
شاہد گھمن مکتوب ماسکو
دنیا ایک بار پھر ایک نئے عالمی سیاسی اور معاشی دوراہے پر کھڑی ہے۔ طاقت کے مراکز بدل رہے ہیں، اتحاد نئی شکل اختیار کر رہے ہیں، اور وہ ممالک جو کبھی مغربی دنیا کے زیرِاثر سمجھے جاتے تھے، اب اپنی الگ شناخت اور مشترکہ مفادات کی بنیاد پر نئی صف بندی کرتے دکھائی دے رہے ہیں۔ انہی بدلتے حالات میں روسی صدر ولادیمیر پوتن کا حالیہ دورۂ چین غیر معمولی اہمیت اختیار کر گیا ہے۔
دو روزہ اس دورے نے صرف ماسکو اور بیجنگ کے تعلقات کو ہی نہیں بلکہ مستقبل کی عالمی سیاست کی سمت کو بھی نمایاں کر دیا ہے۔ صدر پوتن ایسے وقت میں چین پہنچے جب یوکرین جنگ، ایران بحران، آبنائے ہرمز کی کشیدگی، امریکا۔چین رقابت اور عالمی معاشی بے یقینی پوری دنیا کو متاثر کر رہی ہے۔
بیجنگ ایئرپورٹ پر صدر پوتن کا استقبال صرف ایک سفارتی روایت نہیں تھا بلکہ ایک واضح سیاسی پیغام تھا۔ چینی وزیر خارجہ وانگ یی کی موجودگی، روسی اور چینی پرچموں کی نمائش، گارڈ آف آنر، اور چینی طلبہ کی جانب سے “خوش آمدید” کے نعرے اس بات کی علامت تھے کہ بیجنگ ماسکو کو محض ایک اتحادی نہیں بلکہ ایک اسٹریٹجک ستون سمجھتا ہے۔
اس دورے کی سب سے دلچسپ بات وہ “چائے ملاقات” تھی جس کا ذکر کریملن نے خصوصی طور پر کیا۔ روسی صدر اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان غیر رسمی ماحول میں ہونے والی یہ گفتگو دراصل ان حساس موضوعات پر تھی جن پر دنیا کی نظریں جمی ہوئی ہیں۔ یوکرین، ایران، امریکا، مشرقِ وسطیٰ، عالمی معیشت اور نئی عالمی صف بندی — سب کچھ اس ایجنڈے میں شامل تھا۔
پوتن اور شی جن پنگ نے اپنے مشترکہ بیانات میں واضح کر دیا کہ روس اور چین اب صرف اقتصادی شراکت دار نہیں بلکہ عالمی سیاسی بیانیے کے مشترکہ معمار بن چکے ہیں۔ دونوں ممالک نے “کثیر القطبی عالمی نظام” کی حمایت کرتے ہوئے مغربی بالادستی کے تصور کو چیلنج کیا۔ یہ محض سفارتی جملے نہیں بلکہ ایک ابھرتی ہوئی عالمی حقیقت ہے۔
روس اور چین نے ایران پر امریکا اور اسرائیل کے حملوں کو مشرقِ وسطیٰ کے استحکام کے لیے خطرہ قرار دیا، جبکہ یوکرین بحران کی “بنیادی وجوہات” ختم کرنے پر زور دیا۔ اس مؤقف میں دراصل وہی سوچ جھلکتی ہے جو ماسکو اور بیجنگ کو مغربی پالیسیوں کے مقابل ایک متبادل عالمی طاقت کے طور پر سامنے لا رہی ہے۔
کریملن کے مطابق اس دورے میں تقریباً 40 اہم معاہدوں پر دستخط کیے گئے، جبکہ 200 ارب ڈالر سے زائد مالیت کے 89 مشترکہ منصوبوں پر بھی پیش رفت ہوئی۔ یہ منصوبے صرف تجارت تک محدود نہیں بلکہ توانائی، ٹیکنالوجی، زراعت، خلائی تحقیق، جوہری توانائی، لاجسٹکس اور انفراسٹرکچر تک پھیلے ہوئے ہیں۔
روس کے پہلے نائب وزیر اعظم ڈینس مانتوروف کے مطابق صدر پوتن کے دورے سے ان منصوبوں کو نئی رفتار ملے گی۔ روس اور چین اب تقریباً مکمل طور پر روبل اور یوان میں تجارت کر رہے ہیں، جو عالمی مالیاتی نظام میں ڈالر کی اجارہ داری کے لیے ایک بڑا چیلنج بنتا جا رہا ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ اس تمام پیش رفت کے دوران روسی مؤقف کو عالمی سطح پر پہلے کے مقابلے میں زیادہ سنجیدگی سے سنا جا رہا ہے۔ ماسکو مسلسل یہ مؤقف دہرا رہا ہے کہ یوکرین بحران کو صرف جنگی حکمتِ عملی یا مغربی دباؤ کے ذریعے حل نہیں کیا جا سکتا بلکہ اس کے لیے بنیادی اسباب اور روس کی سیکیورٹی خدشات کو سمجھنا ضروری ہے۔ روسی حکام کا کہنا ہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ کئی ممالک یہ محسوس کرنے لگے ہیں کہ یوکرین تنازع کے بارے میں مغربی بیانیہ مکمل تصویر پیش نہیں کرتا، اسی لیے عالمی سفارتکاری میں متوازن اور حقیقت پسندانہ نقطۂ نظر کی ضرورت پر زور بڑھتا جا رہا ہے۔
ادھر امریکا کے اندر بھی صورتحال مکمل طور پر مستحکم نہیں۔ روسی میڈیا کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو اپنی ہی جماعت ریپبلکن پارٹی میں مزاحمت کا سامنا ہے، خاص طور پر ایران اور خارجہ پالیسی سے متعلق معاملات پر۔ یہی وجہ ہے کہ واشنگٹن ایک ساتھ یوکرین، ایران، چین اور روس جیسے محاذوں پر دباؤ برقرار رکھنے میں مشکلات محسوس کر رہا ہے۔
اسی دوران ایران کے ساتھ ممکنہ تیل معاہدے کی خبریں بھی عالمی سیاست کا رخ بدل سکتی ہیں۔ آبنائے ہرمز کی بندش کے خدشات نے دنیا کو ہلا کر رکھ دیا ہے، کیونکہ عالمی تیل سپلائی کا بڑا حصہ اسی راستے سے گزرتا ہے۔ ایسے میں روس، چین، ایران اور وسطی ایشیا ایک نئے معاشی اور تزویراتی بلاک کی شکل اختیار کرتے دکھائی دے رہے ہیں۔
روس کے لیے چین اب محض ایک پڑوسی نہیں بلکہ ایک ایسا عالمی ساتھی بن چکا ہے جس کے ساتھ مل کر وہ مغربی دباؤ کا مقابلہ کرنا چاہتا ہے۔ دوسری جانب چین بھی بخوبی جانتا ہے کہ امریکا کے ساتھ بڑھتی کشیدگی کے ماحول میں ماسکو اس کے لیے ناگزیر اہمیت رکھتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ صدر پوتن نے اپنے دورے سے قبل کہا تھا کہ روس اور چین کے تعلقات “غیر معمولی سطح” پر پہنچ چکے ہیں۔ شاید یہی جملہ آج کی عالمی سیاست کی سب سے بڑی حقیقت بھی ہے۔
روس اور چین کے تعلقات اب صرف سیاسی یا اقتصادی مفادات تک محدود نہیں رہے بلکہ دونوں ممالک عالمی طاقت کے توازن میں ایک نئے باب کی بنیاد رکھتے دکھائی دے رہے ہیں۔ مغربی پابندیوں، اقتصادی دباؤ اور سیاسی تنہائی کی کوششوں کے باوجود ماسکو نے نہ صرف اپنی سفارتی سرگرمیوں کو برقرار رکھا بلکہ بیجنگ کے ساتھ تعلقات کو مزید مضبوط کر کے یہ پیغام بھی دیا کہ نئی عالمی حقیقتیں اب پرانے عالمی نظام سے مختلف ہوں گی۔
بیجنگ میں ہونے والی ملاقاتوں نے یہ واضح کر دیا کہ روس اور چین آنے والے برسوں میں عالمی سیاست، معیشت، توانائی اور سلامتی کے معاملات میں مزید قریبی تعاون جاری رکھیں گے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر کے سفارتی حلقے اس دورے کو صرف ایک معمول کی ملاقات نہیں بلکہ عالمی طاقت کے نئے توازن کی علامت قرار دے رہے ہیں۔
دنیا اب سرد جنگ کے بعد والے یک قطبی دور سے تیزی سے نکل رہی ہے۔ نئی صف بندیاں بن رہی ہیں، نئے اتحاد سامنے آ رہے ہیں، اور ماسکو و بیجنگ اس نئی دنیا کے مرکزی کردار بنتے جا رہے ہیں۔
اور شاید آنے والے برسوں میں تاریخ یہ لکھے کہ عالمی طاقت کے توازن میں تبدیلی کی اصل بنیاد انہی ملاقاتوں، انہی بیانات اور انہی “چائے نشستوں” میں رکھی گئی تھی۔









