ایران کے سپریم لیڈر علی خامنہ ای مارے جا چکے ہیں، ٹرمپ

واشنگٹن (وائس آف رشیا) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے سپریم لیڈر خامنہ ای انٹیلی جنس اور نہایت جدید ٹریکنگ سسٹمز سے بچنے میں ناکام رہے اور اسرائیل کے ساتھ قریبی تعاون کے باعث وہ یا ان کے ساتھ مارے جانے والے دیگر رہنما کوئی مؤثر اقدام نہ کر سکے۔
ٹروتھ سوشل پر جاری بیان میں امریکی صدر نے کہا کہ ایران کے سپریم لیڈر علی خامنہ ای مارے جا چکے ہیں، یہ اقدام نہ صرف ایرانی عوام بلکہ عظیم امریکی قوم اور دنیا کے ان تمام لوگوں کیلئے انصاف ہے جو خامنہ ای اور ان کے ساتھیوں کے ہاتھوں قتل یا معذور ہوئے۔

امریکی صدر نے اس عمل کو ایرانی عوام کیلئے اپنے ملک کو واپس لینے کا سب سے بڑا موقع قرار دیا اور دعویٰ کیا کہ ایران کے انقلابی گارڈ، فوج اور دیگر سکیورٹی و پولیس اداروں کے بہت سے اہلکار اب لڑنے کے خواہاں نہیں اور امریکا سے استثنیٰ کے طلبگار ہیں۔

ٹرمپ کا کہنا تھا کہ وہ اب استثنیٰ حاصل کر سکتے ہیں، بعد میں انہیں صرف موت ملے گی، انقلابی گارڈ اور پولیس پرامن طور پر ایرانی محب وطن عناصر کے ساتھ ضم ہو کر ملک کو اُس عظمت کی طرف واپس لے جائیں گے جس کا وہ مستحق ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ خامنہ ای کی موت کے بعد ملک کو صرف ایک دن میں شدید نقصان پہنچا بلکہ تباہی کے قریب کر دیا گیا ہے، بمباری کا سلسلہ پورا ہفتہ یا جب تک ضروری ہوا جاری رہے گا تاکہ مشرق وسطیٰ سمیت پوری دنیا میں امن کا مقصد حاصل کیا جا سکے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں