ماسکو:(شاہد گھمن) روس کے مرکزی الیکشن کمیشن کی سربراہ ایلا پامفیلووا نے بتایا ہے کہ ریاستی دُوما کے انتخابات میں ووٹر ٹرن آؤٹ 59.32 فیصد رہا اور 6 کروڑ 26 لاکھ سے زائد شہریوں نے اپنا حقِ رائے دہی استعمال کیا۔ انہوں نے کہا کہ بیرونی خطرات اور مختلف چیلنجز کی شدت کے لحاظ سے یہ انتخابات غیر معمولی تھے، تاہم روس ان مشکلات پر کامیابی سے قابو پانے میں کامیاب رہا۔
مرکزی الیکشن کمیشن کے اطلاعاتی مرکز میں بریفنگ دیتے ہوئے ایلا پامفیلووا نے ابتدائی انتخابی اعدادوشمار، مبصرین کی کارکردگی، سکیورٹی چیلنجز اور خلاف ورزیوں سے متعلق تفصیلات پیش کیں۔
انہوں نے بتایا کہ ریاستی دُوما کے انتخابات میں آن لائن ووٹنگ کا ٹرن آؤٹ 90.88 فیصد رہا اور 36 لاکھ 50 ہزار سے زائد ووٹرز نے اس طریقے سے ووٹ ڈالے۔ پامفیلووا نے اس شرح کو غیر معمولی قرار دیتے ہوئے کہا کہ 90 فیصد سے زیادہ شرکت ووٹرز کے شعوری انتخاب کی عکاسی کرتی ہے۔
مرکزی الیکشن کمیشن کی سربراہ کے مطابق انتخابات کے دوران بیرونی خطرات اور مختلف نوعیت کے چیلنجز کی سطح بے مثال تھی۔ انہوں نے کہا کہ غیر معمولی حالات کے باوجود زیادہ سے زیادہ تحفظ یقینی بنانا انتخابی انتظامات کی اولین ترجیح رہا۔
پامفیلووا نے کہا کہ مختلف خطرات کی موجودگی میں انتخابی عمل کو پُرسکون اور باوقار انداز میں جاری رکھنا آسان نہیں تھا، تاہم شہریوں کو ان بیشتر خطرات کا احساس بھی نہیں ہوا جن پر انتخابی مہم کے دوران قابو پانا پڑا۔ انہوں نے بتایا کہ انتخابی نظام کو سائبر حملوں میں غیر معمولی شدت اور دیگر خطرات کا سامنا رہا۔
انتخابی نگرانی سے متعلق انہوں نے بتایا کہ پولنگ اسٹیشنوں پر 3 لاکھ 36 ہزار سے زائد مبصرین نے فرائض انجام دیے، جو رجسٹرڈ مبصرین کا 88.3 فیصد تھے۔ انہوں نے اس تعداد کو بہت بڑی قرار دیا۔
ایلا پامفیلووا کے مطابق آٹھ علاقوں میں 15 مبصرین کو عدالتی احکامات پر پولنگ اسٹیشنوں سے ہٹانا پڑا۔ ان میں کمیونسٹ پارٹی کے چھ مبصرین شامل تھے، جن میں دو، دو ستاوروپول اور یامالو نینیتس خودمختار علاقے سے، جبکہ ایک، ایک آمور اور سخالین سے تعلق رکھتے تھے۔
یابلوکو پارٹی کے پانچ مبصرین کو سینٹ پیٹرزبرگ اور ایک کو ماسکو ریجن میں ہٹایا گیا۔ اے جسٹ رشیا کے دو مبصرین کو زبائیکالسکی اور آمور کے علاقوں میں، جبکہ لبرل ڈیموکریٹک پارٹی کے ایک مبصر کو کیروف ریجن میں ہٹایا گیا۔
انہوں نے بتایا کہ مبصرین کو ہٹانے کی بنیادی وجوہات میں انتخابی کمیشن کے ارکان کے کام میں مداخلت، فرائض کی ادائیگی میں رکاوٹ، تنازعات پیدا کرنا، مقررہ جگہ سے باہر تصاویر اور ویڈیوز بنانا، ووٹرز کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کرنا، پولنگ کے احاطے میں من مانے انداز میں گھومنا اور انتخابی کمیشن کے سربراہ و ارکان کی تنبیہات کو نظرانداز کرنا شامل تھا۔
تاہم پامفیلووا نے مجموعی طور پر مبصرین کی تیاری اور تربیت میں سیاسی جماعتوں کے کردار کو مثبت قرار دیا۔ انہوں نے جماعتوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ اس سال مبصرین نے دیانت داری، ذمہ داری اور شائستگی کے ساتھ کام کیا اور ووٹرز و انتخابی کمیشن کے ارکان کا احترام ملحوظ رکھا۔
انہوں نے سیاسی جماعتوں سے کہا کہ وہ ان واقعات کا جائزہ لیں جن میں ان کے مبصرین کو پولنگ اسٹیشنوں سے ہٹایا گیا۔ ان کے مطابق متعلقہ واقعات ویڈیو نگرانی کے نظام میں ریکارڈ ہیں اور جماعتیں ان ریکارڈنگز کی مدد سے اپنا جائزہ لے سکتی ہیں۔
انتخابی خلاف ورزیوں کے حوالے سے ایلا پامفیلووا نے کہا کہ براہِ راست آن لائن نشریات نے کمیشن کے کام کو آسان بنایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں خلاف ورزیوں سے متعلق بہت سا مواد صرف کمیشن کے پاس ہوتا تھا، لیکن اب بیشتر معاملات کو حقیقی وقت میں دیکھا جاسکتا ہے۔ انہوں نے اسے زیادہ سے زیادہ شفافیت کے اظہار کی ایک بڑی کامیابی قرار دیا۔
مرکزی الیکشن کمیشن کی سربراہ نے بتایا کہ ماری اِل، یاقوتیا، ماسکو ریجن اور سینٹ پیٹرزبرگ میں مقامی انتخابی کمیشنوں کے 17 ارکان کو ہٹایا گیا۔ ان میں یابلوکو کے چھ، اے جسٹ رشیا کے چار، نیو پیپل کے تین اور کمیونسٹ پارٹی کے دو ارکان شامل تھے۔ ان کے مطابق عدالتی فیصلوں پر کی گئی کارروائیوں کی بنیادی وجوہات میں جان بوجھ کر بیلٹ پیپرز خراب کرنا شامل تھا۔
پامفیلووا نے بتایا کہ کریمیا اور ماری اِل میں بیلٹ باکسوں میں اضافی پرچیاں ڈالنے کے دو واقعات پیش آئے اور ذمہ داروں کو سزا دی جائے گی۔
انہوں نے مزید بتایا کہ 90 ہزار سے زائد پولنگ اسٹیشنوں میں سے 20 پر مجموعی طور پر 36 ہزار 850 بیلٹ پیپرز غیر مؤثر قرار دیے گئے، تاہم کسی پولنگ اسٹیشن کے انتخابی نتائج کو کالعدم قرار نہیں دیا گیا۔









