تہران:(وائس آف رشیا) روس کی سلامتی کونسل کے نائب چیئرمین دیمتری میدویدیف نے کہا ہے کہ یوکرین میں دیرپا سیاسی تصفیے کے لیے کیف کو غیر جانبدار اور غیر جوہری حیثیت اختیار کرنا، قوم پرستانہ پالیسی ترک کرنا اور روس کے چار نئے علاقوں کو تسلیم کرنا ہوگا۔
ایرانی سرکاری نشریاتی ادارے آئی آر آئی بی کو انٹرویو دیتے ہوئے دیمتری میدویدیف نے کہا کہ یوکرین تنازع کے پرامن حل کے لیے روس کی شرائط پہلے ہی واضح ہیں اور صدر ولادیمیر پوتن روسی وزارتِ خارجہ کے اعلیٰ حکام کے اجلاس میں ان شرائط کا اعلان کرچکے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ مستقل سیاسی تصفیے کے لیے یوکرین کو غیر جانبدار، غیر جوہری اور آزاد حیثیت اختیار کرنا ہوگی۔ موجودہ یوکرینی حکومت کو قوم پرستانہ پالیسی اور روسی زبان، ثقافت اور شناخت سے متعلق پابندیاں بھی ختم کرنا ہوں گی۔
دیمتری میدویدیف کے مطابق دونباس اور دیگر نئے علاقوں پر روسی خودمختاری کو تسلیم کرتے ہوئے انہیں روسی دائرۂ اختیار میں دینا ہوگا، کیونکہ ان علاقوں کی حیثیت روسی آئین میں درج ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ شرائط سفارتی تصفیے کی بنیاد بن سکتی ہیں۔ تاہم اگر ایسا نہ ہوا تو روس اپنے مقاصد فوجی ذرائع سے حاصل کرے گا۔
دیمتری میدویدیف نے کہا کہ یورپ کی جانب سے روس کو خطرہ قرار دینا اس بات کا اظہار ہے کہ روس ایک طاقت ہے اور مغربی ممالک کو اسے مدنظر رکھنا ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ روس یورپ یا مغرب کے کسی ملک کو دھمکی نہیں دے رہا۔ ماسکو مغربی ممالک کے ساتھ پرسکون تعاون اور معمول کا مکالمہ چاہتا ہے۔
روسی سلامتی کونسل کے نائب چیئرمین نے الزام عائد کیا کہ یورپی سیاست دان نام نہاد روسی خطرے کو عوامی رائے متاثر کرنے، انتخابات میں ووٹ حاصل کرنے اور دفاعی بجٹ میں اضافے کے لیے استعمال کررہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ یورپی ممالک نے خود روس کے ساتھ اقتصادی تعاون ختم کیا، پابندیاں عائد کیں اور باہمی روابط سے انکار کیا، اس لیے اب انہیں اپنے فیصلوں کے نتائج کا سامنا ہے۔
دیمتری میدویدیف نے بتایا کہ روس پر 33 ہزار سے زائد پابندیاں عائد کی جاچکی ہیں اور یہ تعداد ایران کے خلاف عائد پابندیوں کے قریب ہے۔
انہوں نے کہا کہ غیر قانونی پابندیوں کا سامنا کرنے والے روس اور ایران کو مالیاتی شعبے میں تعاون کے متبادل طریقے تلاش کرنے چاہئیں۔
دیمتری میدویدیف نے مشرق وسطیٰ میں سلامتی کی موجودہ صورتِ حال کو انتہائی خراب قرار دیتے ہوئے کہا کہ خطے میں جاری تنازع مزید ممالک کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے پر غور کرنے کی جانب لے جاسکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایران کے سیاسی نظام کو طاقت کے ذریعے تبدیل کرنے اور اسے خطے کے فعال کردار سے باہر نکالنے کی کوششوں نے مزید ممالک کو جوہری صلاحیت حاصل کرنے کے بارے میں سوچنے پر مجبور کیا ہے۔
روسی عہدیدار نے اس حوالے سے امریکی پالیسی کو غیر ذمہ دارانہ قرار دیا۔
دیمتری میدویدیف کے مطابق جغرافیائی محل وقوع اور بین الاقوامی قانون کے تناظر میں آبنائے ہرمز کی سلامتی یقینی بنانے میں ایران بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔ ایران نے امریکی دھمکیوں کا مؤثر جواب دیا ہے اور آبنائے ہرمز تہران کے لیے ایک اہم تزویراتی ذریعہ ہے۔
روسی سلامتی کونسل کے نائب چیئرمین نے کہا کہ مشرق وسطیٰ کی صورتِ حال کا اہم سبق یہ ہے کہ دنیا کو کثیر قطبی نظام کی طرف بڑھنا ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ دنیا مغربی ممالک کے یکطرفہ فیصلوں اور ان کے نام نہاد قواعد پر مبنی نظام سے تھک چکی ہے۔ عالمی معاملات میں کسی ایک طاقت کے بجائے تمام ممالک کی رائے اور مفادات کو اہمیت دی جانی چاہیے۔
دیمتری میدویدیف نے روس اور ایران کے تعلقات کو غیر معمولی اور تاریخی بلندیوں پر قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک دفاعی شعبے میں مشترکہ سرگرمیوں کو فروغ دے رہے ہیں اور ماسکو اس تعاون کو خصوصی اہمیت دیتا ہے۔









