اغوا اور زیادتی کیس : غیر ملکی خاتون کے دفعہ 164 کے بیان میں رضا ڈار سے متعلق تہلکہ خیز انکشافات

لاہور(وائس آف رشیا) غیر ملکی خواتین کے اغوا اور زیادتی کیس میں متاثرہ خاتون نے تہلکہ خیز انکشافات کرتے ہوئے کہا رضا ڈار ہمیشہ کہتا تھا کہ وہ پاکستان کے وزیر کا بیٹا ہے، پاکستان آنے پر رضا ڈار بار بار مجھ سے کمپوٹر اور رقم کا پوچھتا رہا، دھمکی دی گئی اگر رقم نہ ملی تو ہمیں قتل کیا جاسکتا ہے۔

تفصیلات کے مطابق لاہور میں غیر ملکی خواتین کے اغوا اور مبینہ جنسی زیادتی کے ہائی پروفائل مقدمے میں ایک بڑا بریک تھرو سامنے آیا، متاثرہ غیر ملکی خاتون آسٹریڈ گیبرئیل نے مجسٹریٹ کے سامنے دفعہ 164 کے تحت اپنا تفصیلی بیان ریکارڈ کرا دیا۔

متاثرہ خاتون نے اپنے بیان میں وحشیانہ تشدد اور جنسی زیادتی کی تصدیق کر دی، اپنے بیان میں واقعے کا پس منظر بتاتے ہوئے خاتون نے انکشاف کیا کہ مرکزی ملزم رضا ڈار سے ان کی ملاقات سنگاپور میں ایک کرپٹو کرنسی ایونٹ کے دوران ہوئی تھی۔

خاتون نے بتایا کہ رضا ڈار پر اعتماد کیا کیونکہ وہ ہمیشہ یہ دعویٰ کرتا تھا کہ وہ پاکستان کے وزیر علی ڈار کا بیٹا ہے اور اس کے واٹس ایپ پر پاکستان کے ایک سابق وزیراعظم کے ساتھ تصویر بھی لگی ہوئی تھی، جس کی وجہ سے انہوں نے اس پر بھروسہ کر کے اپنی ساتھی ‘سٹیفنی’ کے ساتھ مل کر کاروبار شروع کیا اور اس کے لیے مستعدی سے کام کیا۔

آسٹریڈ گیبرئیل کا کہنا تھا کہ پاکستان پہنچنے پر ایک نامعلوم گھر لے جایا گیا، جہاں ہم دونوں خواتین کو باندھ کر دو راتیں ایک گھر میں قید رکھا گیا جہاں موجود لوگ مسلسل نازیبا حرکات کرتے رہے۔

ملزم رضا ڈار بار بار کمپیوٹر اور رقم کا پوچھتا رہا، وہاں موجود لوگ کانچ دکھا کر جسم کے ٹکڑے کرنے اور رقم نہ ملنے پر قتل کرنے کی دھمکیاں دیتے رہے۔

متاثرہ غیر ملکی خاتون نے تصدیق کی کہ قید کے دوران دو افراد نے انہیں جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا۔

خاتون کے مطابق ملزم رضا ڈار نے ان کے ہی فون سے تمام کانٹیکٹس کو رقم کے لیے میسجز بھیجے لیکن کسی نے جواب نہ دیا، بعد ازاں، سٹیفنی کی والدہ نے 1 لاکھ ڈالر کا انتظام کیا، آخری روز رضا ڈار نے کہا کہ “ساری رقم مجھے مل چکی ہے اور اب تم آزاد ہو”، جس کے بعد رضا ڈار نے مجھےاور سٹیفنی کو کار میں بٹھایا اور گھر سے باہر لے آیا، اس نے کار میں پاسپورٹ بھی ہمارے حوالے کر دیے

رضا ڈار ہمیں ایئر پورٹ لے جا رہا تھا اور مسلسل کسی سے بات کر رہا تھا، دوسری جانب سے اسے کہا گیا باس کی ہدایات توکچھ اور ہیں ، اسی دوران گاڑی کسی سےٹکرائی تو میں نےاور سٹیفنی نے گاڑی سےچھلانگ لگادی، ہم نے باہر نکلتے ہی مدد کے لیے چیخنا شروع کر دیا۔

متاثرہ خاتون نے پولیس کے رویے کے حوالے سے بھی بڑا انکشاف کرتے ہوئے بتایا کہ “ہماری چیخ و پکار سن کر وہاں موجود لوگوں نے ایک ٹریفک پولیس اہلکار کو بلوایا، ٹریفک پولیس والوں نے ہمیں گاڑی میں بٹھایا اور کہا کہ ایئرپورٹ چلتے ہیں، مگر ان کی نیت کچھ اور تھی۔ راستے میں انہوں نے گاڑی روک کر بہانہ بنایا کہ گاڑی خراب ہو گئی ہے۔ ہمیں شک ہوا تو ہم اس گاڑی سے بھی نکل کر بھاگ کھڑے ہوئے۔”

آسٹریڈ گیبرئیل نے اپنے بیان کے آخر میں بتایا کہ فرار ہونے کے بعد خوش قسمتی سے وہاں ایک اور پولیس کی گاڑی آئی جس میں خاتون اہلکار بھی موجود تھیں، “اصلی پولیس کے آنے کے بعد ہم نے خود کو محفوظ محسوس کیا”۔

عدالتی ذرائع کا کہنا ہے کہ متاثرہ خاتون کے اس تفصیلی اور سنگین بیان کے بعد مقدمے کی نوعیت انتہائی حساس ہو گئی ہے اور ملوث ملزمان کے خلاف گھیرا مزید تنگ کر دیا گیا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں