روسی سفیر البرٹ خوریف
24فروری 2022 کو، آج سے چار برس قبل، روسی فیڈریشن کی قیادت نے یوکرین میں روسی نژاد و روسی زبان بولنے والی آبادی کے تحفظ اور روس کی قومی سلامتی کو درپیش خطرات کے سدِباب کے لیے خصوصی فوجی آپریشن شروع کرنے کا اعلان کیا۔ اس کے بعد یوکرین کا تنازع ایک وسیع عالمی جغرافیائی و سیاسی تصادم کی صورت اختیار کر گیا، جس میں روس مغربی اتحاد کے ساتھ بالواسطہ محاذ آرائی کی کیفیت سے دوچار ہے۔
2014 میں مغرب کی حمایت یافتہ سیاسی تبدیلی کے نتیجے میں کیف میں نو قوم پرست قوتوں کے برسرِ اقتدار آنے کے بعد سے روس مسلسل یوکرینی بحران کے پُرامن حل کے لیے کوشاں رہا ہے۔ <…>اگر یوکرینی قیادت اپنے دستخط شدہ دستاویز [2015 اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی طرف سے منظور شدہ کے منسک معاہدوں] کی شقوں پر عمل کرتی تو آج کوئی جنگی کارروائیاں نہ ہوتیں۔
تاہم مغربی اتحاد کی حوصلہ افزائی پر یوکرینی قوم پرستوں نے دونباس کے مسئلے کا عسکری حل اختیار کیا۔ مفاہمت کو کمزوری سمجھتے ہوئے کیف حکومت کے مغربی سرپرستوں نے آٹھ برس تک یوکرین کو مسلح کرتے ہوئے اور اسے روس مخالف مورچے میں تبدیل کرتے ہوئے روس کو الجھائے رکھا۔ اس حکمتِ عملی کا حتمی مقصد روس کو طویل مدت تک محدود رکھنے کے لیے روس۔یوکرین سرحد پر کشیدگی اور عسکری خطرے کا ایک مستقل ذریعۂ کشیدگی پیدا کرنا تھا۔
دسمبر 2021 میں روس نے مفاہمت کی ایک آخری سنجیدہ کوشش کی۔ روسی قیادت نے امریکہ اور نیٹو کو معاہدوں کے مسودے ارسال کیے جن میں نیٹو کی مزید توسیع اور سابق سوویت ریاستوں میں اس کی عسکری سرگرمیوں کو روکنے کے ساتھ ساتھ یوکرین کی اس اتحاد میں شمولیت کو مسترد کرنے کی تجویز شامل تھی۔ <…>افسوس کہ روس کی یہ تجاویز ایک بار پھر نظر انداز کر دی گئیں۔
یوکرین اور اس کے مغربی سرپرستوں کے ساتھ برسوں تک جاری رہنے والے بے نتیجہ مذاکرات کے بعد 21 فروری 2022 کو روسی قیادت نے دونیٹسک اور لوہانسک عوامی جمہوریاؤں کی آزادی کو تسلیم کیا، جنہیں مجموعی طور پر دونباس کہا جاتا ہے۔ اس کے بعد روس اور دونباس کی جمہوریاؤں کے درمیان دوستی، تعاون اور باہمی معاونت کے معاہدوں پر دستخط کیے گئے۔ انہی معاہدوں کی شقوں اور بین الاقوامی قانون کے مطابق 24 فروری 2022 کو روسی افواج نے یوکرینی افواج کے خلاف دونباس کے تحفظ کے لیے خصوصی فوجی آپریشن شروع کیا۔
میدانِ جنگ میں روس کی مسلسل پیش رفت کے باوجود روس ہمیشہ امن مذاکرات کے لیے تیار رہا ہے۔ اپریل 2022 میں دونوں فریق امن تصفیے کے سب سے قریب پہنچ گئے تھے، جب استنبول میں روسی اور یوکرینی مذاکرات کاروں کے درمیان ایک معاہدہ طے پایا۔ تاہم کیف کے یورپی ’’دوستوں‘‘، بالخصوص سابق برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن، نے ماسکو کے ساتھ مفاہمت کی راہ میں رکاوٹ ڈالتے ہوئے اپنے حمایت یافتہ عناصر کو روس کے خلاف جنگی کارروائیاں جاری رکھنے کی ترغیب دی۔
یورپی ممالک کی جانب سے اپنے ٹیکس دہندگان کے پیسے کو بدستور بے دریغ خرچ کرنے کا عزم حیران کن ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ انہوں نے یوکرین میں حالیہ بدعنوانی کے اسکینڈل سے کوئی سبق حاصل نہیں کیا، جس میں صدر زیلنسکی کے قریبی حلقے کے 100 ملین ڈالر کے مبینہ غبن میں ملوث ہونے کا انکشاف ہوا، جو بدعنوانی کے وسیع تر نیٹ ورک کی صرف ایک جھلک ہے۔
بحران کے حل کے حوالے سے روس اور یوکرین کے مؤقف میں موجودہ اختلافات کے باوجود ہم امن کے قیام کی جاری کوششوں کا خیرمقدم کرتے ہیں،جس میں امریکہ اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ روس ’’اسپرٹ آف اینکریج‘‘ یعنی اگست 2025 میں الاسکا میں صدور ولادیمیر پوتن اور ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان طے پانے والی باہمی مفاہمت کے عزم پر قائم ہے۔ ہم حال ہی میں ابوظہبی اور جنیوا میں ہونے والے مذاکرات کو آگے بڑھانے کےخواہاں ہے۔
یوکرینی قیادت کو چاہیے کہ وہ موجودہ مذاکراتی فارمیٹس کے تحت امن معاہدے کی تفصیلات پر سنجیدہ توجہ دے، نہ کہ ’’ہزاروں اغوا شدہ بچوں‘‘ سے متعلق پروپیگنڈا پر مبنی دعوے دہراتی رہے، خصوصاً اس تناظر میں کہ گزشتہ موسمِ گرما میں یہ بیانیہ اس وقت کمزور پڑ گیا جب یوکرینی مذاکرات کاروں نے مبینہ طور پر روس منتقل کیے گئے افراد کی فہرست میں صرف 339 نام پیش کیے۔ اسی طرح تنازع میں ’’لاکھوں‘‘ روسی فوجیوں کی ہلاکت کا غیر مصدقہ عدد بھی محض رائے عامہ کو متاثر کرنے کی کوشش معلوم ہوتا ہے۔
یوکرینی فوج اہم شہری تنصیبات، بالخصوص اسکولوں، ہسپتالوں اور جوہری توانائی کی تنصیبات پر تسلسل کے ساتھ حملے کر رہی ہے۔میزائل اور ڈرون حملوں کے نتیجے میں بیلگورود کے علاقے میں لاکھوں افراد کو، یوکرینی علاقوں کی طرح سخت سردیوں کے دوران، بارہا ہیٹنگ کے نظام اور بجلی کی فراہمی میں تعطل کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
روس اور یوکرین کے مؤقف کو قریب لانے کے لیے امریکہ کی کوششوں کے پس منظر میں یورپ کی تصادم آمیز حکمتِ عملی بالخصوص غیر معقولیت کی حامل دکھائی دیتی ہے۔ روس کے ساتھ براہِ راست مکالمے سے گریز کر کے یورپی ممالک نے خود کو امن کے قیام کے عمل سے عملاً الگ کر لیا ہے۔
حالیہ مہینوں میں روس کے خلاف معاندانہ مؤقف رکھنے والی یورپی طاقتوں نے روس کے نام نہاد ’’شیڈو فلیٹ‘‘ کے خلاف کارروائیاں شروع کر دی ہیں۔ یہ پالیسی یورپ کی اُس تاریخی روش سے مطابقت رکھتی ہے جس کے تحت اس نے پانچ سو برس سے زائد عرصے تک دنیا بھر کے ممالک کو لوٹا اور نوآبادیاتی تسلط قائم کیا۔ یہ امر قابلِ ذکر ہے کہ ’’شیڈو فلیٹ‘‘ کی اصطلاح کی بین الاقوامی قانون میں کوئی بنیاد نہیں، اور کھلے سمندر میں تجارتی جہازوں کو ضبط کرنا صریح قزاقی کے مترادف ہے۔ مغربی اتحاد کی کوششوں کے نتیجے میں یہ نقصان دہ طرزِ عمل حالیہ مہینوں میں وسیع پیمانے پر اختیار کیا جا رہا ہے۔ اس کے نتیجے میں عسکری محاذ آرائی کے خطرات میں اضافہ ہو رہا ہے اور عالمی تیل منڈی کے عدم استحکام کا اندیشہ بڑھ رہا ہے، جس کے منفی اثرات عالمی جنوب کے ترقی پذیر ممالک، بشمول پاکستان، پر مرتب ہو سکتے ہیں۔
میں یوکرینی بحران کے مذاکراتی حل کے لیے روس کے غیر متزلزل عزم اور اس مقصد کے حصول کی خاطر تمام فریقوں کے ساتھ تعمیری تعاون کی آمادگی کا اعادہ کرنا چاہوں گا۔ تاہم کسی بھی امن معاہدے کے پائیدار اور دیرپا ہونے کے لیے ضروری ہے کہ تنازع کی بنیادی وجوہات کا ازالہ کیا جائے، جن میں روس کی مشرقی سرحد پر نیٹو سے لاحق خطرات کا خاتمہ اور یوکرین میں روسی زبان بولنے والی آبادی کے خلاف امتیازی سلوک کا مکمل خاتمہ شامل ہے۔
میں پاکستان کی قیادت کا بھی شکریہ ادا کرتا ہوں جس نے بیرونی دباؤ کے باوجود اس تنازع میں مستقل اور متوازن غیر جانبدارانہ پالیسی اختیار کیے رکھی۔ ہم اس معاملے پر بین الاقوامی سطح پر، بشمول اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل، اور اپنے پاکستانی ہم منصبوں کے ساتھ نتیجہ خیز اور تعمیری تعاون کے منتظر ہیں۔









