روس نے امریکہ کی وینزویلا میں صدر مادورو کی گرفتاری کو بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی قرار دیا
ماسکو(وائس آف رشیا) روسی سکیورٹی کونسل کے نائب چیئرمین دمتری میدویدیف نے امریکہ کی وینزویلا کے خلاف جارحیت، بشمول صدر نیکولس مادورو اور ان کی اہلیہ کی گرفتاری، کی سخت مذمت کی ہے۔ میڈویڈوف نے کہا کہ واشنگٹن کی یہ کارروائی بین الاقوامی قانون کی کھلی خلاف ورزی ہے اور یورپی ممالک کے دوہرے معیار آشکار ہو گئے ہیں۔
میدویدیف نے واضح کیا کہ امریکہ کا ماسکو پر کسی بھی کارروائی پر تنقید کرنے کا اب کوئی قانونی حق باقی نہیں رہا۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ نے ہمیشہ اپنی سیاسی اور اقتصادی مفادات کے تحفظ کو ترجیح دی ہے، اور وینزویلا کے تیل اور قدرتی وسائل اس کے اصلی مقصد ہیں۔
انہوں نے اقوام متحدہ کے غیر مؤثر میکانزم پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دنیا کو حقیقی اور مؤثر بین الاقوامی قانون کے طریقہ کار کی ضرورت ہے تاکہ اربوں انسانوں کو محفوظ اور باعزت زندگی فراہم کی جا سکے۔
میدویدیف نے خبردار کیا کہ امریکہ کی وینزویلا میں یہ کارروائی دنیا کے کسی بھی ملک کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے اور اس سے لاطینی امریکہ میں امریکہ کے خلاف نفرت بڑھے گی۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ واشنگٹن مستقبل میں وینزویلا ماڈل کو یوکرین میں بھی دہرا سکتا ہے۔
روس کی وزارت خارجہ نے بھی امریکی جارحیت کو سخت الفاظ میں مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اس اقدام سے مزید کشیدگی پیدا ہونے کا خدشہ ہے اور مسئلے کا حل صرف مذاکرات اور گفت و شنید سے ہی ممکن ہے۔









