ماسکو(وائس آف رشیا) روس کے نائب وزیراعظم الیگزینڈر نوواک نے کہا ہے کہ یوکرینی ڈرون حملوں کے باعث بعض آئل ریفائنریاں جزوی طور پر متاثر ہوئی ہیں، جس کے نتیجے میں ملک میں ایندھن کی قلت پیدا ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ صورتحال کو مستحکم رکھنے کے لیے روس نے عارضی طور پر پٹرول اور ڈیزل کی برآمدات مکمل طور پر بند کر دی ہیں۔
صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے الیگزینڈر نوواک نے کہا کہ حکومت کا اولین مقصد ملکی ضرورت پوری کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے عارضی طور پر پٹرول اور ڈیزل کی برآمدات پر پابندی عائد کی ہے تاکہ ملکی منڈی کو مناسب مقدار میں ایندھن فراہم کیا جا سکے۔ یہ تمام اقدامات صورتحال کو مستحکم بنانے کے لیے کیے جا رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ حکومت مختلف علاقوں میں ایندھن کی اضافی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے بھی اقدامات کر رہی ہے تاکہ قلت پر قابو پایا جا سکے۔
نائب وزیراعظم نے کہا کہ روس کے پاس اس وقت ایندھن صاف کرنے کی کافی صلاحیت موجود ہے اور مجموعی طور پر ملک اپنی ضروریات پوری کرنے کے ساتھ ساتھ ایندھن برآمد بھی کرتا ہے۔ ان کے مطابق حکومت ہر ممکن اقدام کر رہی ہے تاکہ آئل ریفائنریاں مکمل استعداد کے ساتھ کام کریں اور ایندھن کی پیداوار میں کوئی کمی نہ آئے۔
الیگزینڈر نوواک نے کہا کہ موجودہ صورتحال سے فائدہ اٹھاتے ہوئے بعض ری سیلرز (دوبارہ فروخت کرنے والے) قیمتیں بڑھا کر اضافی منافع کمانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بڑی عمودی مربوط تیل کمپنیاں اپنے پٹرول پمپس پر قیمتوں کو مہنگائی کی شرح سے زیادہ نہیں بڑھا رہیں، تاہم فیڈرل اینٹی مونوپولی سروس (FAS) اور اس کے علاقائی دفاتر کو قیمتوں کی سخت نگرانی کرنی چاہیے۔
انہوں نے تسلیم کیا کہ ڈرون حملوں کے باعث بعض آئل ریفائنریاں جزوی طور پر بند ہونے سے ایندھن کی مارکیٹ میں مشکلات پیدا ہوئی ہیں، جس کے باعث بعض علاقوں میں قلت، قطاریں اور پٹرول پمپس پر سپلائی میں تعطل دیکھا جا رہا ہے۔
الیگزینڈر نوواک نے مزید کہا کہ روسی حکام آئل ریفائنریوں کی سکیورٹی مزید مضبوط بنانے کے لیے تمام ضروری اقدامات کر رہے ہیں تاکہ مستقبل میں ایسے حملوں کے اثرات کو کم سے کم کیا جا سکے۔









