بیجنگ میں پوتن۔شی مذاکرات، ایران کے افزودہ یورینیم پر روسی تجویز سامنے آ گئی

ماسکو(وائس آف رشیا) کریملن کے ترجمان دیمتری پیسکوف نے کہا ہے کہ روسی صدر ولادیمیر پوتن اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان بیجنگ میں ہونے والی غیر رسمی “چائے ملاقات” میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ دورۂ چین، ایران کی صورتحال اور اہم عالمی معاملات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے دیمتری پیسکوف نے بتایا کہ چینی صدر شی جن پنگ نے صدر پوتن کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ دورۂ چین کے نتائج اور وہاں ہونے والی گفتگو سے آگاہ کیا۔

انہوں نے کہا کہ دونوں رہنماؤں کے درمیان ہونے والی یہ غیر رسمی ملاقات انتہائی تفصیلی اور اہم نوعیت کی تھی، جس میں عالمی سیاست کے مختلف حساس معاملات زیر بحث آئے۔

کریملن کے ترجمان کے مطابق ایران سے متعلق صورتحال بھی پوتن اور شی جن پنگ کی گفتگو کا اہم حصہ رہی۔

دیمتری پیسکوف نے بتایا کہ صدر پوتن نے ایران کے افزودہ یورینیم کو روس منتقل کرنے کی تجویز بھی پیش کی، تاہم اس تجویز کو قبول یا مسترد کرنا تہران اور واشنگٹن کا فیصلہ ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ “یہ ایک تجویز ہے، اگر ایران اور امریکا اسے مناسب سمجھیں تو اس پر غور کیا جا سکتا ہے۔”

دوسری جانب دیمتری پیسکوف نے کیوبا کے خلاف امریکی پابندیوں اور دباؤ کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔

انہوں نے کہا کہ امریکا کی جانب سے کیوبا کا معاشی محاصرہ اور پابندیاں جزیرے کے عام شہریوں کے لیے تباہ کن نتائج پیدا کر رہی ہیں۔

کریملن ترجمان کے مطابق امریکا کی جانب سے مزید فوجی دباؤ اور بحری طاقت کے مظاہرے سے کیوبا کے عوام کی مشکلات میں مزید اضافہ ہوگا۔

سابق کیوبن رہنما راؤل کاسترو کے خلاف امریکی الزامات پر ردعمل دیتے ہوئے دیمتری پیسکوف نے کہا کہ روس دیگر ممالک کی قیادت پر دباؤ ڈالنے کے ایسے “جارحانہ طریقوں” کی حمایت نہیں کرتا۔

انہوں نے کہا کہ “ہم سمجھتے ہیں کہ ایسے طریقے، جو طاقت کے استعمال کے قریب پہنچ جاتے ہیں، کسی بھی ملک کی قیادت کے خلاف استعمال نہیں ہونے چاہییں۔”

دیمتری پیسکوف نے واضح کیا کہ روس کیوبا پر امریکی دباؤ کو ناقابل قبول سمجھتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں