پوتن کے دورۂ چین سے 200 ارب ڈالر مالیت کے روس۔چین مشترکہ منصوبوں کو نئی رفتار ملے گی

ماسکو(وائس آف رشیا) روس کے پہلے نائب وزیر اعظم ڈینس مانتوروف نے کہا ہے کہ صدر ولادیمیر پوتن کے حالیہ دورۂ چین، طے پانے والے معاہدوں اور اعلیٰ سطحی مذاکرات سے روس اور چین کے درمیان 200 ارب ڈالر سے زائد مالیت کے مشترکہ منصوبوں کو نئی رفتار ملے گی۔

روسی خبر رساں ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے ڈینس مانتوروف نے کہا کہ صدر پوتن کے دورے کے دوران ہونے والے تفصیلی اور گہرے مذاکرات دونوں ممالک کے درمیان جاری مشترکہ منصوبوں کے عملی نفاذ کو مزید تقویت دیں گے۔

انہوں نے کہا کہ روس۔چین بین الحکومتی کمیشن برائے سرمایہ کاری تعاون کے تحت اس وقت 89 بڑے مشترکہ منصوبے جاری ہیں، جن کی مجموعی مالیت 200 ارب ڈالر سے زیادہ ہے۔

ڈینس مانتوروف کے مطابق یہ منصوبے دھات سازی، کیمیکل انڈسٹری، مشین سازی، جنگلات، زراعت، ٹرانسپورٹ، لاجسٹکس اور تجارت سمیت مختلف شعبوں پر مشتمل ہیں۔

انہوں نے کہا کہ روس اور چین جوہری توانائی اور خلائی تحقیق کے شعبوں میں بھی کامیابی کے ساتھ تعاون جاری رکھے ہوئے ہیں۔

روسی نائب وزیر اعظم نے کہا کہ ماسکو اور بیجنگ کے درمیان بڑھتی ہوئی اسٹریٹجک شراکت داری دونوں ممالک کے اقتصادی اور صنعتی تعاون کو مزید وسعت دے رہی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں