روس میں نام نہاد ”انصاف مارچ“

شاہد گھمن

روس میں مسلح فوجی بغاوت، یہ وہ خبر تھی جو 23 اور 24 جون کو دنیا بھر کے میڈیا کی ہیڈ لائن بن گئی۔ امریکہ سمیت مغربی ممالک کی نظریں روس پر مرکوز ہوگئیں اور وہ اپنے مخالف ملک، جو اس وقت ان کے سامنے سیسہ پلائی ہوئی دیوار کے ساتھ کھڑا ہے، کے اندر خانہ جنگی اور خون ریزی کو دیکھنے کیلئے بے تاب رہے، کیونکہ یہ ایک ایسا موقع تھا جب تقریباً ڈیڑھ سال سے روس اپنے ہمسایہ ملک یوکرین میں فوجی آپریشن کررہا ہے، اس کے مخالف نیٹو، یورپ، انگلینڈ اور امریکہ یوکرین کے ساتھ کھڑے ہیں اور وہ اکیلا ان کا مقابلہ کررہا ہے۔ حالانکہ ان ممالک نے روس پر تاریخ کی اتنی بدترین پابندیاں عائد کردی ہیں لیکن اس کے باوجود روسی معیشت اب بھی مضبوطی سے کھڑی ہے۔

یوگینی پریگوزن کی مسلح فوجی بغاوت نے مخالفین میں امید کی کرن جگا دی کیونکہ انہیں ویگنر گروپ کی طاقت کا اندازہ تھا، جس نے باخموت کو اپنے زورِ بازو سے یوکرین سے چھین کر روسی فوج کے حوالے کیا۔ اس لئے صدر بائیڈن نے بھی روس میں مسلح بغاوت پر نظریں جمالیں۔

ویگنر پی ایم سی گروپ ایک روسی نیم فوجی تنظیم ہے جس کی کوئی واضح قانونی حیثیت نہیں ہے۔ سیدھے الفاظ میں، یہ ایک چھوٹی فوج ہے جس کا سرکاری طور پر روسی فیڈریشن کی وزارت دفاع یا کسی اور ریاستی ڈھانچے سے تعلق نہیں ہے۔

یہ ایک نجی کمپنی ہے جس کا سربراہ یوگینی پریگوزن ہے۔ برطانوی وزارت دفاع کا چند ماہ قبل کہنا تھا کہ ویگنر گروپ تقریباً یوکرین میں 50 ہزار جنگجوؤں کی کمانڈ کر رہا ہے۔

23 جون کو یوگینی پریگوزن نے اپنے ٹیلی گرام چینل پر کچھ ویڈیو پیغامات جاری کئے جس میں اس کا کہنا تھا کہ روسی وزارت دفاع کے یونٹوں نے مبینہ طور پر پی ایم سی کیمپ پر راکٹ فائر کیے ہیں، جس میں مبینہ طور پر اس کے کئی جنگجو مارے گئے ہیں۔ پریگوزن نے روسی وزیر دفاع سرگئی شوئیگو اور روسی چیف جنرل اسٹاف کے سربراہ ویلری گراسیموف پر سنگین جرائم کا الزام عائد کیا، جبکہ روسی وزارت دفاع نے فوری طور پر اس اطلاع کی تردید کر دی۔ پریگوزن کی پریس سروس کی طرف سے شائع ہونے والے کیمپ کی ویڈیو سے یہ بھی واضح نہیں تھا کہ راکٹ حملے ہوئے ہیں یا نہیں۔

اگلی صبح یعنی ہفتہ کے روز پریگوزن نے اعلان کیا کہ ویگنر کے 25 ہزار جنگجو ماسکو کی جانب ”انصاف مارچ“ کریں گے۔

پریگوزن اور اس کے گروپ نے ماسکو سے تقریباً 1100 کلومیٹر دور، ایک ملین سے زائد آبادی کے شہر راستوونادانو میں روس کے جنوبی ملٹری ڈسٹرکٹ کے ہیڈکوارٹر اور شہر کے مرکز میں کئی انتظامی عمارتوں پر قبضہ کر لیا۔ گروپ کا ایک حصہ راستوونادانو میں رہا اور باقی نے ماسکو کی جانب پیش قدمی شروع کردی۔

اس دوران یوکرین کے ایک انگریزی آن لائن نیوز پورٹل ”دی کیف انڈیپنڈنٹ“ نے روسی صدر ولادیمیر پوتن کے لاپتہ ہونے کا دعویٰ کردیا۔ ایک رپورٹ میں بتایا گیا کہ پوتن ملک چھوڑ کر جا سکتے ہیں۔ یعنی دنیا بھر کے میڈیا کی نظریں روس پر مرکوز ہوگئیں اور ہر کوئی اپنی اپنی قیاس آرائیوں کو ”بریکنگ نیوز“ کی صورت میں پیش کرتا رہا۔

اس صورتحال کے پیش نظر روسی صدر ولادیمیر پوتن نے ٹیلی ویژن پر ہنگامی خطاب کیا۔ صدر پوتن نے ویگنر پی ایم سی کے اقدامات کو ملک اور لوگوں کی پیٹھ میں چھرا گھونپنے کے مترادف قرار دیا۔ پوتن نے جنگجوؤں پر زور دیا کہ وہ اپنا ذہن بدل لیں اور مسلح افواج کو حکم دیا کہ وہ مسلح بغاوت کو منظم کرنے والوں کو کچل دیں۔

روس کی ایف ایس بی ایجنسی نے صورتحال کی سنگینی اور روسی فیڈریشن میں تصادم کے بڑھنے کے خطرے کے پیش نظر یوگینی پریگوزن کی جانب سے مسلح بغاوت کی کال پر فوجداری مقدمہ قائم کردیا، جس کی روسی قانون میں سزا 20 سال ہے۔ ترکی اور چین نے روس میں مسلح بغاوت کے دوران روس کے ساتھ کھڑے ہونے کا اعلان کیا، جبکہ چیچنیا کے صدر رمضان قادروف نے مسلح بغاوت کو کچلنے کیلئے اپنی فوجیں فوری طور پر راستوونادانو بھیج دیں۔

صدر پوتن کے خطاب کے بعد بیلاروس کے صدر الیگزینڈر لوکا شینکو نے ویگنر کے سربراہ پریگوزن کے ساتھ مذاکرات شروع کردئے۔ یہ مذاکرات دن بھر جاری رہے اور ویگنر گروپ کی ماسکو کی جانب پیش قدمی بھی جاری تھی۔ کیونکہ صدر پوتن نے اس مسلح بغاوت کو کچلنے کا بھی اعلان کیا تھا، اس لئے تصادم کا خطرہ تھا اور یقیناً پریگوزن اور اس کے ساتھیوں کو زندگی سے ہاتھ دھونا پڑ سکتے تھے۔

اس لیے بیلاروسی صدر نے اس کا درمیانی راستہ نکالا اور آخر کار یہ مذاکرات کامیاب ہوئے۔ یوگینی پریگوزن نے بیلاروس کے صدر الیگزینڈر لوکاشینکو کی روس میں ویگنر کمپنی کے مسلح افراد کی نقل و حرکت کو روکنے اور کشیدگی کو کم کرنے کی تجویز قبول کرلی اور ماسکو کی جانب پیش قدمی روک دی۔

ان مذاکرات کے بعد پریگوزن نے ایک آڈیو پیغام جاری کیا، جس میں اس نے کہا کہ ان کی فورسز ماسکو سے صرف 200 کلومیٹر کے فاصلے پر ہیں لیکن انہیں واپس جانے کا حکم دے دیا گیا ہے۔

”ہم اپنے فوجی دستوں کا رخ موڑ کر پلان کے مطابق فیلڈ کیمپوں میں واپس جا رہے ہیں۔“

انہوں نے اپنے فوجی دستوں کو اڈوں پر واپس جانے کی ہدایات جاری کیں، جس کے بعد ویگنر کے جنگجو کیمپوں میں واپس جانا شروع ہوگئے۔ اور یوں 24 گھنٹے میں یہ نام نہاد ”انصاف مارچ“ ختم ہوا اور مسلح بغاوت دم توڑ گئی۔

اس کے بعد بیلاروسی صدر لوکا شینکو نے بھی مذاکرات کامیاب ہونے اور ویگنر جنگجوؤں کی واپسی کی تصدیق کر دی اور صدر پوتن کو اس ساری صورتحال سے آگاہ کیا۔

روسی صدر کے ترجمان دیمتری پیسکوف نے بتایا کہ ویگنر گروپ کے جنگجوؤں نے روستوو نادانو میں روس کا فوجی ہیڈکوارٹر خالی کر دیا ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ ویگنر گروپ کے سربراہ پریگوزن کے خلاف مقدمہ نہیں چلایا جائیگا بلکہ یوگینی پریگوزن کے خلاف فوجداری مقدمہ خارج کر دیا جائے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ جن جنگجوؤں نے روس کے خلاف پریگوزن کے احکامات ماننے سے انکار کردیا تھا، ان کے خلاف بھی کارروائی نہیں ہوگی بلکہ ان کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے ان کا روسی وزارت دفاع کے ساتھ معاہدہ کرکے باضابطہ طور پر روسی فوج میں شامل کرلیا جائے گا۔

دیمتری پیسکوف کا کہنا تھا کہ معاہدے کے تحت یوگینی پریگوزن بیلاروس چلے جائیں گے اور بغاوت میں شریک دیگر افراد کو حفاظتی ضمانتیں دی جائیں گی۔

تادم تحریر صدر پوتن نے کہا ہے کہ ویگنر گروپ کے جنگجوؤں اور کمانڈروں کی بھاری اکثریت بھی روسی محب وطن ہیں، اس لئے بحران کے حل کیلئے جو وعدہ انہوں نے مذاکرات کے دوران کیا تھا اسے برقرار رکھا جائے گا۔

انہوں نے ویگنر گروپ کے جنگجوؤں کو تین آفرز دیں: روسی فوج سے معاہدہ کرکے فوج جوائن کرلیں، اپنے گھر واپس چلے جائیں یا بیلاروس چلے جائیں۔

روس میں حالات اس وقت معمول پر ہیں جیسے کچھ ہوا ہی نہیں، لیکن روس کے مخالفین کی امیدیں ضرور دم توڑ گئی ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں