امریکا کی وینزویلا میں عارضی کامیابی تباہی میں بدل سکتی ہے: روسی سینیٹر الیکسی پشکوف

ماسکو(وائس آف رشیا) روسی سینیٹر الیکسی پشکوف نے خبردار کیا ہے کہ وینزویلا میں امریکا کی موجودہ عسکری کامیابی بظاہر فتح نظر آتی ہے، لیکن یہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے مستقبل میں ایک بڑی تباہی ثابت ہو سکتی ہے۔

الیکسی پشکوف کا کہنا تھا کہ صدر ٹرمپ کے اقدامات اور بیانات بلاشبہ مؤثر دکھائی دیتے ہیں، تاہم ان کی حقیقی افادیت ایک الگ سوال ہے۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں بھی امریکی صدور عراق، افغانستان اور لیبیا میں اپنی کامیابیوں پر خوشیاں مناتے رہے، مگر انجام کار یہ مہمات یا تو شکست میں بدل گئیں، جیسا کہ افغانستان میں ہوا، یا پھر طویل المدت تباہی کا باعث بنیں، جیسا کہ عراق اور لیبیا میں امریکا کئی برسوں تک دھنسا رہا۔

روسی سینیٹر کے مطابق وینزویلا پر حملہ اور صدر نکولس مادورو کی گرفتاری کے ذریعے امریکا نے بین الاقوامی قوانین اور تمام عالمی اصولوں کی کھلی خلاف ورزی کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا نے ایک بار پھر دنیا کو ہلا کر رکھ دیا ہے اور عالمی نظام کو انیسویں صدی کی وحشیانہ سامراجی سوچ کی طرف دھکیل دیا ہے۔

الیکسی پشکوف نے مزید کہا کہ امریکا نے ’’وائلڈ ویسٹ‘‘ کے تصور کو دوبارہ زندہ کر دیا ہے، جہاں وہ مغربی نصف کرے میں جو چاہے کرنے کا حق اپنے لیے محفوظ سمجھتا ہے۔ تاہم انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا یہ فتح بالآخر ایک بڑے سیاسی اور سفارتی بحران میں تبدیل نہیں ہو جائے گی؟

واضح رہے کہ 3 جنوری کو وینزویلا کے وزیر خارجہ ایوان گل پنٹو نے اعلان کیا تھا کہ امریکا نے دارالحکومت کراکس میں شہری اور فوجی اہداف پر حملے کیے، جنہیں انہوں نے کھلی فوجی جارحیت قرار دیا۔ ملک میں ہنگامی حالت نافذ کر دی گئی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خود اس بات کی تصدیق کی کہ امریکا نے وینزویلا پر بڑے پیمانے پر حملے کیے اور صدر نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ کو گرفتار کر کے ملک سے باہر منتقل کر دیا گیا۔ امریکی میڈیا کے مطابق مادورو اس وقت نیویارک کے قریب بروکلین کے ایک حراستی مرکز میں قید ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں