ماسکو (وائس آف رشیا) روسی وزارتِ خارجہ کی ترجمان ماریہ زخارووا نے خبردار کیا ہے کہ کیف کی جانب سے کی جانے والی دہشت گردانہ کارروائیوں کا سخت جواب دیا جائے گا۔ روسی ٹی وی چینل روسیا-1 سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے یوکرینی حکومت کو ایک سفاک دہشت گرد نظام قرار دیا جو نازی سوچ پر مبنی ہے۔
ماریہ زخارووا کا کہنا تھا کہ یوکرین کے صدر ولودیمیر زیلنسکی حقائق کو جھٹلانے کی کوشش کر رہے ہیں اور روس پر جھوٹے الزامات عائد کر کے یہ تاثر دینا چاہتے ہیں کہ ایسا کوئی واقعہ پیش ہی نہیں آیا۔ ان کے مطابق زیلنسکی کا طرزِ عمل ظاہر کرتا ہے کہ وہ اب بھی اپنے اقدامات کو درست سمجھتے ہیں۔
روسی ترجمان نے کہا کہ زیلنسکی دراصل ان قوتوں کو پیغام دے رہے ہیں جو انہیں مالی معاونت فراہم کر رہی ہیں کہ وہ اسی راستے پر چلتے رہیں گے، اور اگر رنگے ہاتھوں پکڑے بھی گئے تو اپنے سرپرستوں کو بچانے کی کوشش کریں گے۔
ماریہ زخارووا نے مزید کہا کہ زیلنسکی اس سے قبل بھی مذاکرات کو سبوتاژ کر چکے ہیں کیونکہ انہیں امن نہیں بلکہ بدامنی اور خونریزی کے بدلے ادائیگی کی جاتی ہے۔ ان کے بقول، یوکرینی قیادت دہشت گردی اور انتہاپسندی کے ذریعے ہی اپنے مفادات حاصل کرنا چاہتی ہے۔
واضح رہے کہ روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے پیر کے روز بتایا تھا کہ 28 اور 29 دسمبر کی درمیانی شب یوکرین نے نووگوروڈ ریجن میں روسی صدر ولادیمیر پوتن کی سرکاری رہائش گاہ پر 91 ڈرونز کے ذریعے دہشت گردانہ حملہ کیا۔ روسی فضائی دفاعی نظام نے تمام ڈرونز کو تباہ کر دیا، جبکہ کسی جانی یا مالی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔
لاوروف کے مطابق یہ حملہ ایسے وقت میں کیا گیا جب روس اور امریکا کے درمیان یوکرین تنازع کے حل کے لیے انتہائی اہم مذاکرات جاری تھے، جو اس کارروائی کی سنگینی کو مزید واضح کرتا ہے۔









