یوکرین مذاکرات کی بحالی کا فیصلہ روسی مفادات کو سامنے رکھ کر کریں گے، صدر پوتن

سینٹ پیٹرزبرگ:(وائس آف رشیا) روس کے صدر ولادیمیر پوتن نے کہا ہے کہ یوکرین کے ساتھ مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کی تجاویز زیر غور ہیں، تاہم اس حوالے سے تمام فیصلے روسی فیڈریشن کے مفادات کو سامنے رکھتے ہوئے کیے جائیں گے۔

سینٹ پیٹرزبرگ میں صحافیوں کے سوالات کے جوابات دیتے ہوئے صدر ولادیمیر پوتن سے پوچھا گیا کہ روسی ریاستی دوما کے انتخابات کے بعد روس، امریکا اور یوکرین کے درمیان تین فریقی مذاکرات کہاں اور کب دوبارہ شروع ہوسکتے ہیں۔

صدر پوتن نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ یوکرینی فریق نے استنبول میں جاری مذاکرات خود منقطع کیے تھے، تاہم ریاستی دوما کے انتخابات سے تقریباً دس روز یا دو ہفتے قبل کیف نے مذاکرات دوبارہ شروع کرنے پر آمادگی ظاہر کی۔

انہوں نے کہا کہ روس نے واضح کیا تھا کہ ریاستی دوما کے انتخابات سے قبل مذاکرات کا انعقاد مشکل ہوگا، جبکہ انتخابات کے بعد ماسکو ان رابطوں کی بحالی کے لیے تیار ہوگا۔

روسی صدر نے کہا کہ حالیہ عرصے میں ہونے والے واقعات بھی سب کے سامنے ہیں۔ ان کے مطابق 19 اور 20 ستمبر کی درمیانی شب، جو انتخابات میں ووٹنگ کا مرکزی دن تھا، ماسکو پر بڑے پیمانے پر حملے کی کوشش کی گئی اور ایک ہزار 600 سے زائد ڈرونز ماسکو کے فضائی زون کی جانب آئے۔

صدر پوتن نے کہا کہ پولنگ اسٹیشنوں کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ ایک مقام پر پولنگ اسٹیشن اسکول کی عمارت میں قائم تھا اور حملے کے نتیجے میں اسکول تقریباً تباہ ہوگیا۔

انہوں نے بتایا کہ علاقائی انتخابی کمیشنوں کے سربراہان کے گھروں پر بھی حملے کیے گئے۔ ایک واقعے میں علاقائی انتخابی کمیشن کی سربراہ، ان کے شوہر اور بچہ زخمی ہوئے، جبکہ دوسرے واقعے میں انتخابی کمیشن کی سربراہ اپنے گھر پر کیے گئے حملے میں ہلاک ہوگئیں۔

صدر ولادیمیر پوتن نے سینٹ پیٹرزبرگ انٹرنیشنل اکنامک فورم کے دوران ہونے والے واقعات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یوکرینی حکام نے سینٹ پیٹرزبرگ کو نشانہ بنانے کی کوشش کی اور بندرگاہ میں واقع نام نہاد کوئلہ بندرگاہ پر حملہ کرکے وہاں آگ لگا دی۔

انہوں نے کہا کہ اس کارروائی کا مقصد شاید روس یا فورم میں شریک غیر ملکی مہمانوں کو خوفزدہ کرنا تھا، لیکن روس کے ساتھ کام کرنے والے لوگ خوفزدہ ہوکر کہیں نہیں گئے اور فورم کو اپنے مقررہ پروگرام کے مطابق مکمل کیا گیا۔

روسی صدر نے کہا کہ جون سے روس کی تیل صاف کرنے والی تنصیبات پر حملے شروع کیے گئے۔ ان کے مطابق اسی مہینے چالیس روزہ آپریشن شروع کرنے کا اعلان بھی کیا گیا، جس کے نتیجے میں روس کو بعض نقصانات اٹھانا پڑے۔

انہوں نے کہا کہ روس کے بحیرہ اسود کے ساحل کی بحری ناکہ بندی کرنے کی کوشش بھی کی گئی۔ صدر پوتن کے مطابق ان کارروائیوں میں ایک سو سے زائد روسی اور غیر ملکی پرچم بردار بحری جہازوں کو نقصان پہنچایا گیا، تاہم روس نے ان نقصانات کو بحال کرلیا۔

