ماسکو (وائس آف رشیا) بالکانی سائیکلون کے باعث دارالحکومت ماسکو میں آج صبح 6 بجے سے شدید برفباری کا سلسلہ جاری ہے، جس کے نتیجے میں شہر کے مختلف علاقوں میں برف کی موٹی تہہ جمنا شروع ہو گئی ہے۔ ماہرین موسمیات نے گزشتہ روز خبردار کیا تھا کہ برف کی مقدار 89 سینٹی میٹر تک پہنچ سکتی ہے، جو نہ صرف اس موسمِ سرما کی بلند ترین سطح ہوگی بلکہ ممکنہ طور پر 60 سالہ ریکارڈ بھی توڑ سکتی ہے۔
صبح سویرے شروع ہونے والی برفباری دوپہر تک شدت اختیار کر گئی اور بعض مقامات پر برف باری دیوار کی مانند برسنے لگی، جس سے حدِ نگاہ کم ہو گئی اور ٹریفک کی روانی متاثر ہوئی۔ شہر کی مرکزی شاہراہوں، رہائشی علاقوں اور کاروباری مراکز میں گاڑیوں کی رفتار سست پڑ گئی جبکہ پیدل چلنے والوں کو بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
شہری انتظامیہ کی ٹیمیں رات بھر اور آج صبح سے مسلسل برف ہٹانے میں مصروف ہیں۔ مرکزی شاہراہوں، فٹ پاتھوں، پبلک ٹرانسپورٹ اسٹاپس اور میٹرو اسٹیشنوں کے داخلی راستوں کی صفائی کو ترجیح دی جا رہی ہے تاکہ شہری ٹرانسپورٹ، ایمبولینس اور دیگر ہنگامی سروسز کی آمد و رفت متاثر نہ ہو۔
موسمیاتی ماہرین کا کہنا ہے کہ تیز ہواؤں کے جھونکے اور مسلسل برفباری کے باعث بعض علاقوں میں برف کے بڑے تودے بن سکتے ہیں، جس سے سڑکوں پر پھسلن اور ٹریفک حادثات کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔ شہریوں کو غیر ضروری سفر سے گریز اور انتہائی احتیاط برتنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
انتظامیہ نے ہنگامی صورتِ حال سے نمٹنے کے لیے اضافی مشینری اور عملہ تعینات کر دیا ہے، جبکہ نشیبی اور بلند مقامات پر خصوصی نگرانی جاری ہے۔ اگر برفباری اسی شدت سے جاری رہی تو آئندہ 24 گھنٹوں میں ماسکو حالیہ دہائیوں کی سب سے بڑی برفباری کا مشاہدہ کر سکتا ہے۔ ماسکو میں آج منفی 8 درجہ سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا ہے.









