صدر پوتن نے روسی تیل پر مغربی پرائس کیپ مسترد، برآمدی پابندی 2027 کے آخر تک بڑھا دی

ماسکو(وائس آف رشیا) روسی صدر ولادیمیر پوتن نے جی سیون (G7) اور یورپی یونین کی جانب سے روسی تیل پر عائد پرائس کیپ (Price Cap) کے جواب میں نافذ کردہ جوابی پابندیوں میں توسیع کرتے ہوئے روسی تیل اور پیٹرولیم مصنوعات کی ان ممالک کو برآمد پر پابندی 31 دسمبر 2027 تک بڑھا دی ہے۔

صدارتی فرمان کے مطابق روسی تیل یا پیٹرولیم مصنوعات کسی بھی ایسے غیر ملکی فرد یا کمپنی کو فروخت نہیں کی جائیں گی، جن کے معاہدوں میں براہِ راست یا بالواسطہ مغربی ممالک کے مقرر کردہ پرائس کیپ نظام کو تسلیم کیا گیا ہو۔

فرمان میں واضح کیا گیا ہے کہ یہ پابندی سپلائی چین کے ہر مرحلے پر نافذ ہوگی اور آخری خریدار تک اس کا اطلاق برقرار رہے گا تاکہ روسی تیل کی فروخت مغربی قیمت کی حد کے تحت نہ ہو سکے۔

اس سے قبل یہ پابندی 30 جون 2026 تک نافذ تھی، تاہم نئے صدارتی حکم کے بعد اس میں مزید ڈیڑھ سال سے زائد کی توسیع کر دی گئی ہے۔

واضح رہے کہ روس نے یہ جوابی اقدامات پہلی مرتبہ یکم فروری 2023 کو متعارف کرائے تھے، جب جی سیون اور یورپی یونین نے روسی خام تیل کی برآمدات پر قیمت کی حد مقرر کی تھی۔ اس کے بعد روس متعدد بار اس پابندی کی مدت میں توسیع کر چکا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں