ماسکو (وائس آف رشیا) پاکستان کے سفیر فیصل نیاز ترمذی کی میزبانی میں پاکستان ہاؤس ماسکو میں عظیم شاعر فیض احمد فیض کی یاد میں منیزہ ہاشمی کی کتاب “Conversation with My Father” کی پروقار تقریبِ رونمائی منعقد ہوئی، جس میں پاکستان کی آئینی عدالت کے چیف جسٹس جسٹس امین الدین خان، سعودی عرب، لبنان، سوئٹزرلینڈ، اردن اور ملائیشیا کے سفرا، روسی وزارتِ خارجہ کے عہدیداران، روسی دانشوروں، پاکستانی کمیونٹی روس کےصدر ملک شہباز، منسٹرٹریڈ شبانہ ممتاز اور اردو زبان سیکھنے والے روسی طلبہ نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔
تقریب کا آغاز ڈپٹی ہیڈ آف مشن گیان چند نے کیا، جنہوں نے مہمانوں کو خوش آمدید کہا اور تقریب کے اغراض و مقاصد پر روشنی ڈالی۔
اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے پاکستان کے سفیر فیصل نیاز ترمذی نے کہا کہ فیض احمد فیض صرف پاکستان ہی نہیں بلکہ پوری دنیا کے شاعر ہیں، جن کا پیغام محبت، امن، انسان دوستی اور سماجی انصاف ہے۔ انہوں نے کہا کہ منیزہ ہاشمی کی کتاب ایک بیٹی کی اپنے والد سے محبت، عقیدت اور جذبات کا خوبصورت اظہار ہے، جو نئی نسل کو فیض احمد فیض کی شخصیت، فکر اور انسانی پہلوؤں سے روشناس کرائے گی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ہاؤس ماسکو آئندہ بھی ادب، ثقافت اور عوامی روابط کے فروغ کے لیے ایسی تقریبات کا انعقاد جاری رکھے گا تاکہ پاکستان کا مثبت اور روشن تشخص مزید اجاگر ہو۔
کتاب کی مصنفہ اور فیض احمد فیض کی صاحبزادی منیزہ ہاشمی نے اپنے خطاب میں کہا کہ “Conversation with My Father” دراصل ان یادوں، خطوط اور جذبات کا تسلسل ہے جو ان کے والد کے ساتھ ان کے تعلق کی عکاسی کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ فیض احمد فیض صرف ایک عظیم شاعر، صحافی اور دانشور ہی نہیں بلکہ ایک نہایت شفیق، محبت کرنے والے اور مثالی والد بھی تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس کتاب کے ذریعے انہوں نے کوشش کی ہے کہ اپنے والد سے وابستہ احساسات، یادیں اور ان کی شخصیت کے وہ پہلو قارئین تک پہنچائیں جو انہیں ایک عظیم شاعر کے ساتھ ساتھ ایک بہترین انسان اور باپ کے طور پر بھی متعارف کراتے ہیں۔
تقریب سے روس کی معروف ادیبہ اور مترجم لڈمیلا نے بھی خطاب کیا، جنہوں نے فیض احمد فیض کے کلام کو روسی زبان میں متعارف کرانے میں نمایاں کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ انہیں تقریباً سترہ برس تک فیض احمد فیض سے رابطے اور ملاقاتوں کا شرف حاصل رہا۔ لڈمیلا نے کہا کہ فیض احمد فیض نہایت شفیق، باوقار اور انسان دوست شخصیت کے مالک تھے، جبکہ ان کی شاعری صرف اردو ادب تک محدود نہیں بلکہ پوری انسانیت کے جذبات، امن اور محبت کی ترجمان ہے۔ انہوں نے کہا کہ روس میں آج بھی فیض کا کلام بے حد مقبول ہے اور نوجوان نسل بڑی دلچسپی سے اسے پڑھتی اور سمجھنے کی کوشش کرتی ہے۔
تقریب کا ایک یادگار منظر اُس وقت دیکھنے میں آیا جب اردو زبان سیکھنے والے روسی طلبہ نے نہایت خوبصورتی سے فیض احمد فیض کا کلام پیش کیا، جسے حاضرین نے بھرپور داد دی۔
اس موقع پر کتاب کی باقاعدہ رونمائی بھی کی گئی جبکہ شرکاء نے فیض احمد فیض کی ادبی خدمات، عالمی امن کے لیے ان کے پیغام اور پاکستان کے ثقافتی ورثے کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا۔
تقریب کے اختتام پر پاکستان کے سفیر فیصل نیاز ترمذی، منیزہ ہاشمی، پاکستان کمیونٹی روس کے صدر ملک شہباز اور دیگر شخصیات نے میڈیا سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اس نوعیت کی ادبی اور ثقافتی سرگرمیاں پاکستان اور روس کے عوام کے درمیان دوستی، ثقافتی روابط اور باہمی تعاون کو مزید مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔
فیض احمد فیض کی شاعری آج بھی سرحدوں، زبانوں اور ثقافتوں کی حدود سے بالاتر ہو کر محبت، امن اور انسان دوستی کا پیغام دے رہی ہے، جبکہ ماسکو میں منعقد ہونے والی یہ تقریب اس حقیقت کا واضح ثبوت بنی کہ روس میں بھی فیض احمد فیض کا نام، ان کا فکر اور ان کا کلام آج بھی اسی طرح زندہ، مؤثر اور مقبول ہے۔


























