ماسکو(وائس آف رشیا) روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے کہا ہے کہ دنیا تیزی سے کثیر قطبی عالمی نظام (Multipolar World Order) کی جانب بڑھ رہی ہے، جبکہ مغربی طاقتیں اپنی کمزور ہوتی بالادستی کو برقرار رکھنے کے لیے دباؤ، پابندیوں، دھمکیوں اور طاقت کے استعمال سمیت ہر ممکن ذریعہ اختیار کر رہی ہیں۔
ماسکو میں منعقدہ بین الاقوامی فورم “پریماکوف ریڈنگز 2026” سے خطاب کرتے ہوئے لاوروف نے کہا کہ روس کے معروف سفارتکار یوجینی پریماکوف نے تین دہائیاں قبل ہی پیش گوئی کر دی تھی کہ دنیا یک قطبی نظام سے نکل کر ایک زیادہ منصفانہ اور کثیر قطبی عالمی ڈھانچے کی طرف بڑھے گی، اور آج عالمی حالات اس پیش گوئی کی تصدیق کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ مغربی ممالک اقوام متحدہ کے چارٹر میں درج اصولوں، خصوصاً ریاستوں کی خودمختاری، عدم مداخلت اور اقوام کے حقِ خودارادیت کو اپنے مفادات کے مطابق استعمال کرتے ہیں۔ لاوروف نے کریمیا اور کوسووو کی مثال دیتے ہوئے مغرب پر “دوہرے معیار” اپنانے کا الزام بھی عائد کیا۔
یوکرین بحران کا سیاسی حل اب بھی ممکن ہے
روسی وزیر خارجہ نے کہا کہ روس اب بھی یوکرین بحران کے سیاسی اور سفارتی حل پر یقین رکھتا ہے، تاہم اس کے لیے روس کی سلامتی کی ضمانتیں، مغرب کی جانب سے فوجی توسیع پسندی کا خاتمہ اور یوکرین میں روسی زبان، روسی ثقافت، روسی میڈیا اور آرتھوڈوکس چرچ کے حقوق کا تحفظ ناگزیر ہے۔
انہوں نے کہا کہ روسی صدر ولادیمیر پوتن متعدد بار واضح کر چکے ہیں کہ مذاکرات کے دروازے بند نہیں ہیں، لیکن روس کسی قسم کے دباؤ یا “سرنڈر” پر مبنی شرائط قبول نہیں کرے گا۔
یورپ پر شدید تنقید
لاوروف نے برطانیہ، فرانس اور جرمنی سمیت یورپی ممالک کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ یورپی قیادت یوکرین کو ہتھیار فراہم کرنے اور روس پر دباؤ بڑھانے کی پالیسی پر گامزن ہے، جبکہ مذاکرات کی بات بھی کرتی ہے۔
انہوں نے الزام لگایا کہ یورپی یونین نے روسی اثاثے منجمد کر کے ان سے حاصل ہونے والی آمدنی یوکرین کو منتقل کی، جو بین الاقوامی مالیاتی نظام پر اعتماد کو نقصان پہنچانے کے مترادف ہے۔
لاوروف نے دوٹوک انداز میں کہا کہ روس اب اپنی خارجہ پالیسی یورپ کے وعدوں یا توقعات پر استوار نہیں کرے گا۔
ایران اور مشرقِ وسطیٰ کے حوالے سے روسی مؤقف
روسی وزیر خارجہ نے ایران اور امریکہ کے درمیان جاری سفارتی کوششوں کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ روس جنگ بندی، مذاکرات اور خلیج فارس میں کشیدگی کے خاتمے کی حمایت کرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ماسکو ایران اور امریکہ کے درمیان طویل المدتی اور جامع معاہدے کے لیے معاون کردار ادا کرنے کو بھی تیار ہے۔ لاوروف کے مطابق خلیج فارس میں اجتماعی سلامتی کے لیے روس نے ایک نیا تصوراتی منصوبہ بھی علاقائی ممالک کے سامنے پیش کیا ہے۔
فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت
سرگئی لاوروف نے کہا کہ مشرقِ وسطیٰ میں پائیدار امن اُس وقت تک ممکن نہیں جب تک فلسطینی عوام کے ساتھ ہونے والی تاریخی ناانصافی کا ازالہ نہیں کیا جاتا۔
انہوں نے زور دیا کہ فلسطینیوں کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق ایک آزاد اور قابلِ عمل ریاست کے قیام کا حق حاصل ہونا چاہیے، جبکہ اسرائیل کی جائز سلامتی کو بھی یقینی بنایا جانا چاہیے۔
روس، چین اور بھارت عالمی توازن کی اہم قوتیں
لاوروف نے روس اور چین کے تعلقات کو مساوات اور باہمی احترام پر مبنی شراکت داری کی بہترین مثال قرار دیتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کا تعاون عالمی استحکام میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔
انہوں نے بھارت کے ساتھ روس کے “خصوصی اور ممتاز اسٹریٹجک تعلقات” کا بھی ذکر کیا اور روس، چین اور بھارت کے سہ فریقی تعاون (RIC) کو مزید فعال بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔
BRICS اور SCO کی اہمیت میں اضافہ
روسی وزیر خارجہ نے کہا کہ BRICS اور شنگھائی تعاون تنظیم (SCO) آج کے کثیر قطبی عالمی نظام کی حقیقی نمائندگی کرتے ہیں، جہاں فیصلے مساوات، احترام اور اتفاقِ رائے کی بنیاد پر کیے جاتے ہیں۔
ان کے مطابق BRICS کی بڑھتی ہوئی مقبولیت اور اس میں شامل ہونے کے خواہشمند ممالک کی تعداد اس بات کا ثبوت ہے کہ دنیا مغرب کے زیرِ قیادت روایتی نظام کے متبادل کی تلاش میں ہے۔
یوریشیا کے لیے نئی سلامتی و تعاون کی تجویز
لاوروف نے روسی صدر ولادیمیر پوتن کے “گریٹر یوریشین پارٹنرشپ” اور یوریشین سلامتی کے نئے تصور کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یوریشیا دنیا کا واحد بڑا براعظم ہے جہاں متعدد علاقائی تنظیمیں تو موجود ہیں لیکن پورے براعظم پر محیط کوئی مشترکہ پلیٹ فارم نہیں۔
انہوں نے کہا کہ روس ایک ایسے جامع یوریشین نظام کے قیام کا خواہاں ہے جو تمام ممالک کے لیے مشترکہ خوشحالی، استحکام اور سلامتی کو یقینی بنا سکے۔
اپنے خطاب کے اختتام پر سرگئی لاوروف نے کہا کہ کثیر قطبی دنیا انتشار یا محاذ آرائی کا نام نہیں بلکہ مختلف طاقتوں کے درمیان توازن، بین الاقوامی قانون کے احترام اور باہمی مفادات پر مبنی تعاون کا ایک نیا ماڈل ہے۔ ان کے بقول دنیا تیزی سے اسی سمت میں آگے بڑھ رہی ہے اور روس اس عمل میں فعال کردار ادا کرتا رہے گا۔









