ماسکو(وائس آف رشیا) روس کی سلامتی کونسل کے سیکریٹری سرگئی شوئیگو نے کہا ہے کہ روس کو انتہائی مربوط حکمت عملی کے ساتھ ان 56 ممالک کی کارروائیوں کا مقابلہ کرنا ہوگا جو مبینہ طور پر اہم تنصیبات کے خلاف دہشت گردی اور تخریب کاری میں ملوث ہیں۔
یورال فیڈرل ڈسٹرکٹ میں ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے الزام عائد کیا کہ یوکرین اور اس کے اتحادی روس کے اندر مسلسل تخریب کاری اور دہشت گرد حملوں کی کوششیں کر رہے ہیں، جن میں اضافہ ہو رہا ہے۔
ان کے مطابق 2025 میں روسی سرزمین پر 1,830 دہشت گرد حملے ریکارڈ کیے گئے، جو 2024 کے مقابلے میں 40 فیصد زیادہ اور 2023 کے مقابلے میں کئی گنا اضافہ ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ روسی انفراسٹرکچر پر فضائی حملوں میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے، جہاں 2025 میں 23 ہزار سے زائد حملے کیے گئے۔
سرگئی شوئیگو نے خبردار کیا کہ مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے باعث اہم تنصیبات پر دہشت گرد حملوں کا خطرہ مزید بڑھ گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ خطرات کو کم سمجھنا یا حفاظتی کمزوریوں کو دور کرنے میں تاخیر سنگین نتائج کا باعث بن سکتی ہے، جس سے معاشی اور سماجی استحکام متاثر ہو سکتا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ روسی صدر ولادیمیر پوتن ان معاملات پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں اور سیکیورٹی کونسل کے اجلاسوں میں اس حوالے سے اہم اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
شوئیگو کے مطابق یورال جیسے علاقے، جو پہلے محفوظ سمجھے جاتے تھے، اب ممکنہ خطرے کی زد میں آ چکے ہیں، اور جدید ہتھیاروں اور نئی حکمت عملیوں کے باعث روس کا کوئی بھی علاقہ مکمل طور پر محفوظ نہیں رہا۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ مخالف قوتیں انٹرنیٹ اور دیگر ذرائع کے ذریعے نفسیاتی اور معلوماتی حربے استعمال کر رہی ہیں تاکہ عوام کو متاثر کر کے غیر قانونی سرگرمیوں پر اکسایا جا سکے









