صدر پوتن کی زیرِ صدارت گوس کونسل کا اجلاس، روسی معیشت کے لیے افرادی قوت کی تیاری پر زور

ماسکو(وائس آف رشیا) روسی صدر ولادیمیر پوتن کی صدارت میں کریملن میں ریاستی کونسل (گوس کونسل) کا اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں روسی معیشت کے لیے افرادی قوت کی تیاری، تعلیم، روزگار اور مصنوعی ذہانت کے اثرات پر تفصیلی غور کیا گیا۔

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے صدر پوتن نے شرکاء کو آنے والے نئے سال 2026 کی مبارکباد دی اور اعلان کیا کہ 2026 کو روس میں “قوموں کے اتحاد کا سال” قرار دیا گیا ہے، جس سے متعلق صدارتی فرمان پر دستخط کر دیے گئے ہیں۔ انہوں نے ریاستی کونسل کے قیام کے 25 برس مکمل ہونے پر بھی ادارے کی خدمات کو سراہا۔

صدر پوتن نے کہا کہ ملک میں روزگار کی شرح 97.8 فیصد تک پہنچ چکی ہے جبکہ بے روزگاری 2.2 فیصد کی تاریخی کم ترین سطح پر ہے۔ ان کے مطابق نوجوانوں میں بھی بے روزگاری مسلسل کم ہو رہی ہے، جو 2024 میں 3.8 فیصد رہی۔ 2022 کے بعد سے 26 لاکھ افراد کو معیشت میں شامل کیا گیا، تاہم اس کے باوجود روس کو ماہر انجینئرز اور تربیت یافتہ کارکنوں کی شدید کمی کا سامنا ہے۔

روسی صدر نے واضح کیا کہ آئندہ 10 سے 15 سال کا عرصہ مصنوعی ذہانت اور ٹیکنالوجی کی انقلابی تبدیلیوں کا ہو گا، جو نہ صرف روزگار کے مواقع بلکہ تعلیم، کیریئر اور پیشہ ورانہ ترقی کے پورے نظام کو بدل دے گا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ روایتی نوکریوں کا تصور تبدیل ہو رہا ہے اور ریاست کو اس تبدیلی کے لیے بروقت تیاری کرنا ہو گی۔

صدرپوتن نے زور دیا کہ افرادی قوت صرف اعداد و شمار نہیں بلکہ انسان ہیں، اور قومی ترقی کے مرکز میں انسان، خاندان اور معیارِ زندگی ہونا چاہیے۔ انہوں نے تعلیمی نظام میں بنیادی سوچ، تجزیاتی صلاحیت اور آزادانہ فکر کو برقرار رکھنے پر بھی زور دیا، تاکہ ایسا معاشرہ تشکیل نہ پائے جہاں صرف “بٹن دبانے والے افراد” ہوں۔

اجلاس میں بتایا گیا کہ حکومت 2036 تک تعلیمی ترقی کی حکمتِ عملی کو حتمی شکل دے رہی ہے، جس میں زندگی بھر سیکھنے، نئی مہارتوں اور مصنوعی ذہانت سے ہم آہنگ تعلیم کو مرکزی حیثیت حاصل ہو گی۔

ریاستی کونسل کی کمیشن برائے افرادی قوت کے چیئرمین ولادیسلاو شاپشا نے اجلاس کو بتایا کہ ملک میں قلیل، وسط اور طویل مدتی بنیادوں پر افرادی قوت کی منصوبہ بندی تیار کی گئی ہے، جس کا مقصد معیشت کی ضروریات کے مطابق تربیت یافتہ ماہرین کی فراہمی ہے۔ انہوں نے کہا کہ 2032 تک زیادہ تر طلب درمیانی فنی تعلیم یافتہ افراد کی ہو گی۔

اجلاس کے اختتام پر اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ تعلیم، صنعت اور ریاست کے درمیان قریبی تعاون کے بغیر روس کو درپیش نئے ٹیکنالوجیکل چیلنجز کا مقابلہ ممکن نہیں، اور افرادی قوت کی تیاری مستقبل کی کامیابی کی کنجی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں