یورپی یونین کا روس کے خلاف 19واں پابندیوں کا پیکیج منظور

برسلز (وائس آف رشیا) یورپی یونین نے روس کے خلاف 19واں پابندیوں کا پیکیج باضابطہ طور پر منظور کر لیا ہے، جس میں روسی مائع قدرتی گیس (LNG) کی خریداری پر پابندی، 100 سے زائد تیل بردار جہازوں پر قدغن، روسی سفارت کاروں کی نقل و حرکت پر پابندیاں، اور روسی بینکوں و کمپنیوں کے خلاف سخت اقدامات شامل ہیں۔

تازہ پیکیج کی تفصیلات کے مطابق یورپی ممالک کے لیے روسی ایل این جی (مائع قدرتی گیس) کی خریداری پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے۔

یہ پابندی مرحلہ وار نافذ ہوگی — مختصر مدتی معاہدوں کے لیے 25 اپریل 2026ء سے، جبکہ طویل مدتی معاہدوں کے لیے 1 جنوری 2027ء سے لاگو ہوگی۔
یورپی یونین نے 117 روسی آئل ٹینکروں کو “شیڈو فلیٹ” کا حصہ قرار دیتے ہوئے ان پر پابندیاں عائد کر دی ہیں۔

ان جہازوں میں زیادہ تر وہ شامل ہیں جو روسی تیل کو غیر مستقیم راستوں سے فروخت کرتے تھے۔

پانچ روسی بینک — ایم ٹی ایس بینک، الفا بینک، زیِمسکی بینک، ابسولٹ بینک اور این پی او اِستینا — پر لین دین پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔

بیلاروس اور وسطی ایشیا کے بعض بینکوں سمیت آٹھ غیر ملکی مالیاتی اداروں کو بھی بلیک لسٹ کیا گیا ہے۔

یورپی یونین نے A7A5 کرپٹو کرنسی (جو روبل سے منسلک ہے) کو بھی اپنی پابندیوں کی فہرست میں شامل کیا ہے۔

اب روسی سفارت کار صرف اسی ملک میں سفر کر سکیں گے جہاں وہ متعین ہیں۔

کسی دوسرے یورپی ملک جانے کے لیے انہیں اطلاع دینے یا پیشگی اجازت حاصل کرنا ہوگی۔

63 نئے نام فہرست میں شامل کیے گئے ہیں، جن میں 21 افراد اور 42 ادارے شامل ہیں۔

روسی کمپنیوں ایورا ز پی ایل سی، پولیئس گولڈ مائنر، آفتوواز، سولرز گروپ اور دیگر پر پابندیاں لگائی گئی ہیں۔

اعلیٰ تعلیمی اداروں اور تحقیقی تنظیموں کے کئی روسی عہدیدار بھی فہرست میں شامل ہیں۔

یورپی یونین نے روس میں سیاحتی خدمات فراہم کرنے پر مکمل پابندی لگا دی ہے۔

ساتھ ہی صنعتی و دفاعی مصنوعات کی برآمدات پر بھی نئی پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔

یورپی یونین نے روس کے خصوصی معاشی زونز (Special Economic Zones) کے ساتھ کاروبار کرنے پر بھی پابندی لگا دی ہے۔

ان میں الابوگا، ٹیکنوپولس ماسکو، اسکلکوو، تاتارستان اور ولادی ووستوک کا فری پورٹ شامل ہیں۔

ماہرین کے مطابق، یورپی یونین کا یہ پیکیج روس کی معیشت پر دیرپا دباؤ ڈالنے کی کوشش ہے، تاہم روس نے ماضی میں ایسی متعدد پابندیوں کا اثر زائل کرنے کے اقدامات کیے ہیں۔

