امن کا حصول ترجیح، فی الحال روس پوری قوت سے لڑتا رہے گا، کریملن

ماسکو:(وائس آف رشیا) کریملن نے کہا ہے کہ روس پرامن ذرائع سے امن حاصل کرنا چاہتا ہے، تاہم جب تک ایسا ممکن نہیں ہوتا، روس اپنے قومی مفادات کے تحفظ کے لیے پوری قوت سے کارروائیاں جاری رکھے گا۔

روسی صدارتی ترجمان دیمتری پیسکوف نے روسیا ون کے صحافی پاویل زاروبن سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کیف کی جانب سے کشیدگی میں اضافے کا جواب دینا موجودہ حالات میں روس کے مفادات کے حصول کا واحد راستہ رہ گیا ہے۔

دیمتری پیسکوف نے کہا کہ روس کو کشیدگی کے اس چکر میں مزید کھینچا جارہا ہے۔ جب تک معاملات پر بات چیت اور معاہدوں تک پہنچنے کا کوئی موقع موجود نہیں، روس کے پاس اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے موجودہ راستے کے سوا کوئی دوسرا طریقہ نہیں۔

انہوں نے صدر ولادیمیر پوتن کے مؤقف کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ روس امن چاہتا ہے اور اسے پرامن ذرائع سے حاصل کرنے کو ترجیح دیتا ہے، لیکن جب تک یہ ممکن نہیں ہوتا، روس لڑے گا اور پوری قوت سے لڑے گا۔

کریملن کے ترجمان نے خبردار کیا کہ جو قوتیں روس کو فیصلہ کن یا تباہ کن شکست دینے کے منصوبے بنا رہی ہیں، انہیں اس کی قیمت ادا کرنا پڑے گی، جس طرح ان کے بقول یوکرین اس وقت قیمت ادا کررہا ہے۔

دیمتری پیسکوف نے کہا کہ روس دونیتسک عوامی جمہوریہ کے باقی ماندہ علاقوں پر مکمل کنٹرول کے لیے کارروائیاں جاری رکھے گا، خواہ یہ رقبہ نصف فیصد ہو یا ایک فیصد کا سوواں حصہ۔

انہوں نے کہا کہ یہ علاقہ روسی فیڈریشن کا حصہ ہے اور اس معاملے میں بات چیت کی کوئی گنجائش نہیں۔

روسی صدارتی ترجمان نے کہا کہ کالینن گراڈ کے ممکنہ محاصرے کی صورت میں روس کی جانب سے اپنے تمام دستیاب ہتھیار استعمال کرنے کا بیان کسی دوسرے ملک کے لیے دھمکی نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ کالینن گراڈ روسی خطہ ہے اور اگر اسے کوئی خطرہ لاحق ہوا تو روس اپنے علاقے کے دفاع کے لیے تمام دستیاب وسائل استعمال کرے گا۔

دیمتری پیسکوف کے مطابق پولینڈ اور بعض دیگر ممالک سے اس حوالے سے اشتعال انگیز بیانات سامنے آئے ہیں، اس لیے روس نے اپنی دفاعی پوزیشن واضح کی ہے۔

انہوں نے اس صورتِ حال کا موازنہ صدر پوتن کی میونخ تقریر سے کرتے ہوئے کہا کہ مغربی ممالک نے اس خطاب کو بھی دھمکی سمجھا تھا، حالانکہ وہ دھمکی نہیں بلکہ خطرات سے متعلق پیشگی انتباہ تھا۔

کریملن کے ترجمان نے بتایا کہ صدر ولادیمیر پوتن کے نئے سالانہ سوال و جواب کے پروگرام ’’ڈائریکٹ لائن‘‘ کی تیاریاں شروع کردی گئی ہیں۔

ڈائریکٹ لائن پروگرام کے دوران صدر پوتن روسی شہریوں کے سوالات کے براہِ راست جواب دیتے اور مختلف قومی، اقتصادی، سماجی اور بین الاقوامی امور پر حکومتی مؤقف پیش کرتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں