ماسکو(وائس آف رشیا) روس اور بیلاروس نے مشترکہ جوہری افواج کی بڑے پیمانے پر فوجی مشقیں شروع کر دی ہیں، جن میں بیلسٹک، ہائپرسونک اور کروز میزائلوں کے عملی تجربات بھی کیے گئے، جبکہ روسی صدر ولادیمیر پوتن نے اس موقع پر اسٹریٹجک میزائل فورسز کو نئے میزائل سسٹمز سے لیس کرنے کا اعلان کیا ہے۔
روسی خبر رساں ادارے ٹاس کے مطابق روسی صدر ولادیمیر پوتن اور بیلاروس کے صدر الیگزینڈر لوکاشینکو نے ویڈیو لنک کے ذریعے روس۔بیلاروس مشترکہ فوجی مشقوں کا مشاہدہ کیا۔
صدر پوتن نے کہا کہ روس اور بیلاروس آج پہلی مرتبہ اسٹریٹجک اور ٹیکٹیکل جوہری افواج کی کمانڈ اینڈ کنٹرول سے متعلق مشترکہ مشقیں کر رہے ہیں۔
انہوں نے اعلان کیا کہ ان مشقوں کے دوران بیلسٹک اور کروز میزائلوں کے تجرباتی لانچ بھی کیے گئے۔
روسی صدر کے مطابق روس اور بیلاروس کا “جوہری سہ رخی دفاعی نظام” دونوں ممالک کی خودمختاری، جوہری توازن اور عالمی طاقت کے توازن کی ضمانت ہے۔
پوتن نے کہا کہ جوہری ہتھیاروں کا استعمال ایک “غیر معمولی اقدام” ہے، جس کا مقصد صرف ملک کی سلامتی کو یقینی بنانا ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ روس کسی ہتھیاروں کی دوڑ میں شامل نہیں ہونا چاہتا، تاہم ملک اپنی دفاعی حکمت عملی کے مطابق مسلسل کام کر رہا ہے۔
صدر پوتن نے کہا کہ روس اسٹریٹجک میزائل فورسز کو نئے موبائل اور مستقل میزائل سسٹمز سے لیس کرے گا، جبکہ جوہری افواج کی تربیت اور تیاری کو مزید بہتر بنایا جائے گا۔
روسی وزارت دفاع کے مطابق مشقوں کے دوسرے مرحلے میں بیلسٹک، ہائپرسونک اور فضائی کروز میزائلوں کے عملی تجربات کیے گئے۔
بیلاروسی افواج نے کاپوستین یار ٹیسٹ رینج سے اسکندر-ایم میزائل لانچ کیا، جبکہ روسی بحریہ نے “تسرکون” اور “سینیوا” میزائل داغے۔
وزارت دفاع کے مطابق پلیسیٹسک اسپیس پورٹ سے “یارس” بین البراعظمی بیلسٹک میزائل بھی کامیابی سے لانچ کیا گیا، جبکہ Tu-95MS بمبار طیاروں اور MiG-31I جنگی طیاروں نے “کنزال” ہائپرسونک میزائل داغے۔
روسی وزارت دفاع نے کہا کہ تمام اہداف کامیابی سے نشانہ بنائے گئے اور مشقوں کے تمام مقاصد مکمل کر لیے گئے۔
بیلاروس کے صدر الیگزینڈر لوکاشینکو نے کہا کہ روس اور بیلاروس کسی کے لیے خطرہ نہیں، تاہم دونوں ممالک “بریسٹ سے ولادی ووستوک” تک اپنے مشترکہ وطن کے دفاع کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بیلاروسی فوجیوں نے مشترکہ مشقوں کے دوران اسکندر-ایم میزائل سے اہداف کو کامیابی سے نشانہ بنایا۔
روسی وزارت دفاع کے مطابق 19 سے 21 مئی تک جاری رہنے والی ان مشقوں میں 64 ہزار سے زائد فوجی، 200 سے زیادہ میزائل لانچرز، 140 سے زائد طیارے، 73 جنگی بحری جہاز اور 13 آبدوزیں حصہ لے رہی ہیں۔
وزارت دفاع کے مطابق مشقوں کا مقصد جوہری افواج کی تیاری، کمانڈ اینڈ کنٹرول، دفاعی صلاحیت اور ممکنہ جارحیت کے خلاف ردعمل کی صلاحیت کا جائزہ لینا ہے۔









