ماسکو:(وائس آف رشیا) روس نے خبردار کیا ہے کہ یوکرین کو مسلسل اور مختلف نوعیت کی معاونت فراہم کرنے کے باعث برطانیہ یوکرین تنازع کا باقاعدہ فریق بننے کے قریب پہنچ چکا ہے، جبکہ مزید کشیدگی کے نتائج لندن کی اپنی سلامتی کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔
روسی نائب وزیر خارجہ سرگئی ریابکوف نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ برطانیہ کی جانب سے کیف کو بڑھتی ہوئی اور مختلف شعبوں میں معاونت فراہم کی جا رہی ہے، جس کے نتیجے میں لندن کی حیثیت عملی طور پر تنازع کے فریق سے قانونی طور پر فریق بننے کی حد تک پہنچ سکتی ہے۔
ریابکوف کے مطابق برطانیہ کی جانب سے یوکرین کی حمایت متعدد دوطرفہ اور کثیرالجہتی قانونی اور سیاسی طور پر پابند دستاویزات کی خلاف ورزی ہے۔
روسی نائب وزیر خارجہ نے برطانیہ کو مزید کشیدگی کے نتائج سے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ ماسکو لندن کو سخت ترین انتباہ دے رہا ہے اور ایسے اقدامات کے ذریعے برطانیہ اپنی سلامتی کو خطرے میں ڈال رہا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ اس معاملے پر روس کا مؤقف حال ہی میں ماسکو میں برطانوی ناظم الامور کے حوالے کیے گئے سفارتی مراسلے میں تفصیل سے بیان کیا جا چکا ہے۔
ریابکوف نے برطانوی حکام کے ساتھ رابطوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ روس کو بنیادی معاملات پر اپنا مؤقف سمجھانے میں مشکلات کا سامنا ہے، کیونکہ ان کے بقول برطانوی فریق اپنے تصورات، غلط فہمیوں اور تعصبات سے باہر نکلنے کے لیے تیار نہیں۔









