ماسکو (وائس آف رشیا): پاکستان میں روس کے سفیر البرٹ پی خوروف نے کہا ہے کہ روس اور پاکستان کے درمیان سیکیورٹی، انسدادِ دہشت گردی، توانائی، تجارت، تعلیم اور عالمی سفارتی فورمز میں تعاون کو مزید فروغ دیا جا رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس وقت دونوں ممالک کی ترجیح خطے کے امن و استحکام، دہشت گردی کے خلاف مشترکہ اقدامات اور اقوامِ متحدہ و شنگھائی تعاون تنظیم سمیت کثیرالجہتی پلیٹ فارمز پر قریبی رابطہ ہے، جبکہ علاقائی سطح پر بھی تعاون کے امکانات روشن ہیں، جہاں روس کے مختلف خطے اور پاکستان کے صوبے پنجاب اور سندھ باہمی شراکت داری میں دلچسپی ظاہر کر چکے ہیں۔ روسی سفیر کے مطابق تعلیم، سائنس اور ثقافت کے شعبوں میں روابط کو مضبوط بنانے پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے، جس میں پاکستان میں روسی زبان کے فروغ، مشترکہ سائنسی کانفرنسوں اور ثقافتی و کھیلوں کی سرگرمیوں کا انعقاد شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئندہ برسوں میں دوطرفہ تجارت بڑھانے، متبادل مالیاتی نظام متعارف کرانے اور بڑے مشترکہ منصوبوں پر کام کیا جائے گا، جن میں پاکستان اسٹیل ملز کی بحالی، روس اور پاکستان کے درمیان ریل رابطوں کا قیام، پن بجلی کے منصوبے اور انسولین سمیت ادویات کی مشترکہ تیاری شامل ہے۔ سفیر نے مزید بتایا کہ پاکستان نے تیل کی تلاش اور پیداوار کے شعبے میں روس کے ساتھ تعاون میں دلچسپی ظاہر کی ہے اور روس پاکستان کو توانائی کے شعبے میں خود کفالت بڑھانے میں مدد فراہم کرنے کے لیے تیار ہے، جبکہ ماضی میں سوویت یونین کے کردار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس نے پاکستان کی آئل اینڈ گیس ڈیولپمنٹ کمپنی کے قیام اور متعدد تیل و گیس کے ذخائر کی دریافت میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ انہوں نے شنگھائی تعاون تنظیم میں پاکستان کے مثبت کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ علاقائی سیکیورٹی، دہشت گردی اور منظم جرائم کے خلاف جدوجہد دونوں ممالک کی مشترکہ ترجیح ہے، جبکہ روس پاکستان کی برکس میں شمولیت میں دلچسپی کو خوش آئند سمجھتا ہے اور نیو ڈیولپمنٹ بینک میں شمولیت کو اس سمت میں ایک عملی قدم قرار دیتا ہے۔









