ماسکو:(شاہد گھمن سے) افغانستان سے متعلق ماسکو فارمیٹ مشاورت کا آٹھواں اجلاس روسی دارالحکومت ماسکو میں منعقد ہوا، جس میں پاکستان، افغانستان اور خطے کے دیگر ممالک کے نمائندوں نے علاقائی امن، سلامتی، انسداد دہشت گردی، اقتصادی تعاون اور افغانستان کی انسانی صورتِ حال پر تبادلہ خیال کیا۔
پاکستان کی نمائندگی وزیراعظم کے معاونِ خصوصی اور افغانستان کے لیے خصوصی نمائندے سفیر محمد صادق کی قیادت میں اعلیٰ سطحی وفد نے کی۔
پاکستانی وفد میں روس میں پاکستان کے سفیر فیصل نیاز ترمذی، افغانستان میں پاکستان کے سفیر عبیدالرحمان نظامانی اور دیگر اعلیٰ حکام بھی شامل تھے۔

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے اجلاس کا افتتاح کرتے ہوئے کہا کہ ماسکو فارمیٹ 2016 سے کام کررہا ہے اور اس میں وہ ممالک شامل ہیں جو افغان عوام کے ساتھ مساوی اور باہمی مفاد پر مبنی شراکت داری چاہتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ پلیٹ فارم افغانستان کی موجودہ صورتِ حال اور کابل کے لیے بین الاقوامی تعاون کے معاملات پر افغان نمائندوں کے ساتھ براہِ راست اور مشترکہ بات چیت کا موقع فراہم کرتا ہے۔
افغان حکومت ملک کا انتظام کامیابی سے چلا رہی ہے، لاوروف
سرگئی لاوروف نے کہا کہ اگست 2026 میں افغانستان سے مغربی افواج کے انخلا کو پانچ سال مکمل ہوئے۔ ان کے مطابق طالبان کی قیادت میں قائم افغان حکومت نے ملک کے بیشتر علاقوں پر کنٹرول قائم کیا اور مجموعی طور پر ملک کا انتظام کامیابی سے چلا رہی ہے۔
روسی وزیر خارجہ نے کہا کہ افغان سکیورٹی فورسز داعش اور دیگر دہشت گرد تنظیموں کے خلاف کارروائیاں کررہی ہیں۔ ان کارروائیوں میں سیکڑوں جنگجوؤں کو ہلاک کیا گیا اور غیر ملکی شہریوں اور سفارتی مشنز کے خلاف متعدد بڑے دہشت گرد حملے ناکام بنائے گئے۔
انہوں نے کہا کہ خطے کے ممالک کے مشترکہ مفاد میں ہے کہ کابل کی انسداد دہشت گردی کی صلاحیت مضبوط کی جائے۔ اس مقصد کے لیے افغانستان کو تکنیکی سامان، ماہرانہ معاونت اور انٹیلی جنس و سکیورٹی اداروں کے درمیان روابط فراہم کیے جانے چاہئیں۔
افغانستان میں افیون کی پیداوار میں 90 فیصد کمی
سرگئی لاوروف نے افغان حکومت کی جانب سے منشیات کی غیر قانونی تجارت روکنے کے اقدامات کو مثبت قرار دیا۔
انہوں نے اقوام متحدہ کے دفتر برائے منشیات و جرائم کے ماہرین کے اعدادوشمار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ 2022 سے افغانستان میں افیون کی پیداوار میں 90 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔
افغان معیشت اور علاقائی منصوبے
روسی وزیر خارجہ کے مطابق مغربی پابندیوں اور افغانستان کے قومی مالیاتی اثاثے منجمد کیے جانے کے باوجود افغان معیشت ترقی کررہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ افغان حکومت نے ترکمانستان، افغانستان، پاکستان اور بھارت کو ملانے والے تاپی گیس پائپ لائن منصوبے سمیت علاقائی توانائی منصوبوں سے وابستگی کی تصدیق کی ہے۔
سرگئی لاوروف نے بتایا کہ افغانستان میں ٹیکس اصلاحات کی گئی ہیں، بدعنوانی کے خلاف قوانین مضبوط کیے گئے اور صنعتی سرگرمیوں کو بحال کیا گیا ہے۔
سرکاری اعدادوشمار کے مطابق افغانستان میں تقریباً 170 نئے پیداواری یونٹس قائم کیے گئے ہیں، جبکہ بجلی کے شعبے کی ترقی کے لیے پانچ سالہ منصوبہ بھی تیار کیا گیا ہے۔
روسی وزیر خارجہ نے کہا کہ افغانستان دنیا کے 100 سے زائد ممالک کے ساتھ تجارت کررہا ہے اور 2025 میں اس کی بیرونی تجارت کا حجم بڑھ کر 14 ارب ڈالر تک پہنچ گیا۔
دو کروڑ 20 لاکھ افغانوں کو انسانی امداد درکار
سرگئی لاوروف نے افغانستان کی انسانی صورتِ حال کو بدستور مشکل قرار دیتے ہوئے کہا کہ اقوام متحدہ کے مطابق آنے والے موسم سرما میں ایک کروڑ 70 لاکھ سے زائد افغان شہریوں کو خوراک کی کمی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ افغانستان میں انسانی امداد کے ضرورت مند افراد کی مجموعی تعداد دو کروڑ 20 لاکھ تک پہنچنے کا خدشہ ہے۔
روسی وزیر خارجہ نے عالمی اداروں اور مختلف ممالک پر زور دیا کہ وہ افغانستان کی انسانی صورتِ حال بہتر بنانے کے لیے مشترکہ اور دوطرفہ بنیادوں پر اقدامات کریں۔

انہوں نے کہا کہ روس افغانستان کو باقاعدگی سے انسانی امداد فراہم کرتا رہے گا اور امدادی سامان کی نئی کھیپ آئندہ چند ماہ کے دوران افغانستان پہنچائی جائے گی۔
افغانستان اور ہمسایہ ممالک میں نیٹو اڈوں کی مخالفت
سرگئی لاوروف نے افغانستان یا اس کے ہمسایہ ممالک میں کسی بھی بہانے سے نیٹو کا فوجی بنیادی ڈھانچہ قائم کرنے کی سخت مخالفت کی۔
انہوں نے کہا کہ تاریخی تجربہ ظاہر کرتا ہے کہ ایسے فوجی اڈوں اور غیر ملکی فوجی موجودگی سے عدم استحکام اور تنازعات میں اضافہ ہوتا ہے۔
روسی وزیر خارجہ نے امید ظاہر کی کہ ماسکو فارمیٹ اجلاس افغانستان کو ایک آزاد اور مستحکم ریاست کے طور پر آگے بڑھانے اور پورے خطے میں امن و ہم آہنگی یقینی بنانے میں مدد دے گا۔
پاکستان نے اجلاس میں پرامن اور مستحکم افغانستان کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ مشترکہ سکیورٹی اور اقتصادی چیلنجز کے حل کے لیے خطے کے ممالک کے درمیان مسلسل اور بامقصد مذاکرات ضروری ہیں۔









