ہیلنسکی/ماسکو (وائس آف رشیا) روس کے ساتھ کشیدگی اور یوکرین میں فوجی آپریشن کے تناظر میں فن لینڈ نے اینٹی پرسنل بارودی سرنگوں پر پابندی کے بین الاقوامی معاہدے سے باضابطہ طور پر علیحدگی اختیار کرلی ہے، جس سے یورپ میں سلامتی اور عسکری پالیسیوں پر نئی بحث چھڑ گئی ہے۔
فن لینڈ کی حکومت نے ہفتے کے روز اعلان کیا کہ وہ ’’اٹاوا کنونشن‘‘ سے رسمی طور پر نکل چکا ہے۔ یہ وہ معاہدہ ہے جو بارودی سرنگوں کی تیاری، استعمال اور ذخیرہ کیے جانے پر پابندی عائد کرتا ہے۔ فن لینڈ 2012 سے اس معاہدے کا حصہ تھا، اور دستبرداری کے لیے گزشتہ برس 10 جولائی کو چھ ماہ کا نوٹس جمع کرایا گیا تھا۔
فن لینڈ کے صدر الیگزینڈر سٹب اور وزیر دفاع آنٹی ہاکانن نے معاہدے سے علیحدگی کی وجہ ’’روسی خطرے‘‘ کو قرار دیتے ہوئے کہا کہ ملک کو ایک ’’جارحانہ اور توسیع پسند ریاست‘‘ کا سامنا ہے، اور قومی سلامتی اولین ترجیح ہے۔ روس نے ان الزامات کو بارہا ’’بے بنیاد‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ماسکو کی جانب سے نیٹو یا یورپی ممالک پر چڑھائی کا کوئی ارادہ نہیں۔
دوسری جانب اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریش نے اس پیش رفت پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ اینٹی پرسنل بارودی سرنگیں جنگ ختم ہونے کے بعد بھی شہریوں کے لیے دیرپا خطرہ رہتی ہیں، اس لیے عالمی برادری کو انسانی ہتھیاروں سے متعلق وعدوں کی پاسداری ضروری ہے۔
اٹاوا کنونشن 1997 میں منظور ہوا تھا، جس کے تحت فن لینڈ نے دس لاکھ سے زیادہ بارودی سرنگیں تباہ کی تھیں، تاہم تربیتی مقاصد کے لیے محدود تعداد محفوظ رکھی گئی تھی۔
روس اور فن لینڈ کے تعلقات یوکرین جنگ کے آغاز کے بعد واضح طور پر تناؤ کا شکار ہوئے۔ روس کے ساتھ تقریباً 1,340 کلومیٹر طویل سرحد رکھنے والا فن لینڈ 2023 میں نیٹو میں شامل ہوا، جس کے ساتھ ہی اس کی دہائیوں پر محیط غیر جانب دارانہ پالیسی بھی ختم ہوگئی۔
کریملن ترجمان دمتری پیسکوف کے مطابق روس کو پہلے فن لینڈ اور سویڈن سے ’’کسی قسم کا مسئلہ‘‘ نہیں تھا، اور دونوں ممالک روس کے ساتھ اقتصادی تعاون سے فائدہ اٹھاتے رہے۔ پیسکوف نے کہا کہ روس کبھی تعلقات خراب کرنے والا پہلا فریق نہیں رہا اور ہمیشہ باہمی مفاد کی بنیاد پر تعلقات کا خواہشمند رہا ہے۔