صدر پوتن نے وائلڈ بیریز اور اوزون کے گوداموں سمیت شہری تنصیبات پر ہونے والے حملوں کا بھی ذکر کیا اور سوال اٹھایا کہ اس نوعیت کے شہری اہداف کو نشانہ بنانے کا مقصد کیا تھا۔

روسی صدر نے کہا کہ ان کارروائیوں کے بعد روس نے ہر محاذ پر جوابی کارروائی شروع کی۔ ان کے مطابق روسی مسلح افواج کی جوابی کارروائیاں مخالف فریق کے لیے اس قدر حساس اور تباہ کن ثابت ہوئیں کہ اب دوبارہ مختلف شعبوں میں جنگ بندی کی بات کی جا رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ یوکرینی فریق اب توانائی کے شعبے میں جنگ بندی کی بات کر رہا ہے، جس کا مطلب روسی تیل صاف کرنے والی تنصیبات پر حملے روکنا ہے۔ اس کے علاوہ فضائی جنگ بندی اور ایک دوسرے پر حملے روکنے کی تجاویز بھی سامنے آ رہی ہیں۔

صدر پوتن کے مطابق یوکرینی فریق بالخصوص جدید روسی ’’گیران‘‘ ڈرونز کے حملے رکوانا چاہتا ہے، کیونکہ فی الحال ان کے پاس ان ڈرونز کے خلاف مؤثر دفاعی طریقہ موجود نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ یوکرینی فریق بحیرہ اسود کے ساحل کی روسی ناکہ بندی بھی ختم کرانا چاہتا ہے۔

روسی صدر نے کہا کہ یہ تمام کارروائیاں یوکرینی فریق نے شروع کی تھیں۔ انہوں نے سوال کیا کہ کیا یہ کھیل یا بچوں کا معاملہ ہے؟ ان کے مطابق یوکرینی حکام کو روس کی جوابی کارروائیوں کے اثرات محسوس کرنا ہوں گے اور یہ سمجھنا ہوگا کہ اشتعال انگیزی اور صورتحال کو مزید خراب کرنے سے انہیں مطلوبہ نتیجہ حاصل نہیں ہوگا بلکہ ان کی اپنی پوزیشن مزید خراب ہوگی۔

صدر پوتن نے کہا کہ نام نہاد مصالحتی اقدامات اور مذاکرات کی بحالی کی تجاویز میز پر موجود ہیں اور ان پر بات ممکن ہے، لیکن حالیہ واقعات کے بعد روس اس بات پر سنجیدگی سے غور کرے گا کہ اسے جواب میں کیا اقدامات کرنے چاہئیں۔

انہوں نے واضح کیا کہ مذاکراتی عمل کی ممکنہ بحالی سمیت اس سمت میں تمام فیصلے روسی فیڈریشن کے مفادات کے مطابق کیے جائیں گے۔

ایک اور سوال میں صدر پوتن کی توجہ یورپ میں روس مخالف بیانات اور ایسٹونیا کے وزیر دفاع مارٹن ہیرم سے منسوب روس سے متعلق حالیہ بیان کی جانب مبذول کرائی گئی۔

صدر ولادیمیر پوتن نے کہا کہ یورپی ممالک کی جانب سے صورتحال کو دانستہ طور پر ہوا دی جا رہی ہے اور اشتعال انگیزی کی جا رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ یورپ میں بہت سے لوگ روسی حملے کے خدشے کا اظہار کرکے یہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ انہیں روس کے ساتھ ممکنہ جنگ اور فوجی کارروائیوں کی تیاری کرنی چاہیے۔

صدر پوتن نے ایک مرتبہ پھر واضح کیا کہ روس یورپ کے خلاف کسی فوجی کارروائی کی تیاری نہیں کر رہا۔ انہوں نے کہا کہ روس کے پاس نہ ایسے منصوبے ہیں اور نہ ہی یورپ کے ساتھ صورتحال کو بگاڑنے کا کوئی حقیقی سبب یا محرک موجود ہے۔

انہوں نے کہا کہ روس بالٹک ممالک میں روسی زبان بولنے والی آبادی کے حقوق کی خلاف ورزیوں سے آگاہ ہے، تاہم ماسکو نے اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے انسانی اور بین الاقوامی قانون کے دائرے میں اپنا طریقہ کار وضع کیا ہے۔

