روس اور بیلاروس کا امریکی جارحیت پر سخت مؤقف، صدر نکولس مدورو کی فوری رہائی کا مطالبہ

ماسکو (وائس آف رشیا) روس اور بیلاروس نے وینزویلا کے خلاف امریکہ کی مبینہ فوجی جارحیت کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ یہ مؤقف روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف اور بیلاروس کے وزیر خارجہ میخائل رِیژنکوف کے درمیان ٹیلیفونک گفتگو کے دوران سامنے آیا۔

دونوں ممالک کے وزرائے خارجہ نے وینزویلا کی صورتحال پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا اور اس بات پر زور دیا کہ امریکہ کی جانب سے ایک خودمختار ریاست کے خلاف کی جانے والی کارروائی ناقابل قبول ہے۔ گفتگو میں اس امر پر اتفاق کیا گیا کہ وینزویلا کے قانونی صدر نکولس مدورو اور ان کی اہلیہ کو فوری طور پر رہا کر کے دارالحکومت کاراکاس واپس بھیجا جائے اور صدر مدورو کو ان کے آئینی عہدے پر بحال کیا جائے۔

ماسکو اور منسک نے اس بات پر بھی زور دیا کہ وینزویلا کے بحران کا حل صرف اور صرف بین الاقوامی قانون کے مطابق مذاکرات اور مکالمے کے ذریعے ممکن ہے۔ دونوں فریقین نے صورتحال کے جلد از جلد پُرامن حل کے لیے سازگار حالات پیدا کرنے کی ضرورت پر بھی اتفاق کیا۔

روس اور بیلاروس نے واضح کیا کہ وہ خودمختار ریاستوں کے داخلی امور میں مداخلت کے خلاف ہیں اور عالمی سطح پر امن و استحکام کے لیے مشترکہ مؤقف اختیار کرتے رہیں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں