ماسکو (وائس آف رشیا) روسی وزارت خارجہ کی ترجمان ماریہ زخارووا نے الزام عائد کیا ہے کہ یوکرین اہم بین الاقوامی مذاکرات کے دوران دانستہ طور پر روسی شہریوں اور شہری تنصیبات کو نشانہ بنا رہا ہے۔
ماسکو میں جاری بیان میں ماریہ زخارووا نے کہا کہ کیئف حکومت روس کی پرامن آبادی کو مسلسل نشانہ بنا رہی ہے اور میزائلوں اور ڈرون حملوں میں اضافہ کر دیا گیا ہے۔ ان کے مطابق رہائشی عمارتوں، طبی مراکز اور عبادت گاہوں کو بھی حملوں کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ ہفتے بیلگورود کے علاقے میں ڈرون اور میزائل حملوں کے نتیجے میں شہری ہلاکتیں اور زخمی ہونے کے واقعات پیش آئے جبکہ متعدد شہری تنصیبات کو نقصان پہنچا۔ ترجمان کے مطابق یہ حملے 4 اور 5 فروری کو ابوظہبی میں روس، امریکا اور یوکرین کے درمیان ہونے والے سکیورٹی مذاکرات کے ساتھ ہی کیے گئے۔
زخارووا کا کہنا تھا کہ امن کے لیے سنجیدہ اور تعمیری رویہ اپنانے کے بجائے یوکرینی قیادت دوبارہ اسلحہ بندی اور تنازع کو طول دینے کی پالیسی پر گامزن ہے۔ انہوں نے اس طرزِ عمل کو ماضی میں منسک معاہدوں پر عمل درآمد کے حوالے سے کیئف اور اس کے مغربی اتحادیوں کے رویے سے تشبیہ دی، جنہیں دس سال قبل اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی توثیق حاصل تھی۔
روسی وزارت خارجہ کے مطابق موجودہ صورتحال خطے میں کشیدگی میں اضافے کا باعث بن رہی ہے جبکہ سفارتی سطح پر جاری مذاکرات کو متاثر کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔









