ماسکو( شاہد گھمن سے) وزیرِاعظم پاکستان میاں محمد شہباز شریف کے دورہ روس کی تیاریاں حتمی مراحل میں داخل ہو چکی ہیں۔ وزیرِاعظم کے ہمراہ اعلیٰ سطحی شخصیات اور سفارتی وفد بھی روس پہنچے گا۔ ان کا یہ دورہ روس 2 سے 5 مارچ تک جاری رہے گا، سرکاری ذرائع کے مطابق یہ دورہ پاکستان اور روس کے درمیان دوطرفہ تعلقات کو مزید مستحکم بنانے، توانائی اور صنعتی تعاون کو فروغ دینے اور تجارتی روابط کو وسعت دینے کے تناظر میں غیر معمولی اہمیت کا حامل ہے۔
دورے کے دوران وزیرِاعظم ماسکو میں گمنام سپاہی کی یادگار پر حاضری دیں گے اور کریملن میں روسی صدر ولادیمیر پوتن سے اہم ملاقات کریں گے۔ اس ملاقات میں توانائی کے شعبے میں تعاون، رعایتی نرخوں پر تیل و گیس کی فراہمی، ممکنہ ایل این جی معاہدات، پاکستان اسٹیل مل کی بحالی یا جدید کاری، صنعتی شراکت داری، دفاعی تعاون اور خطے کی مجموعی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال متوقع ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی تعاون کو عملی شکل دینے کے لیے چند اہم پیش رفت بھی سامنے آ سکتی ہے۔
وزیرِاعظم پاکستان۔روس بزنس فورم میں شرکت کریں گے جہاں دونوں ممالک کی سرکردہ کاروباری شخصیات اور سرمایہ کار شریک ہوں گے۔ فورم میں زراعت، توانائی، لاجسٹکس، معدنیات اور بھاری صنعت کے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر غور کیا جائے گا۔ مقامی کرنسی میں تجارت اور متبادل مالیاتی طریقہ کار جیسے امور بھی زیرِ بحث آنے کا امکان ہے تاکہ دوطرفہ تجارت کو درپیش رکاوٹوں کو کم کیا جا سکے۔
روس میں پاکستان کے سفیر فیصل نیاز ترمذی کا کہنا ہے کہ دونوں ممالک کے تعلقات ایک نئے مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں جہاں اقتصادی شراکت داری مرکزی حیثیت اختیار کر رہی ہے۔ ان کے مطابق حالیہ مہینوں میں توانائی اور تجارتی شعبوں میں جو پیش رفت ہوئی ہے وہ اعتماد سازی کی علامت ہے اور اس دورے سے عملی نتائج کی توقع کی جا رہی ہے۔
وزیرِاعظم ماسکو میں مقیم پاکستانی طلبہ سے خطاب بھی کریں گے جبکہ پاکستان ایمبیسی کی مختص اراضی کا دورہ اور ماسکو کیتھیڈرل مسجد میں حاضری بھی پروگرام کا حصہ ہے، جس سے عوامی اور ثقافتی روابط کو تقویت ملے گی۔ بعد ازاں وزیرِاعظم سینٹ پیٹرزبرگ جائیں گے جہاں وہ مقامی بزنس کمیونٹی سے ملاقات کریں گے اور شہر کے تاریخی و ثقافتی مقامات ریڈ بلڈ چرچ اور ہرمیٹیج میوزیم کا دورہ بھی کریں گے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق موجودہ عالمی منظرنامے میں پاکستان کی متوازن خارجہ پالیسی کے تناظر میں یہ دورہ خصوصی اہمیت رکھتا ہے۔ اگر توانائی، اسٹیل مل اور صنعتی تعاون کے شعبوں میں کوئی ٹھوس پیش رفت سامنے آتی ہے تو یہ پاکستان اور روس کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز ثابت ہو سکتا ہے۔ دورہ مکمل ہونے کے بعد وزیرِاعظم وفد کے ہمراہ وطن واپس روانہ ہو جائیں گے۔