پاک فوج کا 19 افغان پوسٹوں پر قبضہ، بٹالین ہیڈکوارٹرز، مورچے تباہ

کابل (وائس آف رشیا) پاک افغان سرحد پر افغانستان کی بلا اشتعال جارحیت کا بھرپور جواب دیتے ہوئے پاکستان نے افغان بارڈر پر 19 پوسٹوں پر قبضہ کر لیا، منوجیا بٹالین ہیڈ کوارٹرز، غرنالی ہیڈکوارٹر، درانی کیمپ سمیت کئی مورچے ملیامیٹ کر دیئے، درجنوں طالبان اہلکار اور خوارج ہلاک ہو گئے، کئی افغان اہلکاروں نے ہتھیار ڈال دیئے۔

افغان فورسز نے انگور اڈا، باجوڑ، کرم، دیر، چترال، اور بارام چاہ کے مقامات پر بھی بِلا اشتعال فائرنگ کی اور خوارجی دہشت گردوں نے کئی مقامات پر سرحد پار کرنے کی بھی کوشش کی جسے پاک فوج نے ناکام بنا دیا۔

سکیورٹی ذرائع کے مطابق پاکستانی فورسز کی جانب سے افغانستان کی بلا اشتعال فائرنگ پر رات گئے سے بھرپور اور مؤثر جوابی حملہ کیا، اور افغانستان کی ان 19 پوسٹوں پر قبضہ کر لیا جہاں سے پاکستان پر حملے کیے جا رہے تھے۔

سوشل میڈیا پر جاری ہونے والی ویڈیوز میں قبضہ شدہ افغان پوسٹوں پر آگ اور تباہی کے مناظر دیکھے جا سکتے ہیں، بیشترافغان طالبان پوسٹیں خالی چھوڑ کر بھاگ چکےہیں، کئی پوسٹوں پر افغان اہلکار سرنڈر کر چکے ہیں جبکہ کئی مقامات پر فتنہ الخوارج دراندازی کرتے مارے گئے ہیں۔

سکیورٹی ذرائع کے مطابق پاکستان کی جانب سے شدید اور موثر جوابی کاروائی کے نتیجے میں چمن بارڈر کے علاقے میں افغان طالبان اور طالبان کی پوسٹوں پر چھپے خارجی پوسٹیں چھوڑ کر بھاگتے ہوئے مارے گئے۔

پاکستان فوج کی جوابی کاروائی میں باجوڑ کے سامنے افغان طالبان کی کرزئی پوسٹ مکمل تباہ کر دی گئی، ویڈیو میں افغان طالبان کی کرزئی پوسٹ کی انگیجمنٹ اور اسٹرائیک کے بعد مکمل تباہی دیکھی جا سکتی ہے۔

پاکستان فوج کی طرف سے برابچا کے علاقے میں افغان طالبان کی اُس بٹالین کو بھی نشانہ بنایا گیا، جہاں سے خارجیوں اور فتنہ الہندوستان کے دہشت گردوں کو پاکستان میں لانچ کیا جاتا تھا۔

سٹرائیک میں فتنہ الہندوستان اور خارجیوں کے بھاری جانی اور مالی نقصانات کی اطلاعات ہیں، کئی ٹینک اور بکتر بند گاڑیاں تباہ ہو گئیں۔

پاکستان نے طالبان فورسز کی ژوب سیکٹر میں اہم پوسٹ پر قبضہ کر کے پاکستان کا جھنڈا لہرا دیا، قبضہ کی جانے والی طالبان پوسٹ پر موجودافغان طالبان کی ہم وی بکتر بند کو بھی تباہ کر دیا گیا،

سکیورٹی ذرائع کے مطابق کُرم کے مخالف علاقے میں افغانستان سائیڈ پر چوٹی پر موجود ٹینک پوزیشن کو کامیابی سے نشانہ بنایا گیا۔

سکیورٹی ذرائع کے مطابق پاکستانی سکیورٹی فورسز کی طرف سے اب تک 27 اہداف کو نشانہ بنایا گیا یے، یہ خوارج کو پناہ دینے اور پھر پاکستان میں داخل کروانے کے لئے سہولت کاری بھی کرتے تھے۔