روسی صدر نے بالٹک ممالک میں بعض افراد کے لیے استعمال ہونے والی ’’غیر شہری‘‘ حیثیت کو بے معنی قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایسے افراد کو نہ شہری، نہ غیر ملکی اور نہ ہی دوہری شہریت رکھنے والے افراد تسلیم کیا جاتا ہے۔

صدر پوتن نے کہا کہ روس اپنے ہم وطنوں کے حقوق کے لیے بین الاقوامی قانون کے دائرے میں جدوجہد جاری رکھے گا۔ انہوں نے کہا کہ روس نے کبھی دوسرے ذرائع استعمال نہیں کیے اور نہ ہی مستقبل میں ایسا کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔

روسی صدر نے کہا کہ یورپ میں جارحانہ سوچ رکھنے والے بعض حلقوں کی جانب سے کشیدگی بڑھانے کا مقصد یوکرین اور یوکرینی شہریوں کو روس کے خلاف استعمال کرنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ان حلقوں کی خواہش ہے کہ یوکرین کو روس کے خلاف جدوجہد کے آلے کے طور پر استعمال کیا جائے، تاکہ روس کی ترقی کو محدود اور اس کی پیش رفت کو روکا جاسکے۔

صدر پوتن کے مطابق اس جارحانہ پالیسی پر مزید رقوم خرچ کرنے اور اپنے شہریوں کو اس کی وجہ بتانے کے لیے یورپی عوام کو یہ کہہ کر گمراہ کیا جا رہا ہے کہ روس مبینہ طور پر کسی ملک پر حملہ کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔

انہوں نے ان دعوؤں کو مکمل بے بنیاد قرار دیا۔ ایسٹونیا کے وزیر دفاع سے منسوب بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے صدر پوتن نے اسے ’’سیاسی مسخرہ پن‘‘ قرار دیا اور کہا کہ اس صورتحال پر روس میں رائج یہ مزاحیہ جملہ موزوں بیٹھتا ہے کہ ’’سرکس چلا گیا، لیکن مسخرے رہ گئے۔‘‘

صدر پوتن نے کہا کہ ایسٹونیا کی آبادی تقریباً 13 لاکھ ہے، جس میں بچے اور معمر افراد بھی شامل ہیں، جبکہ صرف روسی فوج کی تعداد 15 لاکھ 35 ہزار ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسی باتیں مکمل طور پر بے معنی ہیں، لیکن بدقسمتی سے روس کو آج مغربی یورپ میں ایسے لوگوں سے معاملہ کرنا پڑ رہا ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور چین کے صدر شی جن پنگ کے درمیان مذاکرات سے متعلق سوال کے جواب میں صدر ولادیمیر پوتن نے کہا کہ بین الاقوامی سیاست میں حسد جیسی اصطلاحات استعمال نہیں کی جاتیں۔

انہوں نے کہا کہ روس امریکا اور چین کے درمیان مذاکرات کا خیرمقدم کرتا ہے، کیونکہ دونوں دنیا کی سب سے بڑی معیشتیں ہیں۔

صدر پوتن نے کہا کہ دونوں ممالک متنازع امور اور امریکا کی غیر قانونی پابندیوں کے نتیجے میں پیدا ہونے والے مسائل پر جو بھی معاہدے کریں گے، ان کے اثرات پوری عالمی معیشت کے ساتھ روسی معیشت پر بھی مرتب ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ اس وقت روس اور امریکا کے درمیان اقتصادی تعلقات تقریباً صفر کی سطح تک پہنچ چکے ہیں، جبکہ روس اور چین کے درمیان تجارتی حجم 240 ارب ڈالر ہے اور دوطرفہ تجارت مسلسل بڑھ رہی ہے۔

روسی صدر نے کہا کہ روس اور چین کے درمیان مستقبل کی ترقی کے کئی اہم شعبے موجود ہیں، اس لیے مجموعی بین الاقوامی اقتصادی تعلقات کی صورتحال ماسکو کے لیے بھی اہمیت رکھتی ہے۔

صدر ولادیمیر پوتن نے کہا کہ روس چین اور امریکا کے درمیان ہونے والے ہر مثبت نوعیت کے معاہدے کا خیرمقدم کرے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں