایک بار پھر دکھایا ہے کہ آج کی دنیا میں کامیاب خارجہ پالیسی کا راستہ صرف ایک دارالحکومت سے نہیں گزرتا۔
پاکستان کے لیے بھی بہتر راستہ یہی ہے کہ اپنے قومی مفادات کو مقدم رکھتے ہوئے روس، چین، وسطی ایشیا اور خطے کے دوسرے اہم ممالک کے ساتھ تعلقات کے دروازے کھلے رکھے۔
بشکیک کا اجلاس ختم ہو گیا ہے، لیکن پاکستان کے لیے اصل سفارتی کام اب شروع ہوتا ہے۔









