بشار الاسد کے ساتھ ملاقات کا سوچ رہا ہوں، ولادیمیر پوتن

ماسکو(وائس آف رشیا) روسی صدر پوتن نے پریس کا نفرنس کے دوران ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ روس کو شام میں ہر گز شکست نہیں ہوئی ہے۔ تاہم نئے شامی حکمرانوں کے لیے ماسکو نے کچھ تجاویز مرتب کی ہیں۔ تاکہ دمشق میں روسی فوجی اڈا بحال رہ سکے۔

انہوں نے کہا ابھی تک ان کی روس میں موجود بشار الاسد کے ساتھ ملاقات نہیں ہوئی ہے۔ بشار الاسد اسی ماہ کے پہلے ہفتے میں اقتدار سے محرومی کے بعد روس میں پناہ لیے ہوئے ہیں۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ جب بشار الاسد سے ملاقات ہو گی تو وہ امریکہ کے لاپتا صحافی آسٹن ٹائیس کے بارے میں پوچھیں گے کہ اس کا مقدر کیا رہا۔

انہوں نے مزید کہا کہ میں اس بارے میں شام کے نئے حکمرانوں سے بھی پوچھنے کو تیار ہوں کہ آسٹن ٹائیس کہاں ہے اور کس حال میں ہے۔

انہوں نے مزید کہا میں بےتکلفی سے یہ بات کہتا ہوں کہ جب سے بشار الاسد روس آئے ہیں میری ان سے ملاقات نہیں ہوئی ہے۔ لیکن میں ان سے ملاقات کا منصوبہ بنا کر ان سے ضرور بات کروں گا۔

صدر پوتن نے مزید کہا کہ شام کے جن لوگوں کے ساتھ روس کا رابطہ ہے ان میں سے زیادہ تر لوگ روس کے شام میں دو بڑے فوجی اڈوں کے بارے میں حمایت پر مبنی خیالات رکھتے ہیں۔ تاہم ابھی اس سلسلے میں بات چیت جاری ہے۔

روس نے 2015 میں شام میں فوجی بھیج کر خانہ جنگی کا رخ بدل دیا تھا اور بشار الاسد کی حکومت کو بچانے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ دوسرے ملک بھی ان کے بحری و فضائی اڈے کو انسانی بنیادوں پر امداد کے لیے استعمال کر سکتے ہیں تاکہ شامی لوگوں کو فائدہ ہو سکے۔

ایک سوال کے جواب میں صدر پوتن کا کہنا تھا کہ آپ ہر چیز کو ایسے پیش کرنا چاہتے ہیں جس سے یہ تاثر بنے کہ شام میں روس کی شکست ہوئی ہے۔ میں آپ کو یقین دلاتا ہوں ایسا کچھ نہیں ہوا۔ ہم شام میں 10 سال پہلے گئے تھے اور ہم نے دہشت گردوں کی ایک پٹی کو شکست دی تھی جسے وہ وہاں قائم کرنا چاہتے تھے۔

ہم نے مجموعی طور پر اپنے مقاصد کو حاصل کیا ہے اور اس بات کی کوئی حقیقت نہیں ہے جس بارے میں یورپی ممالک اور امریکہ شام کے نئے حکمرانوں کے ساتھ تعلقات قائم کرنا چاہتے ہیں۔

اگر وہ دہشت گرد تنظیمیں ہیں تو پھر مغرب کے لوگ ان کے ساتھ کیوں تعلقات بنانا چاہتے ہیں۔ پس ثابت ہوا ان کا مسئلہ دہشت گردی نہیں ہے، ان کا مسئلہ اپنی پسند کی تبدیلی لانا تھا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں