تہران(وائس آف رشیا) ایران نے حالیہ فسادات اور دہشت گردانہ سرگرمیوں میں امریکہ اور اسرائیل کے ملوث ہونے کے ’’واضح شواہد‘‘ ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقی نے تہران میں غیر ملکی سفارتی مشنز کے سربراہان سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ان کے ملک کے پاس ایسی ’’بڑی تعداد میں دستاویزات‘‘ موجود ہیں جو ثابت کرتی ہیں کہ گزشتہ دنوں ایران میں ہونے والی دہشت گردانہ کارروائیوں کے پیچھے واشنگٹن اور تل ابیب کا ہاتھ موجود تھا۔
انہوں نے مزید کہا کہ سابق امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو خود اعتراف کر چکے ہیں کہ اسرائیلی خفیہ ادارے ’’موساد‘‘ کے ایجنٹس فسادی عناصر کے ساتھ مل کر تحریک کو کنٹرول کر رہے تھے۔ عباس عراقی کے مطابق، اس مسئلے کی باضابطہ تحقیقات کی جائیں گی اور ’’جو لوگ ایسے حالات پیدا کرنے کا سبب بنے جن سے جانی نقصان بڑھا، وہ ان نتائج کے ذمہ دار ہوں گے‘‘۔
ایرانی وزیر خارجہ نے مغربی ممالک پر دوہرے معیار کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ ’’وہاں پولیس کے بجائے دہشت گردوں کی حمایت کی گئی‘‘۔ انہوں نے کہا کہ جو ممالک غزہ میں 70 ہزار سے زائد فلسطینیوں کی ہلاکت اور ایک ہزار سے زیادہ ایرانی شہریوں کی اموات پر خاموش رہے، وہ آج ایران میں دہشت گرد گروہوں کی پشت پناہی کر رہے ہیں۔
فسادات کی ابتدا 29 دسمبر 2025 کو ہوئی جب تہران میں کرنسی کی گرتی ہوئی قدر کے خلاف تاجر احتجاج پر اتر آئے۔ اگلے روز یونیورسٹی طلبہ بھی شامل ہو گئے اور دیکھتے ہی دیکھتے یہ بے چینی ایران کے بڑے شہروں تک پھیل گئی۔ صورتحال 8 جنوری کی رات انتہائی سنگین ہو گئی، جب فسادیوں کی کارروائیوں میں کم از کم 13 شہری، جن میں ایک تین سالہ بچہ بھی شامل تھا، ہلاک ہو گئے جبکہ 38 قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں کی موت کی بھی تصدیق کر دی گئی۔
تہران کے میئر علی رضا زاکانی نے بتایا کہ فسادیوں نے 25 مساجد کو نذرِ آتش کیا، 26 بینک، تین طبی مراکز، دس سرکاری دفاتر اور 100 سے زائد فائر ٹرک، بسیں اور ایمبولینسوں کو نقصان پہنچایا۔ ایرانی حکومت نے ان عناصر کو ’’دہشت گرد‘‘ قرار دیتے ہوئے ان فسادات کی ذمہ داری امریکہ اور اسرائیل پر عائد کر دی ہے۔









