کراچی (وائس آف رشیا) کراچی ایکسپو سینٹر میں 25 سے 27 نومبر 2025 تک تیسری انٹرنیشنل فوڈ اینڈ ایگریکلچر ایگزیبیشن ، فوڈ ایگ 2025 شاندار انداز میں منعقد ہوئی، جس کا افتتاح وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان نے کیا۔ یہ نمائش پاکستان کی طرف سے اب تک کی سب سے بڑی فوڈ اینڈ ایگریکلچر ٹریڈ ایکسپو قرار دی جا رہی ہے۔
ایونٹ کا تھیم “Harvesting Innovation, Cultivating Sustainability” رکھا گیا، جس کے تحت 350 سے زائد پاکستانی ایکسپورٹرز نے باسمتی چاول، ڈی ہائیڈریٹڈ آم، کینو، کھجوریں، ہمالین پنک سالٹ، پریمیئم سی فوڈ، حلال گوشت و ڈیری مصنوعات، مصالحہ جات اور ویلیو ایڈیڈ فوڈز کی نمائش کی۔
نمائش میں 80 سے زیادہ ممالک کے 800 سے زائد پری کوالیفائیڈ بین الاقوامی خریداروں نے شرکت کی — جو پاکستان کی تاریخ میں کسی ایک تجارتی ایونٹ کے لیے سب سے بڑی بائر ڈیلگیشن ہے۔
فوڈ ایگ 2025 کو خطے کا سب سے اہم فوڈ ٹریڈ پلیٹ فارم قرار دیا جا رہا ہے، جہاں ایک ارب ڈالر سے زائد کے ممکنہ کاروباری سودوں کی توقع ظاہر کی گئی ہے۔
خریداروں کے اس ریکارڈ وفد میں ایشیا، یورپ، مشرقِ وسطیٰ، جی سی سی، افریقہ کے بڑے درآمد کنندگان کے ساتھ ساتھ آسٹریلیا، کینیڈا، امریکہ اور روس کے اہم تاجروں نے بھی بھرپور شرکت کی۔
26 نومبر کو روس کی 10 سے زائد اہم کمپنیوں کے وفد نے ٹریڈ ڈیولپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان (TDAP) کے سیکریٹری شریار تاج اور چیف ایگزیکٹو فیض احمد سے اعلیٰ سطح کی ملاقات کی۔ ملاقات میں دوطرفہ تجارت سے متعلق متعدد اہم مسائل زیرِ بحث آئے اور کئی معاملات موقع پر ہی حل کر لیے گئے۔
نمائش کے موقع پر پاکستانی اور روسی کمپنیوں کے درمیان تین مفاہمتی یادداشتوں (MoUs) پر بھی دستخط کیے گئے، جس سے دونوں ممالک کے درمیان غذائی مصنوعات کی تجارت میں اہم پیش رفت کی توقع ہے۔

روس سے پاکستانی وفد میں ماسکوکی معروف کاروباری شخصیت محمد آصف ہاشمی بھی شریک تھے جو فوڈ کے کاروبارسے منسلک ہیں اور پاکستان سے چاول امپورٹ کرتے ہیں انہوں نے “وائس آف رشیا” سے گفتگوکرتے ہوئے کہا کہ فوڈ ایگ 2025 ایک کامیاب فوڈ ایگزیبشن ہے جس میںدنیا بھر سے کاروباری افراد نے حصہ لیا، انہوں نے کہا کہ روس ایک بہت بڑی مارکیٹ ہے پاکستان کو اس سے فائدہ حاصل کرنا چاہیئے. انہوں نے کہا کہ فوڈ ایگ 2025 کے کامیاب انعقاد پر حکومت پاکستان مبارکباد کی مستحق ہے.










