آستانہ (وائس آف رشیا) روسی صدر ولادیمیر پوتن نے کہا ہے کہ مصنوعی ذہانت مستقبل کی عالمی معیشت، ٹیکنالوجی اور ترقی کا اہم ترین میدان بن چکی ہے، جبکہ اس شعبے میں قیادت حاصل کرنے کے لیے ریاستوں اور بڑی بین الاقوامی کمپنیوں کے درمیان سخت مقابلہ جاری ہے۔
انہوں نے یہ بات قازقستان کے دارالحکومت آستانہ میں منعقدہ پانچویں یوریشین اقتصادی فورم کے پلینری اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ فورم کا موضوع “عالمی ڈیجیٹل دوڑ میں یوریشین اقتصادی یونین، مصنوعی ذہانت پر توجہ” تھا۔
یوریشین اقتصادی فورم میں رکن ممالک کے رہنماؤں، بین الاقوامی تنظیموں کے نمائندوں، کاروباری شخصیات، ماہرین اور مالیاتی اداروں کے سربراہان نے شرکت کی۔ فورم کے دوران اقتصادی تعاون، ڈیجیٹلائزیشن، جدید ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت کے مختلف پہلوؤں پر تقریباً 30 خصوصی سیشنز منعقد کیے گئے۔
اپنے خطاب میں صدر ولادیمیر پوتن نے قازق صدر قاسم جومارت توقایف کا شکریہ ادا کرتے ہوئے فورم کے انعقاد کو اہم اور مؤثر قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ یوریشین اقتصادی فورم حکومتوں، کاروباری اداروں اور ماہرین کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کر کے مشترکہ ترقی کے نئے مواقع پیدا کر رہا ہے۔
صدر پوتن نے کہا کہ یوریشین اقتصادی یونین میں پہلے ہی تجارت، ڈیجیٹل کامرس، لیبر مارکیٹ اور ڈیٹا ایکسچینج کے شعبوں میں مشترکہ ڈیجیٹل نظام متعارف کرائے جا چکے ہیں، جبکہ مصنوعی ذہانت اب باہمی تعاون کا ایک نیا مگر انتہائی اہم میدان بن چکی ہے۔
انہوں نے کہا کہ مصنوعی ذہانت ایک اسٹریٹجک ٹیکنالوجی ہے جو عالمی مسابقت، اقتصادی ترقی اور جدید پیش رفت کا بنیادی عنصر بنتی جا رہی ہے۔
روسی صدر نے کہا کہ روس کو اس میدان میں کئی اہم برتریاں حاصل ہیں، جن میں مضبوط تعلیمی نظام، سائنسی صلاحیت، ماہر افرادی قوت، توانائی کے وسیع وسائل اور مصنوعی ذہانت کے لیے درکار مالی وسائل شامل ہیں۔
انہوں نے کہا کہ مصنوعی ذہانت کی ترقی کے لیے بے پناہ توانائی درکار ہوتی ہے اور روس ایٹمی توانائی، ہائیڈرو پاور اور روایتی توانائی کے شعبوں میں مضبوط بنیاد رکھتا ہے، جو اسے اس میدان میں نمایاں مقام دیتا ہے۔
صدر پوتن نے خبردار کیا کہ مصنوعی ذہانت مستقبل میں عالمی لیبر مارکیٹ کو مکمل طور پر تبدیل کر سکتی ہے، جہاں لاکھوں افراد کو اپنا پیشہ تبدیل کرنا پڑ سکتا ہے جبکہ کئی روایتی نوکریاں ختم ہونے کا امکان بھی موجود ہے۔
انہوں نے کہا کہ آنے والے وقت میں کمپیوٹرائزڈ ذہانت کئی شعبوں میں انسانوں کی جگہ لے سکتی ہے۔ یہ عمل ناگزیر ہے، اس لیے ضروری ہے کہ ہم ان تبدیلیوں کے لیے تیار رہیں اور انہیں اقتصادی ترقی کے نئے مواقع میں تبدیل کریں۔
صدر پوتن نے روس میں صحت، تعلیم اور دیگر شعبوں میں مصنوعی ذہانت کے استعمال کی مثالیں دیتے ہوئے کہا کہ ماسکو میں ایمبولینس سروس اور اسپتالوں میں جدید اے آئی نظام مریضوں کے علاج اور فیصلہ سازی کے عمل کو تیز اور مؤثر بنا رہے ہیں۔
انہوں نے اعلان کیا کہ روس کی جانب سے مصنوعی ذہانت کے شعبے میں بین الاقوامی تعاون کو فروغ دینے کے لیے ایک عالمی اتحاد قائم کیا گیا ہے، جبکہ آئندہ سال روس میں مصنوعی ذہانت پر اعلیٰ سطحی بین الاقوامی اجلاس منعقد کرنے کی تجویز بھی پیش کی گئی ہے۔
پلینری اجلاس کے بعد صدر ولادیمیر پوتن اور دیگر وفود نے “یوریشین اقتصادی یونین میں مصنوعی ذہانت کی ترقی” کے عنوان سے منعقدہ خصوصی نمائش کا بھی دورہ کیا، جہاں مختلف ممالک کی جانب سے ڈیجیٹل ٹیکنالوجی اور اے آئی کے شعبوں میں کامیاب منصوبے پیش کیے گئے۔
سیاسی و اقتصادی ماہرین کے مطابق آستانہ میں ہونے والا یہ فورم یوریشین خطے میں مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل معیشت اور جدید ٹیکنالوجی کے فروغ کے حوالے سے ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔









