کوئٹہ (وائس آف رشیا) بلوچستان میں سیکیورٹی فورسز کی جوابی کارروائی میں 92 دہشت گرد مارے گئے، دہشت گردوں کے حملے میں 15 جوان اور 18 شہری شہید ہوئے۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق سیکیورٹی فورسز نے بلوچستان میں فتنہ الہندوستان کے متعدد حملے ناکام بنادیے گئے، دہشت گردوں نے کوئٹہ، مستونگ، نوشکی، دالبندین، خاران، گوادر، پسنی اور پنجگور میں حملے کیے۔
ترجمان پاک فوج کا کہنا ہے کہ دہشت گردوں کے حملے میں خواتین اور بچوں سمیت 18 بے گناہ شہری شہید ہوئے، کلیئرنس آپریشن کے دوران 15 بہادر جوان وطن پر قربان ہوگئے۔
آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ متاثرہ علاقوں میں سرچ اور کلیرئنس کارروائیاں مسلسل جاری ہیں، بزدلانہ حملوں کے منصوبہ سازوں، سہولت کاروں، کرداروں کو کٹہرے میں لایا جائے گا، حملے پاکستان سے باہر موجود دہشت گرد سرغناؤں کی ہدایت پر کیے گئے ہیں۔
ترجمان پاک فوج کے مطابق انٹیلیجنس رپورٹس نے تصدیق کی کہ باہر موجود سرغناؤں کی ہدایت پر حملے کیے گئے، باہر موجود سرغنا کارروائی کے دوران دہشت گردوں سے براہ راست رابطے میں تھے۔
اس سے قبل وزیر داخلہ محسن نقوی نے نیوز کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان میں دہشت گرد حملوں کی منصوبہ بندی بھارت نے کی، سیکیورٹی فورسز نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے ان حملوں کو پسپا کردیا۔









