ماسکو:(شاہد گھمن) روسی صدر ولادیمیر پوتن نے کہا ہے کہ ان کے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ کئی برسوں سے اچھے تعلقات ہیں اور وہ یوکرین تنازع کے حل کے لیے امریکی صدر کی مخلصانہ کوششوں پر ان کے شکر گزار ہیں۔
ماسکو میں والدائی انٹرنیشنل ڈسکشن کلب کے 23ویں سالانہ اجلاس سے خطاب اور شرکا کے سوالات کے جوابات دیتے ہوئے صدر ولادیمیر پوتن نے کہا کہ ان کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ تعلقات کافی اچھے اور دیرینہ ہیں۔
روسی صدر نے کہا کہ وہ یوکرین بحران کے حل کے لیے صدر ٹرمپ کی کوششوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ ان کے مطابق انہیں یقین ہے کہ امریکی صدر تنازع کے حل کے لیے اپنی کوششوں میں مخلص ہیں۔
صدر پوتن نے والدائی فورم سے خطاب میں موجودہ عالمی حالات، یوکرین تنازع، بین الاقوامی سلامتی، اقوام متحدہ میں اصلاحات، نئی ٹیکنالوجی اور ابھرتے ہوئے کثیر قطبی عالمی نظام پر بھی تفصیلی اظہار خیال کیا۔
انہوں نے کہا کہ دنیا ایک فیصلہ کن موڑ پر پہنچ چکی ہے اور عالمی سطح پر ہونے والی تبدیلیاں صرف سیاسی یا اقتصادی شعبوں تک محدود نہیں، بلکہ ٹیکنالوجی، سماجی ڈھانچے، ماحولیات، طب، توانائی، آبادی، مصنوعی ذہانت اور دفاع سمیت زندگی کے تقریباً تمام شعبوں کو متاثر کررہی ہیں۔
صدر پوتن کے مطابق موجودہ حالات میں عالمی امن اور سلامتی کا تحفظ سب سے اہم اور فوری ضرورت ہے۔ بہت سے سابقہ بین الاقوامی اصول کمزور پڑ چکے ہیں، جبکہ نئی عالمی حقیقت کے مطابق مؤثر ضابطے ابھی پوری طرح وجود میں نہیں آئے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ دنیا کو ایسے خطرناک حالات سے بچانے کے لیے عملی اور ذمہ دارانہ اقدامات کی ضرورت ہے جو انسانیت کو ناقابل تلافی نقصان کی جانب لے جاسکتے ہیں۔
روسی صدر نے کہا کہ مغربی بالادستی کے خاتمے کے ساتھ عالمی نظام بتدریج زیادہ مستحکم، جمہوری، آزاد اور کثیر قطبی شکل اختیار کرے گا۔ تاہم اس نئے عالمی نظام تک پہنچنے کا راستہ آسان نہیں ہوگا اور مختلف ممالک اور معاشروں کو کئی خطرات اور مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔
صدر پوتن نے کہا کہ پرانے عالمی ادارے اور مختلف ممالک کے درمیان مفادات کو ہم آہنگ کرنے کے لیے قائم کیے گئے طریقہ کار موجودہ حالات میں اپنی ذمہ داریاں مکمل طور پر ادا نہیں کر پارہے۔ اس کی وجہ یہ نہیں کہ یہ ادارے بنیادی طور پر ناکام تھے، بلکہ دنیا کے حالات ان کے قیام کے وقت سے بہت مختلف ہوچکے ہیں۔
انہوں نے اقوام متحدہ میں منصفانہ اصلاحات کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ عالمی ادارے کے ڈھانچے میں ایشیا، افریقہ، لاطینی امریکا اور مشرق وسطیٰ کے ممالک کو زیادہ مؤثر نمائندگی دی جانی چاہیے۔
صدر پوتن کے مطابق اقوام متحدہ دنیا کی سب سے زیادہ نمائندہ بین الاقوامی تنظیم ہے، تاہم محدود تعداد میں مغربی ممالک اب بھی اس پر اپنے حجم اور عالمی حیثیت سے کہیں زیادہ اثر و رسوخ رکھتے ہیں۔
روسی صدر نے برکس اور دیگر نئے علاقائی و عالمی اداروں کو مستقبل کے لیے اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان تنظیموں میں بہت زیادہ امکانات موجود ہیں۔ تاہم انہیں اپنے کردار، ترجیحات اور عملی صلاحیتوں کے تعین کے لیے مزید کام کرنا ہوگا۔
یوکرین تنازع کا ذکر کرتے ہوئے صدر ولادیمیر پوتن نے روس کا مؤقف دہراتے ہوئے کہا کہ ماسکو نے جنگ کا آغاز نہیں کیا، بلکہ روس کو اپنے دفاع کے لیے ہتھیار اٹھانے پر مجبور کیا گیا۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ کئی برسوں تک یوکرین میں جارحانہ قوم پرستی اور روس مخالف جذبات کی حوصلہ افزائی کی گئی اور یوکرین کو روس کے خلاف استعمال کرنے کی کوشش کی گئی۔
صدر پوتن نے کہا کہ نیٹو نے روس کے تاریخی علاقوں میں فوجی سرگرمیاں شروع کیں، وہاں فوجی اڈے قائم کرنے کی منصوبہ بندی کی اور یوکرین کو مختلف اقسام کے جارحانہ ہتھیار فراہم کیے۔
انہوں نے کہا کہ اعتماد قائم کرنا ایک مشکل اور نازک عمل ہے، جسے تشکیل دینے میں بہت وقت لگتا ہے لیکن اسے ختم کرنا انتہائی آسان ہوتا ہے۔
روسی صدر کے مطابق قریبی شراکت دار ممالک کے مفادات بھی مکمل طور پر یکساں نہیں ہوتے، جبکہ مسابقت، سخت مقابلے اور محاذ آرائی میں شامل ممالک کے درمیان اختلافات کہیں زیادہ پیچیدہ ہوتے ہیں۔
صدر پوتن نے کہا کہ عالمی نظام بالآخر کسی نہ کسی مستحکم توازن تک پہنچے گا، لیکن اس کے لیے باہمی سمجھوتے، ایک دوسرے کی جانب پیش رفت اور موجودہ حالات کا حقیقت پسندانہ جائزہ ضروری ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ سابق عالمی طاقتوں کو بالآخر کثیر قطبی دنیا کی حقیقت تسلیم کرنا ہوگی اور عالمی اکثریت میں شامل ممالک کے بنیادی مفادات کا احترام کرتے ہوئے ان کے ساتھ تعاون کرنا سیکھنا ہوگا۔
روسی صدر نے عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی کشیدگی کو خطرناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ حقیقی سفارت کاری سے گریز، مخالفین کو خوف زدہ کرنے کی کوشش اور سرخ لکیروں کو عبور کرنے کا رجحان دنیا کو مزید غیر محفوظ بنا رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ فوجی کارروائیوں اور پابندیوں کے ذریعے کشیدگی بڑھانے کا عمل کبھی یکطرفہ نہیں رہتا، کیونکہ ایک فریق کے اقدامات کے جواب میں دوسرا فریق بھی کارروائی کرتا ہے اور یوں کشیدگی کا سلسلہ مزید خطرناک ہوتا چلا جاتا ہے۔
صدر ولادیمیر پوتن نے کہا کہ روس مستقبل کے لیے حقیقت پسندانہ راستہ اختیار کررہا ہے اور دوسرے ممالک اور اقوام کے ساتھ مل کر نئے اور زیادہ منصفانہ عالمی نظام کی تشکیل میں کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔









