روس کے پارلیمانی انتخابات میں ٹرن آؤٹ 50 فیصد سے تجاوز، مشرقی علاقوں میں ووٹوں کی گنتی شروع

ماسکو(شاہد گھمن) روس میں پارلیمان کے ایوانِ زیریں، ریاستی دُوما کی نئی تشکیل کے لیے ووٹنگ کا عمل آخری مرحلے میں پہنچ گیا۔ اٹھارہ ستمبر کو شروع ہونے والی تین روزہ پولنگ کے دوران شہریوں نے انیس اور بیس ستمبر کو بھی اپنے نمائندوں کے انتخاب کے لیے حقِ رائے دہی استعمال کیا۔

روسی مرکزی الیکشن کمیشن کے جاری کردہ اعدادوشمار کے مطابق بیس ستمبر کو ماسکو کے وقت دوپہر ایک بج کر چالیس منٹ تک ریاستی دُوما کے انتخابات میں ٹرن آؤٹ 50.46 فیصد ریکارڈ کیا گیا۔ یوں اس وقت تک نصف سے زیادہ رجسٹرڈ ووٹرز انتخابی عمل میں حصہ لے چکے تھے۔ یہ دورانِ پولنگ جاری کردہ شرح ہے، جبکہ حتمی ٹرن آؤٹ مکمل اعدادوشمار مرتب ہونے کے بعد سامنے آئے گا۔

ریاستی دُوما کی 450 نشستوں کے لیے انتخابات میں دس سیاسی جماعتیں حصہ لے رہی ہیں۔ ان میں یونائیٹڈ رشیا، کمیونسٹ پارٹی، لبرل ڈیموکریٹک پارٹی، نیو پیپل اور اے جسٹ رشیا فار ٹروتھ سمیت دیگر جماعتیں شامل ہیں۔

ان انتخابات میں شہریوں نے پولنگ اسٹیشنوں کے ساتھ الیکٹرانک ووٹنگ کی سہولت بھی استعمال کی۔ مرکزی الیکشن کمیشن کی سربراہ ایلا پامفیلووا کے مطابق اتوار کی صبح تک مختلف الیکٹرانک طریقوں سے ووٹ ڈالنے والوں کی تعداد 60 لاکھ سے تجاوز کرچکی تھی۔

روسی وزارتِ ڈیجیٹل ترقی کے مطابق وفاقی ریموٹ الیکٹرانک ووٹنگ پلیٹ فارم پر صبح نو بج کر پچپن منٹ تک 34 لاکھ افراد ووٹ ڈال چکے تھے۔ یہ اس سہولت کے لیے رجسٹرڈ ووٹرز کا 85 فیصد تھا۔ وفاقی پلیٹ فارم پر الیکٹرانک ووٹنگ 32 علاقوں میں استعمال کی جارہی ہے۔

ماسکو میں آن لائن ووٹنگ اور پولنگ اسٹیشنوں پر موجود الیکٹرانک ٹرمینلز کے ذریعے ووٹ دینے والوں کی تعداد اتوار کی صبح تک 28 لاکھ سے زیادہ تھی۔ ماسکو اور وفاقی پلیٹ فارم کے یہ اعداد مجموعی الیکٹرانک شرکت کا حصہ ہیں۔

روس کے مختلف ٹائم زونز کے باعث مشرقی علاقوں میں پولنگ پہلے مکمل ہوئی۔ تاس کے مطابق کامچاتکا کے 178 اور چُکوتکا کے 54 پولنگ اسٹیشن مقامی وقت کے مطابق رات آٹھ بجے بند ہوگئے، جس کے بعد انتخابی کمیشنوں نے ووٹوں کی گنتی شروع کردی۔

پولنگ بند ہونے سے دو گھنٹے پہلے، مقامی وقت کے مطابق شام چھ بجے، کامچاتکا میں ٹرن آؤٹ 46.77 فیصد اور چُکوتکا میں 57.78 فیصد ریکارڈ کیا گیا تھا۔ تاس

انتخابی نگرانی کے حوالے سے روسی پبلک چیمبر کے متعلقہ رابطہ کونسل کے شریک سربراہ الیکسی پیسکوف نے کہا کہ بیشتر پولنگ اسٹیشنوں پر انتخابی عمل معمول کے مطابق جاری ہے۔ ان کے مطابق اتوار کی صبح تک عوامی مبصرین نے ایسی سنگین خلاف ورزیاں ریکارڈ نہیں کی تھیں جو بڑے پیمانے پر ووٹرز کی مرضی پر اثرانداز ہوسکیں۔

مرکزی الیکشن کمیشن کی سربراہ ایلا پامفیلووا نے بتایا کہ ماسکو کے الیکٹرانک انتخابی نظام پر سائبر حملوں کے باعث پیدا ہونے والی عارضی رکاوٹیں دور کردی گئی ہیں اور متعلقہ ٹرمینلز معمول کے مطابق کام کررہے ہیں۔

صدر ولادیمیر پوتن نے انتخابات سے قبل قوم کے نام پیغام میں شہریوں سے سوچ سمجھ کر اپنا آئینی حق استعمال کرنے کی اپیل کی تھی۔ انہوں نے کہا کہ ہر ووٹ اہم ہے، کیونکہ شہریوں کا انتخاب طے کرتا ہے کہ وفاقی پارلیمان، علاقائی اور مقامی سطح پر کون سی سیاسی قوتیں ان کے مفادات کی نمائندگی کریں گی۔

روسی صدر نے انتخابی شرکت کو ملک کی مضبوطی میں شہریوں کا حصہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ عوام کا فیصلہ روسی معاشرے کی یکجہتی، ذمہ داری اور مشترکہ قومی اقدار کا اظہار ہوگا۔

ریاستی دُوما کے ساتھ 39 علاقوں کی قانون ساز اسمبلیوں اور متعدد علاقائی و بلدیاتی عہدوں کے لیے بھی انتخابی عمل جاری ہے۔ گیارہ علاقوں کی قیادت کے انتخاب میں آٹھ جگہ براہِ راست ووٹنگ اور تین میں علاقائی قانون ساز اداروں کے ذریعے انتخاب کا طریقہ اختیار کیا گیا ہے۔

ابتدائی نتائج ماسکو کے وقت رات نو بجے، یعنی پاکستانی وقت کے مطابق رات گیارہ بجے کے بعد سامنے آنے کی توقع ہے، جب کالینن گراڈ میں بھی پولنگ مکمل ہوجائے گی۔ اس کے بعد ووٹوں کی گنتی کے ساتھ نئی ریاستی دُوما میں جماعتوں کی نمائندگی واضح ہونا شروع ہوگی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں