روس تک پاکستانی برآمدات کو درپیش نئے چیلنجز….شاہد گھمن

شاہد گھمن مکتوب ماسکو
روس میں مقیم پاکستانی تاجر اس وقت شدید مشکلات سے دوچار ہیں. تجارت صرف معیاری مصنوعات تیار کرنے کا نام نہیں بلکہ محفوظ، تیز رفتار اور کم لاگت ترسیل بھی کامیاب کاروبار کی بنیادی شرط ہوتی ہے. بدقسمتی سے پاکستان اس وقت اپنی برآمدات میں اضافے سے زیادہ اپنی تجارتی راہداریوں کو برقرار رکھنے کے چیلنج کا سامنا کر رہا ہے. جب تجارتی راستے غیر یقینی، غیر محفوظ یا بار بار بندش کا شکار ہوں تو بہترین پاکستانی مصنوعات بھی عالمی منڈیوں تک بروقت نہیں پہنچ پاتیں. اس کا براہ راست اثر برآمدات، کاروباری اعتماد اور ملکی معیشت پر پڑتا ہے. یہی صورتحال آج روس میں کاروبار کرنے والے پاکستانی تاجروں کی سب سے بڑی تشویش بن چکی ہے.

گزشتہ چند برسوں میں عالمی پابندیوں، علاقائی تنازعات اور بدلتی ہوئی جغرافیائی سیاست نے روس اور پاکستان کے درمیان تجارتی سرگرمیوں کو براہ راست متاثر کیا ہے. سمندری راستوں پر شپنگ کمپنیوں کو مختلف مشکلات کا سامنا رہا جس کے باعث بہت سے پاکستانی تاجروں نے زمینی راستے کو ترجیح دی. افغانستان کے ذریعے بائی روڈ کارگو روس اور وسطی ایشیا تک نسبتاً بہتر اور کم خرچ ذریعہ بن چکا تھا. پاکستان سے ٹیکسٹائل، چمڑے کی مصنوعات، کھیلوں کا سامان، خوراک اور دیگر اشیاء اسی راستے سے بڑی تعداد میں روانہ کی جا رہی تھیں.

لیکن پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحدی کشیدگی اور بارڈر کی بندش نے اس پورے نظام کو شدید متاثر کر دیا. اس کا نقصان صرف دونوں ہمسایہ ممالک تک محدود نہیں رہا بلکہ روس، قازقستان، ازبکستان اور دیگر وسطی ایشیائی منڈیوں تک پاکستانی مصنوعات کی رسائی بھی متاثر ہوئی. سب سے زیادہ مشکلات ان پاکستانی تاجروں کو پیش آئیں جو برسوں سے روس میں کاروبار کر رہے ہیں اور جن کا انحصار اسی زمینی راستے پر تھا.

بارڈر بند ہونے کے بعد بہت سے تاجروں نے ایران کے راستے سامان بھیجنے کی کوشش کی. لیکن خطے میں ایران سے متعلق پیدا ہونے والی کشیدگی اور غیر یقینی صورتحال نے اس متبادل راستے کو بھی مہنگا اور مشکل بنا دیا. اس کے نتیجے میں نہ صرف ٹرانسپورٹ کے اخراجات میں نمایاں اضافہ ہوا بلکہ سامان کی ترسیل کا وقت بھی کئی گنا بڑھ گیا. وقت پر آرڈر پورے نہ ہونے کی وجہ سے روسی خریداروں کا اعتماد بھی متاثر ہونے لگا ہے.

ماسکو میں پاکستانی بزنس کمیونٹی کا کہنا ہے کہ پہلے جو سامان نسبتاً کم وقت میں پہنچ جاتا تھا، اب اس میں کئی ہفتوں کی تاخیر ہو جاتی ہے. کرایوں میں اضافہ ہو چکا ہے، رسک بڑھ گیا ہے اور ہر نئی کھیپ بھیجتے وقت یہ خدشہ موجود رہتا ہے کہ کہیں راستے میں کوئی نیا مسئلہ پیدا نہ ہو جائے. کاروبار میں غیر یقینی صورتحال ہمیشہ سرمایہ کار کے اعتماد کو کمزور کرتی ہے، اور یہی اس وقت پاکستانی تاجروں کی سب سے بڑی تشویش ہے.

روس ایک بڑی اور اہم مارکیٹ ہے جہاں پاکستانی مصنوعات کے لیے گنجائش موجود ہے. پاکستانی ٹیکسٹائل، ڈینم، چمڑے کی مصنوعات، کھیلوں کا سامان، سرجیکل آلات، چاول، آم اور دیگر زرعی مصنوعات روسی صارفین میں اپنی جگہ بنا سکتی ہیں. لیکن اگر سپلائی چین ہی متاثر رہے تو یہ مواقع رفتہ رفتہ دوسرے ممالک کے حصے میں جا سکتے ہیں.

یہ صورتحال صرف تاجروں کا مسئلہ نہیں بلکہ قومی معیشت کا معاملہ ہے. پاکستان کو اپنی برآمدات بڑھانے کے لیے نئی منڈیاں تلاش کرنے کے ساتھ ساتھ ان منڈیوں تک رسائی کے محفوظ راستوں کو بھی یقینی بنانا ہوگا. افغانستان کے ساتھ تجارتی معاملات میں بہتری، زمینی راہداریوں کی بحالی اور خطے کے ممالک کے ساتھ مؤثر سفارتی رابطے وقت کی اہم ضرورت ہیں. اسی طرح متبادل تجارتی راستوں پر بھی عملی پیش رفت کی ضرورت ہے تاکہ کسی ایک راستے کی بندش پورے تجارتی نظام کو مفلوج نہ کر سکے.

حکومت پاکستان کو بیرون ملک مقیم پاکستانی تاجروں سے باقاعدہ مشاورت کا نظام بھی قائم کرنا چاہیے. روس اور وسطی ایشیا میں موجود پاکستانی کاروباری افراد زمینی حقائق سے بخوبی واقف ہیں. ان کے تجربات اور تجاویز کو قومی تجارتی پالیسی کا حصہ بنایا جائے تو بہتر نتائج حاصل کیے جا سکتے ہیں.

آج دنیا میں وہی ممالک کامیاب ہیں جو اپنی تجارت کو سیاسی کشیدگی سے حتیٰ الامکان محفوظ رکھنے کی منصوبہ بندی کرتے ہیں. پاکستان کے لیے بھی یہی وقت ہے کہ وہ علاقائی سفارت کاری، تجارتی روابط اور ٹرانزٹ سہولتوں کو قومی ترجیح بنائے. اگر بروقت فیصلے نہ کیے گئے تو نہ صرف موجودہ برآمدات متاثر ہوں گی بلکہ مستقبل میں نئی منڈیوں تک رسائی بھی مشکل ہو سکتی ہے.

ماسکو سے دیکھیں تو تصویر بالکل واضح نظر آتی ہے. پاکستانی مصنوعات کی مانگ موجود ہے، خریدار بھی موجود ہیں اور کاروبار کے مواقع بھی موجود ہیں. ضرورت صرف اس بات کی ہے کہ پاکستان اپنی تجارتی راہداریوں کو محفوظ، مستحکم اور قابل اعتماد بنانے کے لیے عملی اقدامات کرے. اگر ایسا ہو گیا تو نہ صرف روس بلکہ پورے یوریشیائی خطے میں پاکستانی تجارت کے لیے نئے دروازے کھل سکتے ہیں.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں