پیرس(وائس آف رشیا) فرانس کے صدر ایمینوئل میکرون نے جوہانسبرگ میں ہونے والی جی-20 سربراہی کانفرنس کے موقع پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے واضح کیا کہ وہ روس کی شمولیت کے ساتھ جی-8 فارمٹ کی بحالی کے مخالف ہیں۔
میکرون نے کہا کہ فی الحال وہ حالات موجود ہی نہیں جن میں روس کو دوبارہ جی-8 کا حصہ بنایا جا سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ فارمٹ تمام رکن ممالک کے اتفاقِ رائے کا متقاضی ہے، اور فرانس آئندہ برس جب جی-7 کی صدارت سنبھالے گا تو کسی پر اپنی رائے مسلط نہیں کرے گا۔
اس سے قبل امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل نے دعویٰ کیا تھا کہ اگر ماسکو یوکرین تنازع کے حل کے لیے امریکی امن منصوبہ قبول کر لے تو روس کو دوبارہ جی-8 میں دعوت دی جا سکتی ہے اور اس پر عائد پابندیاں بتدریج ختم کی جا سکتی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق مجوزہ معاہدے میں مصنوعی ذہانت، توانائی اور آرکٹک میں ریئر ارتھ میٹلز کی کان کنی کے شعبوں میں واشنگٹن اور ماسکو کے درمیان تعاون بھی شامل ہے۔
صورتحال پر ردعمل دیتے ہوئے کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے کہا کہ روس کو 28 نکاتی امریکی امن منصوبہ سرکاری طور پر موصول نہیں ہوا، اور نہ ہی واشنگٹن نے اس پر ماسکو کے ساتھ تفصیلی بات چیت کی ہے۔ روسی وزارتِ خارجہ کی ترجمان ماریہ زاخارووا نے بھی کہا کہ منصوبہ سرکاری طور پر ملنے کے بعد ہی اس پر ردعمل دیا جائے گا۔









