ماسکو (وائس آف رشیا) روسی صدر ولادیمیر پوتن اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان ایک اور اہم ٹیلیفونک رابطہ ہوا ہے، جس میں پوتن کی سرکاری رہائش گاہ پر مبینہ یوکرینی حملے اور امریکا–یوکرین مذاکرات پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔ یہ بات روسی صدر کے معاون برائے بین الاقوامی امور یوری اوشاکوف نے بتائی۔
کریملن کے مطابق صدر پوتن نے امریکی صدر کو آگاہ کیا کہ مارالاگو میں مذاکرات کے فوراً بعد کیف حکومت نے نووگوروڈ ریجن میں واقع ان کی سرکاری رہائش گاہ پر دہشت گردانہ حملہ کیا۔ پوتن نے واضح کیا کہ ایسے اقدامات بغیر سخت جواب کے نہیں چھوڑے جائیں گے اور یوکرین سے متعلق روس کا مذاکراتی مؤقف ازسرِنو جائزہ لیا جائے گا۔
یوری اوشاکوف کے مطابق صدر ٹرمپ نے اس واقعے پر شدید حیرت اور غصے کا اظہار کیا اور کہا کہ وہ یوکرینی قیادت کے ایسے غیر ذمہ دارانہ اقدامات کا تصور بھی نہیں کر سکتے۔ امریکی صدر نے خبردار کیا کہ اس حملے کا اثر ولادیمیر زیلنسکی کے ساتھ امریکی روابط اور پالیسی پر پڑے گا۔ ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ خدا کا شکر ہے امریکا نے یوکرین کو ٹوماہاک میزائل فراہم نہیں کیے۔
ٹیلیفونک گفتگو میں فلوریڈا میں ہونے والے امریکا–یوکرین مذاکرات بھی زیر بحث آئے۔ امریکی فریق نے روس کو ان مذاکرات کی تفصیلات سے آگاہ کیا اور یوکرینی قیادت کو مشورہ دیا کہ وہ جنگ بندی کے عارضی مطالبات کے بجائے مکمل اور دیرپا امن معاہدے کی طرف سنجیدہ پیش رفت کرے۔
کریملن کا مؤقف ہے کہ یوکرین کی جانب سے پیش کی جانے والی تجاویز ذمہ داریوں سے بچنے کی کوشش معلوم ہوتی ہیں، جبکہ امریکا نے بھی اس بات پر زور دیا کہ کیف کو عملی اقدامات کرنا ہوں گے۔
اوشاکوف کے مطابق 2025 کے دوران روس اور امریکا کے درمیان اعلیٰ سطحی رابطوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ صدر پوتن نے امریکی نمائندوں سے 17 بار ملاقاتیں اور رابطے کیے، جن میں صدر ٹرمپ کے ساتھ 10 ٹیلیفونک گفتگوئیں اور خصوصی ایلچیوں سے متعدد ملاقاتیں شامل ہیں۔
کریملن کے معاون نے کہا کہ روسی–امریکی روابط کی یہ شدت خود بہت کچھ ظاہر کرتی ہے اور اس کے نتائج کا اندازہ بخوبی لگایا جا سکتا ہے۔









