ماسکو ( وائس آف رشیا) ممتاز روسی ماہر اور والدائی کلب کے بورڈ چیئرمین آندرے بسترِتسکی نے پیش گوئی کی ہے کہ یورپی یونین اپنے سخت گیر رویے اور روس مخالف سوچ کے تحت آئندہ سال بھی روس کے خلاف پابندیاں عائد کرنے کا سلسلہ جاری رکھے گا۔
انہوں نے کہا کہ پابندیوں کے مزید سخت ہونے کے امکانات خاصے زیادہ ہیں کیونکہ یورپی قیادت، بیوروکریسی اور کمیشن کے ادارے مسلسل پابندیاں بنانے کی مشین بن چکے ہیں۔ ان کے بقول، یورپی یونین اپنی پالیسی کو محض سزا نہیں بلکہ دباؤ اور رائے عامہ کی تشکیل کا آلہ سمجھتا ہے۔
آندرے نے امریکہ کی پالیسی کو نسبتاً زیادہ لچکدار قرار دیتے ہوئے کہا کہ واشنگٹن پابندیوں کو اثر انداز ہونے کے لیے استعمال کرتا ہے جبکہ یورپ انہیں ایک “کھلے دشمنی کے ہتھیار” کے طور پر دیکھتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ یورپ روس کو ایک برائی کے طور پر پیش کرتا ہے جس سے لڑنا ضروری ہے، جبکہ امریکہ سفارتی لہجے میں اسے ایک تنازع قرار دے کر ثالثی کی بات کرتا ہے۔ ان کے مطابق سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی کئی بار یہ مؤقف دہرایا کر چکے ہیں۔
روسی ماہر کا کہنا تھا کہ اس وقت یورپی یونین کے مؤقف میں کسی نرمی کے آثار نظر نہیں آ رہے، بلکہ برسلز کے اقدامات مزید جذباتی اور جارحانہ ہوتے جا رہے ہیں۔
انہوں نے تاہم یہ بھی کہا کہ مستقبل میں کسی غیر متوقع تبدیلی کو مکمل طور پر رد نہیں کیا جا سکتا۔









