نئی دہلی (وائس آف رشیا) روس نے انکشاف کیا ہے کہ اس وقت 70 ہزار سے زائد بھارتی شہری روس کے مختلف شعبوں میں ملازمت کر رہے ہیں، جبکہ روسی علاقوں اور کاروباری اداروں میں بھارتی افرادی قوت کی طلب مسلسل بڑھ رہی ہے۔
روس کے قائم مقام ناظم الامور رومان بابوشکن نے نئی دہلی میں لیبر موبیلیٹی فورم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ روس اور بھارت کے درمیان افرادی قوت کے تبادلے کے شعبے میں تعاون تیزی سے فروغ پا رہا ہے اور موجودہ اندازوں کے مطابق 70 ہزار سے زیادہ بھارتی شہری روس میں کام کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ روس میں بھارتی کارکنوں کی مانگ زراعت، تعمیرات، ہاؤسنگ و یوٹیلیٹیز، کان کنی، تیل و گیس، ریلوے، دھات سازی، جہاز سازی، ٹیکسٹائل، دواسازی، صحت، انفارمیشن ٹیکنالوجی، سروس سیکٹر اور دیگر متعدد شعبوں میں موجود ہے۔
رومان بابوشکن کے مطابق افرادی قوت کی نقل و حرکت روس اور بھارت کے درمیان تعاون کا نسبتاً نیا شعبہ ہے، تاہم مستقبل میں یہ دونوں ممالک کے خصوصی اور اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے اور تجارتی و اقتصادی تعلقات کو وسعت دینے میں اہم کردار ادا کرے گا۔
انہوں نے یاد دلایا کہ دسمبر 2025 میں روسی صدر ولادیمیر پوتن کے دورۂ بھارت کے دوران دونوں ممالک نے غیر قانونی ہجرت کی روک تھام اور ایک دوسرے کے شہریوں کی عارضی ملازمت سے متعلق دو بین الحکومتی معاہدوں پر دستخط کیے تھے۔
انہوں نے کہا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ افرادی قوت کے تبادلے کے عمل کو مزید منظم، شفاف اور مؤثر بنانے کے لیے ایک خصوصی رابطہ نظام قائم کیا جائے اور بھارتی شہریوں کی منظم بھرتی سے متعلق نئے قانونی فریم ورک پر بھی کام آگے بڑھایا جائے۔
فورم میں روسی وزارت داخلہ، روسی تجارتی مشن، اسکولکوو فاؤنڈیشن، انٹرود اور سینرجی یونیورسٹی کے نمائندوں نے بھی شرکت کی۔ روسی حکام نے اس موقع پر کہا کہ روسی کمپنیوں اور مختلف خطوں میں بھارتی ماہرین اور ہنرمند کارکنوں کی بڑھتی ہوئی ضرورت دونوں ممالک کے درمیان لیبر تعاون کو نئی جہت دے رہی ہے۔









