امریکا نے ایران کی مذاکراتی مقام تبدیل کرنے کی درخواست مسترد کردی۔
خبرایجنسی کے مطابق امریکی حکام نےجمعہ کو ہونے والے مذاکرات کی جگہ اور فارمیٹ بدلنے سے انکار کیا ہے۔
ایران کی جانب سے مذاکراتی مقام تبدیل کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا تاہم امریکا اپنے پہلے سے طے شدہ مقام اور طریقہ کار پر قائم ہے۔
خبر ایجنسی رائٹرز کے مطابق ایران نے امریکا سے مذاکرات کیلئے مقام تبدیل کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ استنبول کے بجائے عمان میں مذاکرات ہونے چاہیے۔
ایران نے مذاکرات میں مشرق وسطیٰ کے دیگر ملکوں کی شمولیت پر بھی اعتراض کیا ہے۔ ایران امریکا سے صرف دوطرفہ باہمی مذاکرات کرنا چاہتا ہے۔
توقع ہے کہ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی اور وائٹ ہاؤس کے ایلچی اسٹیو وٹ کوف دونوں مذاکراتی ٹیموں کی قیادت کریں گے۔
عراقچی نے منگل کو اپنے عمانی اور ترک ہم منصبوں اور قطر کے وزیر اعظم سے کالز پر گفتگو کی ہے جب کہ وٹکوف نے اسرائیل میں وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو سے ملاقات کی۔
اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ ملاقات میں ایران پر توجہ مرکوز کی گئی، اور نیتن یاہو اسرائیل کی ڈیفنس فورسز کے چیف آف اسٹاف لیفٹیننٹ جنرل ایال ضمیر، موساد کے ڈائریکٹر ڈیوڈ بارنیا، اور ملٹری انٹیلی جنس کے سربراہ میجر جنرل شلومی بائنڈر بھی ملاقات میں شریک تھے۔