غرنالی ہیڈ کوارٹرز اور درانی کیمپ 2 مکمل تباہ

پاکستان نے طالبان فورسز کے درانی کیمپ 2 پر کامیاب سٹرائیک کی، طالبان کا درانی کیمپ 2 مکمل تباہ کر دیا، درانی کیمپ میں موجود پچاس سے زائد افغان فوجی اور خارجیوں کے ہلاک ہونے کی اطلاعات آئی ہیں۔

پاک فوج کے حملے میں ہلاک ہونے والے خارجیوں کی ویڈیو بھی سامنے آ گئی۔

سکیورٹی ذرائع کے مطابق پاکستان نے طالبان فورسز کے غزنالی ہیڈ کوارٹر کو نشانہ بنایا، طالبان کے غزنالی ہیڈ کوارٹر میں موجود درجنوں طالبان اور خارجیوں کے ہلاک ہونے کی اطلاعات ملی ہیں۔

فتنہ الخوارج کا مرکز کھرچر فورٹ تباہ

سکیورٹی ذرائع کے مطابق پاک فوج نے برامچا سیکٹر میں افغانی شہیدان پوسٹ تباہ کردی، خرلاچی سیکٹر میں افغانی پوسٹوں کو بھی نشانہ بنایا۔

خارجیوں اور افغان فورسز کے خلاف ایک اور بڑی کامیابی ملی ہے اور مؤثر فائر سے کھرچر فورٹ مکمل تباہ کردی گئی، کھرچر فورٹ فتنہ الخوارج کا مرکز تھا۔

سکیورٹی ذرائع کے مطابق افغانستان کی جارحیت کے جواب میں پاکستان نے داعش اور خارجیوں کو نشانہ بنانے کے لیے فضائی وسائل اور ڈرون کا بھی استعمال کیا، افغان پوسٹیں کور فائر دینے میں مکمل ناکام رہیں، خارجی تشکیلیں منتشر ہوگئیں۔

منوجیا بٹالین ہیڈکوارٹرز 1 اور 2 ملیامیٹ

افغانستان کا منوجبا کیمپ بٹالین ہیڈکوارٹر1 اور 2 مکمل ملیا میٹ ہوگئے، درجنوں طالبان سپاہی اور خوارجیوں کے ہلاک ہونے کی اطلاعات ملی ہیں۔

کرم میں مخالف علاقے میں افغان پوسٹ تباہ ہونے کی ویڈیو جاری کر دی گئی، پاکستان فوج کی جوابی کاروائی میں کُرم کے سامنے افغان طالبان کی شپولا ہلا پوسٹ مکمل تباہ ہو گئی، پوسٹ میں تباہی سے افغان طالبان کے بھاری نقصانات کی اطلاعات ملی ہیں۔

میلا اور ترکمانزئی کیمپس نیست و نابود

افغان ٹالی پوسٹ بھی تباہ ہو گئی، افغانی دوران میلا اور ترکمانزئی کیمپس بھی نیست و نابود کر دیے گئے، خرلاچی سیکٹرمیں بھی افغانی پوسٹوں کو نشانہ بنایا گیا، پاک فوج نےافغان جنڈوسر اور کنڑ پوسٹ بھی ملیا میٹ کردیں۔

پاک فوج کے مؤثرفائرسے لیوبند، قلعہ عبداللہ سیکٹرمیں افغانی پوسٹ مکمل تباہ ہو گئی، چاغی کے قریب افغان دہشت گردوں پر پاکستان فورسز نے کڑے وار کئے، کئی افغان دہشت گرد ہلاک اور چیک پوسٹیں اڑا دی گئیں۔

چترال کے قریب افغانستان کی پوسٹ تباہ ہو گئی، پاکستان کی جانب سےآرٹلری، ٹینکوں اور دیگر ہتھیاروں کا استعمال کیا گیا۔

بتایا گیا ہے کہ افغانستان کی طرف سے فائرنگ کا مقصد خوارج کو بارڈر پار کرانا بھی تھا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں